لاہور کا لال کھوہ اور اسکی برفی !
لاہور میں شاید ہی کوئی ہو جس نے اندرون موچی گیٹ کی لال کھوہ کی برفی نہ کھائی ہو یا سنی نہ ہو۔ مگر گنتی کے لوگ ہو گے جو یہ جانتے ہو نگے کہ لال کھوہ برفی کی وجہ سے مشہور ہوا کہ برفی لال کھوہ کی وجہ سے۔ اور ان دونوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے
1/7
یہ رشتہ کم و بیش ۵۰۰ سو سال پرانا ہے ۔ جی جناب! اس کنویں سے منسوب دوستی کی ایک لازوال داستان ہے۔ ایک مسلمان درویش حضرت میاں میر اور ایک سکھ گورو ارجن دیو کی دوستی کی داستان۔ گورو ارجن کے والد صاحب گورو رام داس نے ’’میٹھے تالاب‘‘ یعنی امرتسر کی بنیاد رکھی اور ارجن دیو نے
2/7
دربار صاحب امرتسر کی تعمیر اور بنیاد رکھنے کے لئے اپنے دوست میاں میر صاحب کو بلایا۔سکھ برادری جہاں بابا فرید کو اوتار مانتی ہے کہ ان کی شاعری گرنتھ صاحب میں شامل ہے وہاں میاں میر صاحب کو بھی اپنے بزرگوں میں شمار کرتی ہے کہ انہوں نے ان کے سب سے مقدس مقام کی پہلی اینٹ رکھی
3/7
شہنشہاہ جہانگیر کے حکم گورو ارجن کو گرفتار کر کے لال کھوہ کے قریب ایک ہندو چندو لال کے گھر کی ایک کوٹھڑی میں قید کر دیا گیا کہ وہ ایک باغی تھا اور حکم دیا گیا کہ بھوکا پیاسا رکھا جائے۔ حضرت میاں میر تقریباً روزانہ لال کھوہ آتے۔ گورو کو کنواں سے پانی کا پیالہ دیتے اور
4/7
لال کھوہ کے سامنے ایک چھابڑی والے سے برفی خرید کر گورو کی کوٹھڑی میں پھینک دیتے۔ باوجود ہزار منت سماجت کے گورو کو رہائی نہ ملی۔ جب بھوک پیاس سے گورو نہ مرے تو انکو حویلی کی کوٹھڑی سے نکال کر ایک پابہ زنجیر قیدی کے طور پر وہاں سے پیدل قلعہ لاہور کے عقوبت خانے میں لے جایا گیا۔
5/7
جہاں ان سے وہی سلوک کیا گیا جو سلطنت کے باغیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
یہ ہے اس برفی اور لال کھو ہ کی کہانی۔ کہا جاتا ہے اس کو لال رنگ بہت بعد میں دیا گیا جب عوام نے کنواں کے پانی کو باعثِ شفا مان لیا اور لوگ منت کے لال دھاگے کنواں کے ساتھ بیری کے درخت پر باندھنے لگے۔
6/7
بیری کا درخت بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ کنواں۔ کہ اس بیری کے درخت کو حضرت میاں میر نے دعا دی تھی کے سارے موسموں میں پھل دینا۔ گورو ارجن اسی بیری کے پھل پر کوٹھری میں زندہ رہے۔ 1975 میں حکومت نے اس کنواں کو بند کر دیا گیا۔ مگر برفی آج بھی بکتی ہے اور منوں کے حساب سے بکتی ہے
7/7
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
