بلاشبہ ڈاکٹر اسرار رح محض ایک شخص کا نہیں بلکہ نصف صدی کی جدوجہد کا نام ہے. درسِ قرآن ہو یا منتخب نصاب، درسِ حدیث ہو یا تاریخ کا علمی جائزہ، نظمِ قرآن ہو یا عظمتِ قرآن، خلافت کی حقیقیت ہو یا اس کی ضرورت، الغرض ہر موضوع پر ایک بہتا دریا تھا♥️👇🏻
جس کی روانی، آہنگ، دلیل اور اتار چڑھاؤ دل کی تاروں کو چھولیتا تھا. آپ انھیں سن کر متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے ہیں.
اور یہ بھی سچ ہے کہ ان کے تمام تر علمی رعب اور دبدبہ کی حقیقت صرف ایک لفظ میں پنہاں تھی، اور وہ ہے "دلیل". ان سے لاکھ اختلاف کے باوجود آپ👇🏻
ان سے محبت کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے.
میرے ذاتی خیال میں تدبر اور تذکرِ قرآن کے علاوہ ان کی سب سے بڑی خدمت پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے کو خلافت علی منہاج النبوۃ کے تصور کی طرف متوجہ کرنا ہے.
میں خود خلافت، اس کی ضرورت اور آج اس کے نفاز جیسے تصورات سے انھیں کے توسط سے آگاہ ہوا.👇🏻
مجھے یاد ہے کہ پہلی بار جب خلافت موومنٹ کا ایک بینر فیروز پور روڈ پر لگا دیکھا تھا تو یوں لگا تھا کہ جیسے کسی خلائی مخلوق اور ان کے رہن سہن کی بات ہورہی ہے.
یعنی آپ اندازہ کیجیے کہ کیسی بدنصیبی ہے کہ ہماری گم گشتہ میراث، تیرہ صدیوں کی عظیم سیاسی، فوجی، علمی👇🏻
اور تہذیبی تاریخ ہمارے زہنوں سے اس طرح محو کردی گئی تھی کہ پہلی دفعہ لفظ "خلافت" ہی بےحد اجنبی اجنبی سا لگا. اگرچہ ڈاکٹر صاحب کے اپنے ایک بیان کے مطابق انھوں نے خلافت علی منہاج النبوۃ کا تصور بیروت یا شاید فلسطین میں ہونے والی حزب التحریر کی کسی کانفرنس سے لیا تھا👇🏻
لیکن پھر پاکستان آکر اسے ایک واضح فکر کے طور پر خلافت موومنٹ کے نام سے شروع انھوں نے ہی کیا. جس نے پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے کو اس بھولے بسرے سبق کی طرف متوجہ کیا. اور آج یہ عالم ہے کہ الحمداللہ! خلافت علی منہاج النبوۃ کا تصور ہمارے ہاں ایک عمومی رائے کے طور پر موجود ہے.👇🏻
آن لائین لیکچرز کے ذریعے ان کا فیض، آج بھی جاری ہے. اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور انھیں جنت الفردوس کے اعلی ترین درجات پر متمکن کرے. بے شک وہ وہی دیدہ ور تھے جو روز روز جنم نہیں لیتے.
#عشق_محمد ﷺ ♥️
#قلمکار
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
