کسی بھی معاشرے کو پر امن بنانے کے لئے کچھ بنیادی راہنما اصول و ضوابط کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اور ان اصول و ضوابط کو اللہ سبحانہ تعالی سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے۔ اسی بات کے پیشِ نظر سورہ بنی اسرائیل میں اخلاقیات کے “دس بنیادی اصول” یا قوانین نازل ہوئے ہیں۔
👇👇👇
جو کہ آیت نمبر۲۲ سے آیت نمبر۳۹ تک محیط ہے۔ یہی بنیادی راہنما اصول قرآنِ کریم سے پہلے تورات اور دوسرے صحائف میں بھی انسانوں کی راہنمائی کے لئے نازل ہو چکے ہیں۔ تاکہ ایک معاشرہ صحیح معنوں میں اسلامی و فلاحی معاشرہ کہلا سکے۔
آئیے ان بنیادی اصولوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
۱- کسی بھی اسلامی معاشرے کی بنیاد شرک سے پاک معاشرہ ہونے پر ہے۔ اس لئے شرک سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔
۲- اللہ سبحانہ تعالی کی واحدنیت کے اقرار کے بعد ہمیں اپنے والدین سے حسنِ سلوک کا درس دیا گیا ہے۔ وہ والدین جنہوں نے بچپن سے جوانی تک کے سفر میں ہماری نگیداشت کے ساتھ ساتھ ہماری تعلیم و تربیت پر اپنی توانائیاں صرف کی ہوتی ہیں۔ بڑھاپے میں انکا خیال رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
یہاں تک حکم ہے کہ شرک کے علاوہ انکی ہر بات مونو۔ اگر وہ بوڑھے ہو جائیں، تو انکی کوئی بات ناگوار بھی گزرے تو بھی انہیں اف تک نہ کہو۔ اپنے دلوں کو انکی طرف سے ہمیشہ پاک صاف رکھو۔
۳- اپنے مال کو اپنا نہیں بلکہ اللہ سبحانہ تعالی کی عنائت سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
اسی سے اس مال کا سہی مصرف سمجھ میں آئے گا۔ اسی لئے ارشادِ ربانی ہے کہ اپنے مال سے ضرورت مند رشتہ داروں، ناداروں، غریبوں، مسکینوں اور مسافروں کی مدد کرو۔ اور سب سے اہم بات اس مال کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے، بےجا عیاشیوں میں مت اڑاؤ۔ کیونکہ ایسا کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔
ہاں اگر کسی وجہ سے مال میں کمی واقعہ ہو گئی ہے تو پھر بھی ان ضرورت مندوں کو اچھے طریقے سے منع کرو، ناکہ لٹھ لے کر انکے پیچھے پڑ جاؤ۔ ساتھ ہی اللہ کی رحمت سے امید لگائے رکھو کہ جب بھی اللہ سبحانہ تعالی اپنی رحمت سے نوازے گا، میں ان ضرورت مندوں کی ضرور حاجت پوری کروں گا، ناکہ ہاتھ
بالکل روک لوں گا۔ کیونکہ رزق کی تنگی و کشادگی فقط اللہ سبحانہ تعالی کے ہی اختیار میں ہے۔ نرم مزاجی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کل کو اللہ تعالی کسی غریب کو امیر اور آپکو غریب کر دے، تو آپ سائل بن کر اسکے پاس جائیں تو وہ بھی آپ سے اچھا سلوک کرے۔
۴- اولاد اللہ سبحانہ تعالی کی ایک خاص رحمت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ آجکل معاشرے میں جس طرح کے مختلف طریقے اپنائے جا رہے ہیں، خاص طور پر اگر بیٹی کے پیدا ہونے کا علم ہو جائے تو حمل ہی ضائع کروا دیا جاتا ہے۔ جو کہ سنگین جرم ہے۔
۵- آجکل کے دور میں بےحیائی بہت زیادہ عام ہو چکی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے اس برائی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اللہ سبحانہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ بےحیائی کرنا تو درکنار اسکے قریب بھی مت پھٹکو۔ یعنی کسی ایسے ماحول کے قریب بھی نہ جاؤ جہاں سے بےحیائی جیسے
مرض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔
۶- کسی بھی جان کو ناحق قتل کرنا ایک امن و امان والے معاشرے کا امن تہہ و بالا کرنے کے مترادف ہے۔ آجکل چھوٹی سی بات پر لوگ مرنے مارنے پر آ جاتے ہیں۔ چوری، ڈکیتی اور راہ زنی جیسی وارداتوں کے دوران اکثر لوگ قتل ہو جاتے ہیں۔ ذاتی دشمنیاں
نسل در نسل چلتی رہتی ہیں، جو کہ قتل و غارت گری کا باعث بنتی ہیں۔ اللہ سبحانہ تعالی نے سختی سے اس بات سے منع فرمایا ہے۔
۷- یتیم کا مال اسکی امانت ہے، یہاں تک کہ وہ اس عمر کو پہنچ جائے کہ اپنے مال کی اچھے طریقے سے حفاظت کر سکے۔ معاشرے کی خرابی کی ایک اہم وجہ ناحق مال کھانا بھی ہے۔
یتیموں اور دوسرے کمزور لوگوں کا مال ہتھیانا اور ہڑپ کر جانا بڑے فخر کی بات سمجھی جاتی ہے، جو کہ گناہِ کبیرہ ہے۔ اللہ سبحانہ تعالی نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ۸- ناپ تول میں کمی، دھوکہ، فراڈ، اچھی چیز دکھا کر بری دے دینا۔ ظاہری طور پر چیز خوشنما دکھانا، جبکہ اندر سے چیز غیر معیاری ہو۔
جھوٹ اور فریب سے مال بیچنا۔ یہ سب ایک گراوٹ شدہ معاشرے کی نشانیاں ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالی نے اس کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے۔ تاکہ ایک معاشرہ صحیح معنوں میں اسلامی و فلاحی معاشرہ کہلا سکے۔
۹- لوگوں کی باتوں کی ٹوہ میں رہنا، بےجا جاسوسی کرتے پھرنا۔ اپنی بینائی، سماعت
اور عقل و دانش کو برے اعمال اور دوسروں کے متعلق غلط استعمال سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ سبحانہ تعالی نے خبردار فرما دیا ہے کہ ان نعمتوں کے غلط استعمال کے متعلق روزِ محشر لازمی پوچھ گچھ ہو گی۔ اسلئے ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
۱۰- تکبر و غرور زمین پر اترا کر اور اکڑ کر چلنا، دوسروں کو اپنے مقابلے میں حقیر جاننا۔ یہ سب کچھ اللہ سبحانہ تعالی کی غیرت کو جوش میں لانے والی باتیں ہیں۔ کیونکہ تکبر صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالی کی ذات کے لئے ہے، بلکہ حضور نبی کریم ﷺ نے تکبر کو اللہ تعالی کی چادر قرار دیا ہے۔
اسلئے جو کوئی بھی تکبر کا مظاہرہ کرے گا وہ اللہ تعالی کی اس چادر کو کھینچے اور اللہ تعالی کی غیرتِ الوہئت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایسا کرنے سے یقیناً وہ اللہ سبحانہ تعالی کے غضب کا مستحق ٹھہرے گا۔ یہ دس انتہائی اہم اخلاقی اصول ہیں جن کے اوپر ایک
اسلامی و فلاحی معاشرے کی عمارت کھڑی ہے۔
معاشرے کی بہتری کے لئے جتنے بھی قوانین بننے چاہیں اور جنکا ذکر ہمیں قرآن و سنت سے مل سکتا ہے۔ ان کی بنیاد یہی “دس بنیادی اصول” ہیں۔
اگر ہمارے قوانین ان بنیادی اصولوں پر نہیں بنائے گئے، تو ہمیں جان لینا چاہئے کہ ان کے بغیر ایک معاشرہ اسلامی
اسلامی و فلاحی نہ بن سکتا ہے اور نہ ہی کہلا سکتا ہے۔
پاکستان “لا الہ الا اللہ” کے نام پر قائم ہوا ہے۔ اسلئے اسکے تمام معاشرتی قوانین انہی دس بنیادی اصولوں پر بننے چاہئیں۔ تاکہ پاکستان سہی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت بن سکے۔
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
