یہ ایک مذہبی نہیں معاشرتی مسلہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر معاشرے کے اجتماعی رویے اور توازن کی بات ہے۔ ہم اسکو مذہبی طور پر اس لئے دیکھ لیتے ہیں کہ معاشرے کے بنیادی خدوخال اور میانہ روی کے جو اصول اسلام نے وضع کئے وہ بہترین ہیں سو اسی معیار کو سامنے رکھ کے بات کی وضاحت کر لیتے ہیں۔
مگر یہ بھی یاد رہیے ہم نے اسلام کو نظریہ حیات کے طور پر لیا ہی نہیں کبھی اپنایا ہی نہیں۔محض مولوی کی تقریر سے سمجھا ہے۔ آج دنیا میں ایک انچ پر اسلام دین کے طور پر نافذ ہی نہیں لہذا عمل کرنے کے اثرات کیا ہوں گے اس کا ادراک ہی نہیں۔ جو ہے وہ تاریخ کی کتابوں میں ہی ہے۔
آج دنیا میں شاید ہی کوئی معاشرہ ہوگا جو جذباتی توازن پر موجود ہو ورنہ سب کا حال ایک سا ہی ہے۔ وہاں جہاں مکمل شخصی آزادی ہے جیسے کہ مغرب اور وہاں جہاں اس کے خلاف مذاہمت پائی جاتی ہے۔ عصمت دری کی بیماری دونوں معاشروں میں موجود ہے اور تمام تر بدصورتیوں کے ساتھ موجود ہے۔
2008 میں آسٹریا میں ایک کیس سامنے آیا جہاں ایک باپ نے 24سال اپنی ہی بیٹی کو اپنے گھر کے ایک خفیہ تہہ خانے میں قید رکھا جہاں اس بیٹی سے اسکے سات بچے پیدا ہوئے۔
2008 میں ہی برطانیہ میں ایک باپ کے اپنی دو بیٹیوں سے 27 برس کے گناہ سامنے آئے۔ دونوں بیٹیوں انیس مرتبہ حاملہ ہویئں۔
گیارہ بچوں کی پیدائش بھی ہوئی۔
2020 میں ائرلینڈ میں ایک باپ کو سزا دی گئی کہ اس نے اپنی سات بیٹیوں سے طویل عرصے تک زنا کیا۔
یہ تاریخ انسانی کے بد ترین گناہوں کی داستانیں ہیں اور اس معاشرے سے متعلق ہیں جہاں شخصی آزادی عروج پر ہے۔ جہاں مذہب کا کچھ لینا دینا نہیں۔
جہاں ذہنی اور جذباتی سکون کی ہر آسائش موجود ہے۔ اس کے باوجود ہر روز زنا کے کیس سامنے آتے ہیں۔ پچھلے ہفتے انڈیا میں 84 سالہ خاتون کی 24 سالہ لڑکے نے عصمت دری کی۔ لاہور میں ایک ڈاکو گھر لوٹنے آتا ہے اور گھر کی خاتون کی عزت کی بھی تار تار کر جاتا ہے۔ کیوں؟
لوٹے ہوئے پیسوں سے ہر شے خریدی جا سکتی ہے پھر اس قبیہ جرم کا ارتکاب کیوں۔ دین پڑھانے والا انسان دین پڑھاتے پڑھاتے دوزخ کا رستہ کیوں اپنا لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا بنیادی خرابی کس اور شے میں پنہاں ہے۔ معاشرہ کے اجتماعی توازن کو درست کرنا ہوگا۔
آپ دین کو اپنا کے اس کو درست کرلیں یا مغرب کے کسی بھی ملک کا نظام اٹھا لائیں مگر معاشرے کے توازن کو درست کر لیں اور اس کے لئے تعیلم تربیت اور سزا تینوں کو استعمال کرنا ہوگا۔
یہ میری ایک رائے ہے اور اختلاف آپکا بنیادی حق ہے۔
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
