1/ جناب جون بن حویؑ کا تعلق حبشہ سے تھا۔ آپ نے اسلام کی پہلی ہجرت کے بعد نجاشی کے دور میں اسلام قبول کیا اور بعد ازاں آپ رسول اللہؐ کی خدمت میں مدینہ آگئے۔ ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے پاس رہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے حضرت جون کو ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے
2/ سپرد کر دیا اور یہاں سے جون اور ابوذر غفاری رض کی بہترین دوستی کا آغاز ہوا۔
حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ گزرے وقت کی وجہ سے جون کی امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کے ساتھ قلبی وابستگی پہلے ہی قائم ہو چکی تھی، ابوذر غفاری کا ساتھ ملنے پر محمدؐ و آل محمد علیہم
3/ السلام سے وابستگی مزید پختہ ہوتی چلی گئی۔
جب امام حسین علیہ السلام بیعت طلبی کے بعد مدینہ چھوڑ رہے تھے اس وقت جون کی عمر 70 ( یا کچھ روایات کے مطابق 95) برس ہو چکی تھی اور کمر میں خم پڑ چکا تھا مگر پھر بھی امام حسین علیہ السلام کے حضور پیش ہوئے اور اُن کا ساتھ دینے کے لیے
4/ سفر پر نکل پڑے۔
یوم عاشور امام حسین علیہ السلام نے جون کی خدمات و عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کو جنگ کرنے سے رعایت دے دی اور واپس مدینہ چلے جانے کو کہا تو جناب جون نے کہا
"اے فرزند رسول! میں آسودگی کے دور میں آپؑ کی خدمت کرتا رہا ہوں اب سختی و شدت کے دور میں آپ کو تنہا چھوڑ
5/ کر چلا جاؤں؟
خدا کی قسم میری بو گندی اور بدبودار ہے، میرا حسب کمینہ ہے اور میرا رنگ سیاہ ہے تو آپؑ مجھ کو جنت سے دور رکھنا چاہتے ہیں، مجھے اس کا اہل نہیں سمجھتے تاکہ میری بدبو خوشبو میں بدل جائے اور میرا حسب شریف ہو جائے اور میرا چہرہ بھی سفید ہو جائے، نہیں خدا کی قسم آپؑ سے
6/ جدا نہ ہونگا جب تک یہ سیاہ خون آپؑ کے مطہر خون سے نہ مل جائے"
جون کو جنگ کرنے کی اجازت ملی تو اس ضعیف العمری میں، اِس صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 25 یزیدیوں کو جہنم واصل کیا۔ بالآخر جب آپ گھوڑے سے زمین پر آئے تو امام حسین علیہ السلام حضرت جون کے پاس پہنچے،
7/ جناب جون کا سر اپنے زانو پر رکھا اور جون کا چہرہ تھام کر یہ تاریخی دعا کی:
"پروردگار اس کا چہرہ منور کر دے اور ان کی بو کو خوشبو میں بدل دے، انہیں نیکوکاروں کے ساتھ محشور فرما اور انہیں محمدؐ وآل محمدؐ کے درمیان باحیثیت بنا دے۔"
امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت ہے کہ
8/ معرکہ کربلاء کے دس دن بعد جناب جون بن حوی علیہ السلام کی لاش کو کچھ افراد نے اس طرح پایا کہ ان کے جسم سے مشک و کستوری کی مہک آتی تھی۔
امام حسینؑ کی دعا سے جناب جون کے بدن سے مشک و عنبر کی خوشبو سے کربلا مہک اٹھا۔ 20 محرم الحرام کو آپ کو دفن کیا گیا۔
#پیرکامل
#قلمکار
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
