کہیں آپ وہی تو نہیں ہیں جنہوں نے ۲۰۱۴ تا ۲۰۱۸ کے درمیان تقریبا” تمام شرعی گالیاں “نواز شریف” کو دے ڈالی تھیں ، اور اتنا گر گئے تھے کہ آپ نے ایک حلال معزز پیشے “لوہار” کی تذلیل کرتے ہوئے نواز شریف پر استعمال کیا ۔ دانش آپ عمرو عیاریاں نہ کریں
ڈاکٹر دانش کو انٹرویو دینے سے بہتر ہے کہ سرے سے انٹرویو دیا ہی نہ جائے
سیاستدانوں کو بھی اپنی عزت نفس کا پاس نہیں ہے وہ ایسے ایسے پروگراموں میں جاتے ہیں جن میں جانا ہی باعث شرم ہے اور چوہدری غلام حسین ، صابر شاکر ، عمران خان (اینکر) ، کامران شاہد ، ارشاد بھٹی و دیگر کئ صرف “سانڈے کے تیل “ کی مارکیٹنگ کرسکتے ہیں انکو صحافی کہنا صحافت کی توہین ہے
اسی ڈاکٹر دانش کے پروگرام میں محترم عمران خان صاحب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک قول منسوب کردیا بغیر کسی سند اور وہ قول ایسا تھا جو براہ راست قرآن و حدیث اور بنوہاشم کی خود اپنی تاریخ سے متصادم تھا ۔ اس پر دانش گنواروں کی طرح ہاں میں ہاں ملا رہے تھے بجائے ٹوکنے کے
ڈاکٹر دانش صاحب کیمطابق انہیں محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کا انٹرویو کرنے سے روک دیا گیا ۔ اور اس پابندی کا پس منظر کچھ یوں ہے
#KulbhushanJadhav
#کلبوشن_کے_یارو_جواب_دو
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
