آٹھ سالہ زہرہ شاہ جسےتین ہزارماہانہ پرملزم حسن صدیقی نےاپنےگھر ملازمت پررکھاتھا۔31مئی کوپرندوں کےپنجرےکی صفائی کرتےہوئےزہرہ سےملزم حسن صدیقی کے4 مکاؤ طوطوں میں سےایک طوطا اڑگیا۔جس پربچی پربدترین تشددکیاگیاجوجان لیواثابت ہوا۔مزید افسوسناک انکشاف ہواکہ واقعےمیں ملوث میاں بیوی+1/5
کےموبائل فونزسےبچی پرتشدد کی وڈیوزبرآمدہوئیں،ملزمان بچی پرتشدد کےدوران وڈیوبھی بناتےتھےاوراسےپرندوں کےبڑےپنجرے میں بند کردیتےتھے۔
یہ پہلاواقعہ نہیں آئےروزگھروں میں کام کرنےوالےبچےایسےسفاک لوگوں کےہاتھوں نہ صرف جسمانی تشدد
کانشانہ بنتےہیں بلکہ جنسی تشددکی خبریں بھی ملتی ہیں+2/5
تشددکی بدولت اکثربچےجان ہارجاتے ہیں۔چند روزسوشل میڈیاپہ شوراٹھتاہےپھر بےحس خاموشی۔۔
کبھی غریب والدین کوڈرادھمکاکر کبھی چندنوٹ پکڑاکراورانکی غربت کا سوداکرکےمعاملہ دبادیاجاتاہے۔لہذا کسے فکر کہ
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھارزق خاک ہوا
لیکن ایسا کب تک ؟
+3/5
میری اپیل انسانی حقوق کی پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے ہے کہ
خدارا ان معصوم اور مظلوموں کی خاموش چیخوں کو سن لیجیے، چائلڈ لیبر کےحوالے سےاب مزید سخت قوانین بنانے کی اور ان پر عمل درامد کرانے کی ضرورت ہے۔آپ کی وزارت کوئی عام وزارت نہیں ہے۔
خدارا جاگئیے!
+4/5
اگر آپ کے لئیے اس وزارت کے تقاضے پورے کرنا مشکل ہیں تو کسی اور انسانیت کادرد رکھنے والے اور devoted انسان کےلئیے سیٹ چھوڑ دیں ۔تاکہ زہرہ جیسے معصوموں بچوں کی دادرسی کرنے والا کوئی تو ہو۔5/5
@ShireenMazari1
#JusticeForZohraShah
#JusticeForZahra
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
