Roy Mukhtar Ahmad Profile picture
Cambridge teacher, blogger, journalist, Motivational speaker #Team_pak_Army, Content writer, respect for all mankind،💐علی امام منستو منم غلام علی

Sep 14, 2020, 12 tweets

"ریپ" کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے
اسلام سے پہلے کی تقریباً تمام بڑی طاقتیں اور افواج اس قبیح اور غیر انسانی فعل کی مرتکب رہی ہیں
اسلام نے مگر جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بہترین انسانی معیارات مقرر کئے وہیں جنگی قوانین میں بھی بے شمار مثبت تبدیلیاں🔻

کیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کے دوران بوڑھوں،بچوں،عورتوں،درختوں،کھڑی فصلوں اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا
بعد میں خلفائے راشدین نے اس کی مکمل پیروی کی
سینکڑوں جنگوں اور معرکوں میں کوئی ایک بھی انسانی المیہ جنم نہ لے سکا
اگر کچھ سپہ سالاروں سے کہیں غلطی ہوئی🔻

تو فوراً انکوائری کی گئی اور جو قصوروار پایا گیا اسے قرار واقعی سزا دی گئی
قوانین اتنے موثر تھے کہ دوران جنگ حضرت خالد بن ولید جیسے بے مثال سپہ سالار سے خدمات واپس لے لی گئیں
مسلمانوں کا یہ حسن سلوک عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے خوشگوار حیرت کا باعث بنا اور وہ جوق در 🔻

جوق حلقہ بگوش اسلام ہوتے گئے
اسلامی سنہری جنگی قوانین کی پامالی کا آغاز امیر شام حضرت معاویہ نے کیا جب انہوں نے اسلامی خلافت کے خلاف بغاوت کر دی۔ انہوں نے تقریباً ساٹھ جید صحابہ کو قتل کروایا اور مولا علی علیہ السلام کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
حضرت عثمان غنی رضی 🔻

اللہ عنہ کے قتل کے بعد یہ اسلامی سلطنت کو دوسرا بڑا دھچکا تھا
جنگ صفین میں بھی حضرت معاویہ کی شامی افواج نے اسلامی جنگی ضابطوں کی ذرا پرواہ نہ کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی کھلی نافرمانی کی
مولا علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہو تو🔻

اسلامی جنگی قوانین یکسر ختم کر دئیے گئے
معمولی اختلاف پر مخالفین کا قتل عام رواج ہو گیا
بہت سے صحابہ اور تابعین کو مساجد میں قتل کر دیا گیا
معاویہ کے بعد جب حکومت یزید کو منتقل ہوئی تو رہی سہی کسر بھی نکل گئی
یزید کا ایک سیاہ کارنامہ تو کربلا میں محض بہتر افراد کیلئے چوبیس ہزار🔻

سپاہیوں پر مشتمل فوج کو بھیجنا ہے
پھر امام عالی مقام علیہ الصلواۃ والسلام کی شہادت کے بعد عورتوں اور بچوں پر بدترین مظالم ڈھانا ہے
حتی کہ بیماری کی حالت میں سیدنا زین العابدین علیہ السلام کو بیڑیاں پہنا کر پیدل چلایا گیا
یزید کا دوسرا بڑا جرم مدینہ منورہ پہ حملہ ہے
جسے اسلامی🔻

تاریخ میں "واقعہ حرہ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
اس میں یزید پلید نے سفاکیت اور بربریت کے وہ مظاہرے کئے کہ آسمان کانپ اٹھا
یہی وہ بدبخت تھا جس نے اسلامی تاریخ میں پہلی بار ریپ کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا
اور مدینہ شریف کی مظلوم عورتوں کا اپنے شامی فوجیوں سے ریپ کروایا
🔻

امام مسلم، امام بخاری اور امام ترمذی اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ تین دن تک مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے گئے
مدنی عورتوں کو مسجد میں لا لا کر ان کا ریپ کیا گیا
یہاں تک کہ ایک ہزار کے قریب مدینہ منورہ کی خواتین حاملہ ہو گئیں
تین دن مسجد نبوی میں اذان اور نماز کا سلسلہ بند رہا🔻

یزید نے ہر وہ ظلم اہل مدینہ پہ ڈھایا جو وہ ڈھا سکتا تھا
یزید کے علاؤہ اسلامی تاریخ میں بہت کم ایسی بربریت دیکھنے کو ملی ہے
1971کی جنگ میں پاک فوج پر بھی ریپ کے الزامات لگے جو کہ درحقیقت مکتی باہنی کے لوگوں نے پاک فوج کی وردیاں پہن کر کئے
حالیہ عراق،لیبیا اور شام کی جنگوں میں🔻

داعش نے یزید کی سنت کو زندہ کیا اور ہزاروں لڑکیوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی شادیاں کیں
جو راضی نہ ہوئیں ان سے اجتماعی زیادتی کی گئی
ستر سالوں سے بھارت بھی مقبوضہ کشمیر میں ریپ کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے
جب تک خلافت راشدہ کا دور واپس نہیں آتا
یہ غیر انسانی وحشت 🔻

مختلف شکلوں میں یونہی جاری رہے گی

نوٹ: اس تحریر کا موضوع "ریپ بطور جنگی ہتھیار" ہے
تمام مواد مستند اور تاریخی کتب سے لیا گیا ہے
اسے فرقہ واریت کی عینک سے نہ پڑھا جائے
شکریہ !!

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling