💎 پـیــــــKamilــــــر™ Profile picture
‏‏‏‏اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی - (سورةالذاريات:55) --- میرا بزنس اکاؤنٹ 👈 ‎‎‎@Pir_Kamil_ بھی فالو کریں (پیرکامل علی شاہ)

Sep 14, 2020, 23 tweets

1/ 25 محرم الحرام
شھادت امام زین العابدین علیہ السلام

آپ ع بتاریخ 15 جمادی الثانی 38 ھجری یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ پیدا ہوئے.

آپ کا اسم گرامی "علی"، کنیت ابومحمد، ابوالحسن اور ابوالقاسم تھی.
آپ کے القاب بےشمار تھے جن میں زین العابدین، سیدالساجدین، ذوالثفنات، اور سجاد

2/ و عابد زیادہ مشہور ہیں.

امام مالک کا کہنا ہے کہ آپ کو زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہا جاتا ہے.

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو "سجاد" اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ تقریبا ہر کارخیر پر سجدہ فرمایا کرتے تھے. جب آپ خدا کی کسی نعمت کا ذکر کرتے توسجدہ کرتے، جب کلام خدا

3/ کی آیت "سجدہ" پڑھتے تو سجدہ کرتے، جب دو شخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کے مواضع سجود پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑ جاتے تھے پھر انہیں کٹوانا پڑتا تھا.

ملا مبین تحریر فرماتے ہیں کہ آپ حسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے. آپ کے چہرہ مبارک

4/ پرجب کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا.
آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ راہ روی میں آپ کے ہاتھ زانو سے باہرنہیں جاتے تھے.
آپ عبادت کی اس منزل پر فائز تھے جس پرکوئی بھی فائز نہیں ہوا.
حضرت

5/ زین العابدین علیہ السلام نمازشب سفر وحضر دونوں میں پڑھا کرتے تھے. اورکبھی اسے قضا نہیں ہونے دیتے تھے

28 رجب 60 ھ کو آپ حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ پہنچے.
چار ماہ قیام کے بعد وہاں سے روانہ ہوکر 2 محرم الحرام کو وارد کربلا ہوئے.
وہاں

6/ پہنچتے ہی یا پہنچنے سے پہلے آپ علیل ہوگئے اور آپ کی علالت نے اتنی شدت اختیار کی کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت تک اس قابل نہ ہوسکے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت حاصل کرتے.
تاہم جب امام حسین علیہ السلام کی آخری آواز استغاثہ کان میں آئی، آپ اٹھ بیٹھے اورمیدان

7/ کار زار میں شدت مرض کے باوجود جا پہنچنے کی کوشش کی۔ آپ خیمہ سے بھی نکل آئے اور ایک چوب خیمہ لے کر میدان کا عزم کر دیا. ناگاہ امام حسین ع کی نظر آپ پر پڑ گئی اور پھر حکم امام سے بی بی زینب س نے سید سجاد (ع) کو میدان میں جانے سے روک لیا۔ امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ مرض اور

8/ علالت کی وجہ سے آپ درجہ شہادت پر فائز نہ ہوسکے.

شہادت امام حسین ع کے بعد جب خیموں میں آگ لگائی گئی تو آپ انہیں خیموں میں سے ایک خیمہ میں بدستور پڑے ہوئے تھے، ہماری ہزارجانیں قربان ہو جائیں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر کہ انہوں نے اہم فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سب سے

9/ پہلا فریضہ امام زین العابدین علیہ السلام کے تحفظ کا ادا فرمایا اور امام کو بچا لیا.

الغرض رات گزاری اورصبح نمودار ہوئی، دشمنوں نے امام زین العابدین کو اس طرح جھنجوڑا کہ آپ اپنی بیماری بھول گئے. آپ سے کہا گیا کہ ناقوں پر سب کو سوار کرو اور ابن زیاد کے دربار میں چلو، سب کو

10/ سوار کرنے کے بعد آل محمد کا ساربان پھوپھیوں، بہنوں اور تمام مخدرات کو لئے ہوئے داخل دربار ہوا.

حالت یہ تھی کہ عورتیں اور بچے رسیوں میں بندھے ہوئے اور امام لوہے میں جکڑے ہوئے دربارمیں پہنچ گئے. آپ چونکہ ناقہ کی برہنہ پشت پرسنبھل نہ سکتے تھے اس لیے آپ کے پیروں کوناقہ کی پشت

11/ سے باندھ دیا گیا تھا.

دربارکوفہ میں داخل ہونے کے بعد آپ اور باقی خانوادہ رسول ع قیدخانہ میں بند کر دئیے گئے، سات روز کے بعد آپ سب کو لئے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے اور 19 منزلیں طے کر کے تقریبا 36 یوم میں وہاں پہنچے.

حدود شام کا ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں

12/ ہتھکڑی، پیروں میں بیڑی اور گلے میں خاردار طوق آہنی پڑا ہوا تھا، لوگ آپ پر پتھر برسا رہے تھے اسی لیے آپ نے بعد واقعہ کربلا ایک سوال کے جواب میں "الشام الشام الشام" فرمایا تھا.

شام پہنچنے کے کئی گھنٹوں یا دنوں کے بعد آپ آل محمد کو لئے ہوۓ سرہائے شہداء سمیت داخل دربار ہوئے

13/ پھر قیدخانہ میں بند کر دیئے گئے تقریبا ایک سال قید کی مشقتیں جھیلیں.

قیدخانہ بھی ایسا تھا کہ جس کی سختی نے ان لوگوں کے چہروں کی کھالیں متغیر کر دی تھیں.

مدت قید کے بعد آپ سب کو لئے ہوئے 20 صفر 62 هجری کو وارد ہوئے آپ کے ہمراہ سرحسین بھی کر دیا گیا تھا، آپ نے اسے اپنے

14/ پدربزرگوار کے جسم مبارک سے ملحق کیا.

8 ربیع الاول 62 ھجری کو آپ امام حسین کا لٹا ہوا قافلہ لئے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، وہاں کے لوگوں نے آہ وزاری اور کمال رنج وغم سے آپ کا استقبال کیا. 15 شبانہ و روز نوحہ و ماتم ہوتا رہا.

اس عظیم واقعہ کا اثر یہ ہوا کہ زینب کے بال اس طرح

15/ سفید ہوگئے تھے کہ جاننے والے انہیں پہچان نہ سکے. بی بی رباب نے سایہ میں بیٹھنا چھوڑ دیا.
امام زین العابدین تاحیات گریہ فرماتے رہے.
اہل مدینہ یزید کی بیعت سے علیحدہ ہو کر باغی ہو گئے بالآخر واقعہ حرہ کی نوبت آ گئی.

10 محرم 61هجری کا واقعہ، جس میں اٹهارہ (18) بنی ہاشم اور

16/ بہتر (72) اصحاب و انصار شہید ہوئے اور اس واقعہ کربلا کے بعد چالیس سال تک امام سجاد (ع) کبھی تو اپنے مظلوم بابا حضرت امام حسین(ع) کی شہادت اور سانحہ کربلا کے مصائب پر گریہ کرتے، کبھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے اور کبھی اپنے کردار و عمل کے ذریعے

17/ لوگوں کو ہدایت کے راستے کی رہنمائی کرتے۔

حضرت امام سجاد(ع) کے طرز عمل سے لوگوں کو امام حسین(ع) اور اہل بیت رسول(ص) کی مظلومیت سے آگاہی مل رہی تھی، نسل در نسل اہل بیت کے حقوق کو غضب کرنے والوں کے اصل چہرے لوگوں پہ عیاں ہو رہے تھے، لوگوں کے دلوں پہ اہل بیت کا اقتدار مضبوط

18/ سے مضبوط تر ہو رہا تھا۔

اور یہی وہ بات تھی جس نے دشمنان اہلبیت کے لیے حضرت امام سجاد(ع) کے مقدس وجود کو خطرہ بنا دیا تھا اور وہ نبوت کی نیابت میں جلنے والی اس شمعِ امامت کو بجھانے کے درپے ہو گئے، اور پھر ایک کھانے میں زہر ملا کر حضرت امام سجاد(ع) کو کھلا دیا گیا۔

جب امام

19/ سجاد(ع) کے بدن میں زہر سرایت کر گیا اور آپ کو اپنی شہادت کا یقین ہو گیا تو آپ(ع) اپنے بیٹے امام محمد باقر(ع) کو اپنے پاس بلایا اور انھیں چند وصیتیں فرمائی اور پھر فرمایا:
اے میرے فرزند آگاہ ہو جاؤ، میں عنقریب تم سے جدا ہونے والا ہوں، اور موت قریب آ چکی ہے۔

امام محمد

20/ باقر(ع) فرماتے ہیں کہ میرے بابا نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا:
اے میرے فرزند! میں تمہیں وہ وصیتیں کرنا چاہتا ہوں جو میرے بابا نے مجھے اس وقت کی تھیں جب ان کی وفات کا وقت قریب آ گیا تھا
پھر امام نے کچھ وصیتیں فرمائی، جن میں یہ وصیت بھی تھی کہ:
اے بیٹا! خبردار کسی

21/ ایسے پر ظلم نہ کرنا جس کا خدا کے علاوہ کوئی مددگار نہ ہو۔

وصیتیں کرنے کے بعد تین مرتبہ امام سجاد(ع) پر غش طاری ہوا، پھر آنکھیں کھول کر امام سجاد(ع) نے یہ پڑھا:
اذا وقعت الواقعۃ
انا فتحنا لک فتحا مبینا
پھر فرمایا:
تمام تعریفیں اس معبود کے لیے ہیں کہ جس نے ہم سے کیا ہوا

22/ وعدہ سچ کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث قرار دیا، ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں، تو اچھے عمل کرنے والوں کا اجر کتنا ہی اچھا ہے۔

اس کی بعد امام سجاد(ع) کی روح پرواز کر گئی اور امام سجاد(ع) نے انتہائی مظلومیت کے عالم میں 25محرم الحرام 94 ہجری کو شہادت پائی۔

حوالہ جات:

23/ تاریخ طبری ج5، مقتل و اسیر، تاریخ کربلا، ناسخ تواریخ اور بہت سے آرٹیکلز

#پیرکامل
#قلمکار

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling