Lutf Profile picture
Fez aficionado. Test Cricket, Breakfasts etc

Oct 31, 2019, 23 tweets

اگرچہ مولانا فضل الرحمن کی موجودہ تحریک کا نام آزادی مارچ رکھا گیا ہے لیکن اس مارچ کو سیاسی سے مذہبی رنگ چڑھنے میں چند لمحے ہی لگیں گے۔

حلف نامے میں ردوبدل کے نام پر جو دھرنا دیا گیا تھا اور اس سے قبل ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت آرمی کے سربراہ کے دینی رحجانات پر دبے لفظوں جو اشارے کنائے کئے جا رہے تھے انہی ختم نبوت کے نعروں کو بلند کرنے سے مولانا ہر گز نہیں چوکیں گے۔ #Azadi_March

مزے کی بات یہ ہے کہ ختم نبوت کا نعرہ ایسا ہمہ جہت نعرہ ہے جس کی لپیٹ میں سارے غیر مولوی بڑے آرام سے آ جاتےہیں۔ نواز شریف کے خلاف بھی یہ الزام تھا کہ آپ قادیانی نواز ہیں۔ ایک دفعہ ‘احمدی ہمارے بھائی ہیں‘ کہہ کر پھنس گئے تھے.

وہ تو بھلا ہو ان کے صحیح العقیدہ داماد کا، انہیوں نے پارلیمنٹ میں ایک دھواں دار تقریر کر کے اپنی پارٹی کو ختم نبوت کا صحیح محافظ قرار دیا۔

تقریر کس کے خلاف تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اصل اشارہ آرمی چیف باجوہ صاحب کی طرف تھا.
#Azadi_March_Updates

خیر حلف نامے پر اٹھائے گئے اس طوفان بدتمیزی سے جان چھوٹی۔ عمران خان صاحب نے بھی اس کو خوب اچھالا۔ گولڑہ شریف کے جلسے میں جا کر خم نبوت کی قسمیں اٹھائیں۔ احمدیوں کے خلاف بیان دئیے اور الیکشن میں کامیاب ہوگئے ( کرا دئیے گئے)۔

عاطف میاں کے تقرر پر پھر شور اٹھا۔ خان صاحب نے فورا فیصلہ واپس لیا اور ثابت کیا کہ ان کی حکومت ختم نبوت کے نعرے سے پچھاڑی جا سکتی ہے۔
#آزادی_مارچ

نواز لیگ میں ایک اور نام پرویز رشید صاحب کا ہے۔ یہ بھی پڑھے لکھے، منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ ان کو حال ہی میں مولانا کے ساتھ ایک میٹنگ میں براجمان دیکھا۔ پرویز رشید صاحب بھی کسی دور میں سکہ بند قادیانی کہلائے جاتے تھے۔ مولانا کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اب مسلمان ہیں

تاحال معلوم نہیں کہ خواجہ آصف ہنوز مشکوک العقیدہ ہیں یا ان کی قسموں کا اعتبار کر لیا گیا ہے۔

اب رہا سوال دیگرسیاستدانوں کا۔ چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی صاحب بھی نموندار ہوئے ہیں۔ مولانا کے ساتھ دوستانہ روابط ہیں۔ عرصہ قبل مولانا کو دل کا دورہ پڑا۔ پرویز الٰہی صاحب نے اپنے ایک دوست معالج سے مولانا کی اینجیوپلاسٹی کروائی۔ #آزادی_مارچ_سویلین_راج

یہ دوست بیرون ملک ایک ماہر کارڈیالوجسٹ ہیں۔ مولانا کو معلوم بعد میں ہوا کہ وہ بدبخت تو قادیانی تھا۔ وہ بھی اصلی والا۔ اس پر آپ متاسف ہوئے اور اپنے مذہبی جرائد میں اس بات کا تکرار سے تذکرہ کروایا کہ قادیانی ڈاکٹر سے علاج لا علمی میں ہوا۔ اللہ مولانا کو صحت و سلامتی سے رکھے۔

مولانا خود اس مذہبی تحریک کی ایک شاخ کے سر براہ ہیں جس نے پاکستان کے قیام میں کوئی حصہ نہیں لیا، لیکن ملک عزیز میں دیوبندی مسلک کی ترویج میں آپ کا اور آپ کے والد کا بڑا حصہ ہے

احمدیت ًمخالف تحاریک میں دیوبندی سیاسی اور مذہبی طبقات نے خوب بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا ہے۔ مفتی محمود کی قیادت اور مولانا عبدالحق اور یوسف بنوری وغیرہ کی راہنمائی میں دوسری آئین ترمیم کے بعد احمدی غیر مسلم قرار پائے۔ لیکن یاد رہے کہ اس آئینی قدم سے ‘ختم نبوت‘ کی حفاظت غرض نہ تھی

اگر ہوتی تو اس سارے عمل کی کاروائی کا ریکارڈ، جو اب دستیاب ہے، میں کہیں ختم نبوت کا مسئلہ تفصیل سے درج ہوتا۔ مولانا کے اکابر جو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احمدیوں کے خلاف تقاریر کرتے تھکتے نہ تھے، ان سوالوں کے جواب نہ لا سکے جو جماعت احمدیہ کی طرف سے ختم نبوت پر رکھے گئے تھے۔

مثلا، جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں دیوبند مسلک کے بانی مولانا قاسم نانوتوی کی مشہور تحریر تحذیر الناس کا اقتباس پیش کیا گیا تھا جس میں ختم نبوت کی وہ تشریح درج ہے جس کی بنیاد پر غیر دیوبندی مولوی مولانا اور ان کے ہم مسلک لوگوں کو ختم نبوت کا منکر کہتے ہیں۔

خیر یہ تو علمی بات ہے۔ اس کو آزادی مارچ میں کس نے پوچھنا ہے۔
یہ بھی کون پوچھے گا کہ دیوبند کے کئی نامی گرامی علماء نے احمدیوں کی تکفیر سے اجتناب کیا اور کسی موقع پر انہیں ختم نبوت کی حفاظت کی فکر نہ ہوئی؟ یہ وہ علماء ہیں جن کی نظروں کے سامنے احمدی تحریک نے برصغیر میں زور پکڑا تھا

ندوہ کے علماء بالکل خاموش ہی رہے اور صرف احراری کانگرسی طبقہ کے دیوبندی مولویوں نے سیاسی مقاصد کے لئے جماعت احمدیہ کے خلاف کھلم کھلا ایجی ٹیشن کی بنیاد ڈالی۔ #AzadiMarch_UpDates

یہی احراری طریق قیام پاکستان کے بعد حکومت وقت کو گرانے کے لئے ١٩٥٣ میں آزمایا گیا۔ اور پھر ١٩٧٤ میں، اور آج کل تو ایسی باقاعدگی سے اس تکنیک کو استعمال کیا جاتا ہے کہ ایسا گمان ہوتا ہے کہ ختم نبوت یعنی وہ مہر جو اللہ نے خود لگائی اس کو ہر وقت ٹوٹنے کا خطرہ لا حق ہے۔ #AzadiMarch

مولانا کو حلیفوں کی تلاش ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ مدرسے کے طلباء کے بل پر دھرنے یا ریلیاں چند دن بعد جیب پر بھاری پڑ جاتی ہیں۔ یہ تحریک انصاف یا عوامی تحریک تو نہیں کہ انہیں عسکری بجٹ سے قرض حسنہ ملے گا۔ ضروری ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی اور اے این پی ان کے ساتھ شانہ بشانہ چلیں۔

لیکن ان میں سے ہر پارٹی میں عقیدے کی کجی ان کو نظر آنی چاہیئے۔ وہی کجی جو ان کو عمران خان میں دکھائی دے رہی ہے انہیں شریف برادران میں کیوں نظر نہیں آتی؟ نواز شریف احمدیوں کے بھائی ہوے تو شہباز شریف کے بارے میں بھی سنا ہے کہ جہاں اعتبار کا افسر بھیجنا پڑتا، کوئی احمدی ہی بھیجتے.

پھر پیپلز پارٹی، جو خود کو دوسری آئینی ترمیم کا موجد مانتی ہے اس کی صفوں میں بھی آپ کے ساتھیوں کو مشکوک العقیدہ لوگ کثرت سے ملتے ہیں۔ ویسے بھی آپ مذہب کے ٹھیکے داروں کے نزدیک تو ہر لبرل قادیانی ہی ہے۔ #AzadiMarch_UpDates

مولانا کو اس مارچ سے جو کچھ درکار ہے شائد مل بھی جائے۔ حکومت میں حصہ نہ سہی، اگلی بار کچھ عزت افزائی کا وعدہ ہو یا دکھاوے کا کوئی معاہدہ ہو جس میں ان کو ختم نبوت کے معاملے پر یقین دھانی کروائی جائے. (وعدہ کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ یہ نورا کشتی جاری رہے گی)۔

وہ یقین دھانی جو ہر آنے والی حکومت کو ایک اسٹامپ پیپر پر چھپوا کر بوقت ضرورت شائع کر دینی چاہئے کہ ‘ حکومت ھٰذا ختم نبوت کی حفاظت میں ہر دم تیار ہے اور ان تمام مطالبات کو منظور کرتی ہے جن کے بعد ختم نبوت پر مسلط خطرہ چند ماہ کے لئے ٹل سکتا ہے'۔

مولانا فضل الرحمان کے والد کے بارے میں کچھ معلومات

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling