رانا علی Profile picture

Sep 16, 2020, 19 tweets

❞فــــــــــــــــــــــــــــرقــــــــــــــــــــــــــہ❝

برصغیر میں تین ہی فرقے ہیں اُتر پردیشوی الگ پٹھانوی الگ اور پنجابوی، یہ تین الگ الگ مسلک ہیں، پنجاب کا وہابی سرحد اور اترپردیش کے وہابی سے مختلف المزاج ہوگا، پنجاب کا دیوبندی، بریلوی، شیعہ بھی سرحد و اترپردیش کے

دیوبندی،بریلوی، شیعہ سے مختلف مزاج رکھتا ہوگا، عقائد بدلنے سے مزاج نہیں بدلتے عرب چودہ صدیاں قبل بھی لونڈیاں غلام رکھنا پسند کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں عقیدہ انکا کچھ نہیں بگاڑ سکا، پختون صدیوں پہلے بھی امرد پرست، سطحی العقل تھے آج بھی ویسے ہی ہیں عقیدہ انکا کچھ نہیں بگاڑا سکا،

اسی طرح اُترپردیش کا مزاج پنجابیوں کے مزاج سے بہت مختلف ہے

چلیں کچھ کھول کر بیان کردیتے ہیں بریلویت اور دیوبندیت کا مسئلہ یہ ہے کہ انکے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک صرف دو ایم بی کی ہے اب اتنی چھوٹی سپیس میں چیدہ چیدہ چیزیں ہی سیو ہوپاتی ہے اُترپردیش کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اس خطے نے

ہندوازم اور پھر اسلام میں کمرشل ازم کی بنیاد رکھی پنجاب میں مورتی پوجن بھی یوپی کا سا کبھی نا تھا سچ میں، پنجاب کا ہندوازم بھی یوپی سے بہت وکھرا تھا، اچھا کوئی نہیں سوچتا کہ مسلمان تو پنجاب ،کشمیر، بنگال، اور سندھ میں اکثریت میں تھے لیکن برصغیر کے سارے بڑے مولوی اُترپردیش میں

ہوئے جو کہ مسلمانوں کا اقلیتی علاقہ تھا، تو ہوا یوں کہ جو جو مولوی ہمیں دیوبندیت، بریلویت اور دہلوی وہابیت کی شکل میں نظر آتے ہیں یہ مغل دربار یا پھر مغلوں سے پہلے گزرے بادشاہوں کے وہ گورمنٹ ایمپلوئیز تھے جو بہتر روزگار کی تلاش میں دِلّی دربار کے نواحی شہروں میں آبسے ان میں سے

اکثر خود کو صحابہؓ کی اولاد کہتے تھے کوئی صدیقی، کوئی فاروقی، کوئی عثمانی، کوئی علوی غرض آپ کو دہلی کے اردگرد دائرے میں موجود صحابہؓ کی اولاد ہونے کے دعوے دار اس کثرت سے ملیں گے کہ پورے خطہ عرب میں بھی اتنے دعوے دار موجود نا ملیں (ان میں سے آدھے پاکستان آ چکے ہیں)

یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنا معاشی مستقبل بہتر بنانے کے لیے اپنی مادری زبان یا ایڈاپٹڈ زبانوں فارسی و عربی کو ترکی سپیکنگ مغلوں یا ان سے پہلے گزرے مسلمان بادشاہوں سے کیش کروایا ، اچھا اسے سادہ کرکے سمجھ لیں پاکستان بنا تو پنجابیوں پر قہر ٹوٹ پڑا پاکستان کیا بنا گویا پنجاب

اُجڑ گیا ، لیکن جب پنجاب اُجڑ چکا اور کچھ مہینوں میں امن و امان ہوچکا تو اُترپردیش سے انہی علم و فن کے معراج پر براجمان ہستیوں نے بہتر معاشی مستقبل کے لیے نئی سلطنت کے دارالحکومت کا رُکھ کیا اور سنہ اکہتر کے بہت بعد تک بھی یہ اُترپردیشی صحابہؓ کی اولادیں جاہل سندھیوں اور

جاہل پنجابیوں کو رموزِ دینِ اسلام اردو/ہندی میں سمجھانے کے لیے تشریف مبارک لاتے رہے،

تو یہ سیاق و سباق تھا، برطانوی قبضے کے بعد دہلی دربار کے نواحی شہروں میں موجود صحابہؓ کی یہ اولادیں شدید بے روزگار ہوگئیں وہ ایسے کہ پورے مغلیہ دور میں ایک بھی مدرسہ نا بنا تھا لیکن مغلیہ دور

ختم ہوتے ہی ان عظیم بے روزگار ہستیوں نے مدرسے بنانا شروع کردیے، گویا یہ مدرسے بھی اٹھارہویں صدی میں ایجاد ہونے والی بدعت ہیں خیر ان مدرسوں میں چھوٹے چھوٹے علماء کی فوجیں تیار ہونے لگیں جیسے ایک لونڈے نے حفظ کرلیا تو وہ بھی خود کو عالم سمجھنے لگا حالانکہ اس نے حقیقی معنوں میں حفظ

کیا ہی نہیں حفظ تو فقط عربی زبان لوگ کرسکتے ہیں کیونکہ عربی انکی زبان ہے ہندی لوگ حفظ نہیں کرتے کیونکہ انکو عربی کی سمجھ ہی نہیں آتی یہ تو تھرسٹی کرو کی طرح رٹا لگاتے ہیں جسکا مطلب انکو خود معلوم نہیں ہوتا خیر،

جسوقت یہ مدارس بنے یعنی اسلام کو کمرشلائز کیا گیا تو اجارہ داری کا مسئلہ بن گیا وہ اسطرح کہ اداروں کا آپس میں ٹکراؤ ہوجانا تو کوئی بڑی بات نہیں لیکن شخصیات کا ٹکراؤ بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے، دیوبند و بریلی کی دو شخصیات کے ٹکراؤ نے ایک ایسا کٹا کھولا جو آج تک کوئی نا باندھ سکا،

لڑائی یہ اترپردیش کے مولویوں کی تھی لیکن آج بھگت سارا پنجاب سندھ بلوچستان سرحد و کشمیر رہا ہے کیونکہ یہ جھگڑا مہاجروں کے کراچی آتے وقت ہی انکے ساتھ یہاں چلا آیا ، ان دونوں پارٹیوں نے سندھ، پنجاب، کشمیر میں پُھدّو ڈھونڈھنا شروع کردیے آدھے پُھدّو دیوبندیوں تو باقی آدھے بریلویوں

کے ساتھ ہوگئے،

مطلب یوپی کا مسلمان اتنا تعصب پسند، تفرقہ پرست، سطحی العقل، ہے کہ برصغیر میں چاہے ہندو مسلم کو تقسیم کرنا ہویا مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہو سب کا سہرا اُترپردیشیوں کے سر جاتا ہے، خیر مرزا غلام احمد قادیانی بھی دیکھا جائے تو اسی قبیل کا آدمی تھا کیونکہ اول تو وہ

پنجابی نا تھا بلکہ منگول النسل تھا یا کہہ لیں منگول نژاد پنجابی تھا پیدا یہاں ہوا لیکن اسکے اجداد منگول تھے، یہ سب بھی بہتر مستقبل کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آئے تھے، گویا یہ خطہ پنجاب صدیوں تک دنیا میں وہی حیثیت رکھتا تھا جو آجکل امریکہ انگلیڈ یا سعودی عرب کی ہے ہر ملک ہر خطے

سے بھوکے ماندے لوگ یہاں کا رُخ کرتے تھے اور پھر اپنے ملک واپس جانا بھی پسند نا کرتے تھے خاص کر افغانیوں کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ انہوں پچھلے ہزار سال میں اپنے اجاڑستان میں رہنے کی بجائے ہمیشہ پنجاب و برصغیر میں گُھس بیٹھنے کو ترجیح دی

بیچارے پانچ سال کی عظیم تاریخ رکھنے والے

کرتے بھی کیا انہیں ٹکر مارنے کے علاوہ کوئی کام بھی جو نہیں آتا، یہ ہیٹ سپیچ بالکل نہیں ہے یہ تو وہ حقائق ہیں جو عوام کے سامنے آنا چاہئے آخر میں آپ کہتے ہیں تو چار چار باتیں شیعوں اور وہابیوں کو بھی سُنا دیتا ہوں کیونکہ تحریر میں دو فرقوں کا ذکر پہلے کرچکا ہوں جس پر پاکستانی

طریقہ تفکر کے تحت لوگ یہی سوچیں گے کہ دیوبندی بریلوی کو تُن رہا ہے تو شیعہ یا وہابی ہی ہوگا ، خیر وہابیت کے بارے میں عرض ہے کہ وہابیت کی ہارڈ ڈسک صرف ایک ایم بی کی ہے اور شیعت کی ہارڈ ڈسک میں صرف ایک مقدس خاندان کی ہستیوں کے نام سیو ہیں باقی ساری خالی ہے۔۔

﹏﹏✎ عͣــلᷠــͣــᷢی

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling