Shafeeq Profile picture
Testing ideas at @EnlightLab

May 28, 2019, 7 tweets

#TakkarMassacre Urdu Thread

1930مئی خیبر پختونخوا میں خدائی خدمتگار تحریک پورے عروج پر تھی۔ خان عبدالغفار خان جوباچا خان بابا کے نام سے مشہور تھے اس تحریک کے بانی تھے۔باچا خان انگریزوں کے خلاف جدّوجہد کر رہے تھے۔ ٹکّر جو ضلع مردان کا ایک تاریخی گاوں ہے بھی اس تحریک کا مرکز تھا۔

باچا خان بابا نے اس دوران انگریزوں پر دباوٴ ڈالنے کے لئے خدائی خدمتگار گرفتاریاں دینے کا حکم دیا تھا۔ اس سلسلے ٹکّر کے چند خدائی خدمتگاروں نے بھی گرفتاریاں دینی تھی جن میں ملک معصم خان ۔ملک خان بادشاہ۔ سالار شمروز خان شامل تھے۔

26مئی کو انگریز ای ایس پی مسٹر مورپی ان کی گرفتاری کے لئے ٹکر آئے۔ یہاں پر مورپی اور خدائی خدمتگاروں کے درمیان تکرار ہوئی اور نہوں نے مورپی کو کہا کہ یہ ہم کل خود گرفتاری کے لئے پیش کرینگے۔ 27مئی کو ان آزادی متوالوں کو ٹکر سے جلوس کی شکل میں مردان کے لئے روانہ ہوئے۔

گجر گھڑی جوکہ ٹکر سے 15کلو میڑ کے فاصلے پر ہے یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ مورپی نے جلوس کا راستہ روکا اور گھوڑے پر سوار ہو کرخدائی خدمتگاروں کو مارنا شروع کر دیا۔

اسی دوران سلطان پہلوان نامی ایک خدائی خدمتگار نے پستول نکال کر مورپی کو گولی ماری جس وہ گھوڑے سے گر پڑا اور گجر گھڑی کی خواتین جو گرمی کی وجہ سے لوگوں میں پانی تقسیم کر رہی تھی اُن میں ایک خاتون جو کہ سواتی ابئی کے نام سے مشہور تھی،

مورپی کے سر پر پانے سے بھرا ہو مٹکا دے ماراجس کی وجہ سے مورپی کا کام تمام ہوا۔ اگلے دن اٹھائیس مئی کو انگریزی فوج نے رات کی تاریکی میں ٹکر کا محاصرہ کر لیا اور لوگو ں پر فائرنگ شروع کر دی جس سے تقریبا ستّر آزادی پسند شہید اور ایک سو پچاس تک زخمی ہوئے۔

ان شہدا کی یا د میں ہر سال 28مئی کو جلسہ کیا جاتا ہے اور شہدا کی یادگار پر پھول چھڑائے جاتے ہیں۔

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling