اسلامی نظریاتی کونسل اور ڈی این اے :
” زنا بالجبر کے مقدمات میں صرف ڈی این اے ٹیسٹ ہی کی بناء پر حد (یعنی سنگساری کی سزا ) نافذ نہیں کی جا سکتی اسے صرف ضمنی شہادت کے طور پر قبول کیا جائے”
اسکی وجہ یہ ہے کہ ڈی این اے کی شہادت شناخت تو کرسکتی ہے لیکن 👇
یہ زنا بالرضا اور زنا بالجبر میں تفریق کرنے میں معاون نہیں ہے۔ اس سلسلے میں دیگر شہادتیں بھی درکار ہوتی ہیں۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی قانون دیگر کئی جرائم کے فیصلے میں پٌہلے سے موجود ہے مثلاً قتل کے کسی کیس میں فنگر پرنٹس یا پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مدد لی جاتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ👇
ان میڈیکل شہادتوں سے کسی مخصوص فعل کا وقوع تو ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کی حتمی نوعیت ، جیتے جاگتے انسانوں کی گواہی کے بغیر ممکن نہیں۔یہی صورتحال ڈی این اے کے بارے میں بھی ہے۔ ڈی این اے کو نظریاتی کونسل نے ضمنی شہادت قرار دیا ہے اس طرح 👇
اُنہوں نے اوقوعہ کے ثبوت میں اسے تائیدا ًقبول کرنے کی بات کی ہے۔ ڈی این اے سے فعل زنا کا ثبوت مل سکتا ہے ، اس سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ یہ فعل رضا مندی سے ہوا یا جبر واکراہ اور ظلم کی بنا پر ۔ اس سے جتنا فائدہ لیا جاسکتا تھا اتنا لینے کی بات کی ، 👇
یہ بات معقو ل اور واضح سمجھ آنے والی تھی 👇
سیکولر عناصر کا جھوٹ یہ ہے کہ ہیں کہ عورت اگر چار گواہ نا لاسکے تو ملزم کو کوئی سزا نہیں دی جائیگی اور نا سزا کے لیے ڈی این اے کی شہادت قبول کی جائیگی ۔یہ بالکل خلاف حقیقت بات ہے ۔ اگر گواہوں کی شرط پوری نا ہوسکے تو اس صورت میں مجرم کو آزاد نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ 👇
اسے تعزیری سزا دی جاتی ہےیہ حالات کے مطابق سخت سے سخت بھی ہوسکتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعزیری سزا بھی اس سزا سے سخت ہے جتنی یہ زانی کو دینے کا مطالبہ کرتے ہیں یا جتنی مغربی ممالک میں دی جاتی ہے 👇
علماء کے درمیان اجماع پایا جاتا ہے کہ اگر حد کی شرائط پوری ہوجائیں یا مجرم خود اعتراف کر لے تو زبردستی زنا کرنے والے پر حد نافذ ہوگی(شادی شدہ کو سنگسار، غیر شادی شدہ کیلئے اسی کوڑے )۔ اور اگر حد کی شرائط پورے نہیں ہوتی تو اس کو دوسری سزا(تعزیر) دی جائے گی 👇
( یعنی قاضی کو حق حاصل ہے کہ اس کو دوسری ایسے سزا دے جس سے سبق حاصل کر کے وہ خود اور دوسرےلوگ اس قسم کے جرم کی جرأت نہ کر سکے)۔👇
اگر زنا بالجبر کی سی صورت حال پیدا ہواگئی، تو مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے:
۱۔ زنا کی حد قائم کرنے کی شرائط پوری ہوجائے تو اس پر حد نافذ ہوگی۔
۲۔ زنا کی حد قائم کرنے کی شرائط پوری نہ ہوں۔ لیکن یہ ثابت ہوجائے کہ مجرم نے جبراًایسی کوئی صورت حال پیدا کردی تھی 👇
جس میں مجرم عورت کے ساتھ زیادتی کرنے کی پوزیشن میں تھا جیسے جبراً گھر میں گھس جانا یا عورت کو اغوا کرنا۔ ایسے میں مجرم کو تعزیری سزا دی جاسکتی ہے۔ اور موجودہ پاکستان کے قانون کے مطابق یہ سزا زیادہ سے زیادہ پچیس سال قید تک ہوسکتی ہے۔اس سزا کے لئے چار گواہوں کی کوئی شرط نہیں ہے۔👇
اس معاملے میں واقعاتی شہادتیں بھی کافی ہیں۔
۳۔ اگر مجرم نے جرم کا ارتکاب کرنے کی خاطر یا دھمکانے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہو تو ا سے محارب مان کر سخت سے سخت سزا دی جاسکتی ہے۔ محاربہ کی صورت میں سنگسار تک کی سزا دی جاسکتی ہے چاہے مجرم شادی شدہ نہ ہو۔ 👇
اس سزا کے لئے بھی چار گواہوں کی شرط نہیں ہے۔👇
شرعی سزاؤوں سے نالاں سیکولرزم کے علمبردار اور مغربی نظریات کے داعیوں کو آخر شکایت کیا ہے؟
1. ریپ کی سزا سخت ہونی چاہئے تو وہ موجود ہے۔
2. چار گواہوں کی شرط(سزاکیلئے) نہیں ہونی چاہئے تو یہ بھی طے ہے کہ ایسی کسی شرط کے پورے نہ ہونے کی صورت میں بھی سزا موجود ہے۔
👇
3. ہتھیاروں کا استعمال کرکے عوام کو اور خصوصاً عورتوں کو ہراساں کرنے کی سزا اور بھی سخت ہونی چاہئے، تولیجئے وہ بھی موجود ہے۔
4. حد ود کی سزائیں بہت ہی سخت ہیں اس لئےیہ سزائیں عمل میں لانی ہی نہیں چاہئے۔ تو جناب ان کے اپنے قول کے مطابق حدود کی سزا دینے کے لیے شرائط ایسے کڑے ہیں 👇
کہ وہ کبھی پورے نہیں ہوسکتے تو ان کی دانست میں حدود کی سزائیں عملاً کالعدم ہی ہیں۔
تو پھرشکایت ہے کیا؟
شاید شکایت یہ ہے کہ زنا بالرضا پر سزا کیوں ہے؟ حالانکہ ان کے مطابق سزا دینے کی شرائط پوری ہی نہیں ہوسکتی۔ تو شکایت یہ ہے کہ یہ سزا لکھی ہوئی بھی کیوں ہے؟
👇
یا پھر غصہ اس بات کا ہے کہ چار ثقہ گواہوں کے سامنے انہیں زنا کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
یا پھر یہ کہ اس سزا کے لکھے ہونے کی صورت میں ریاست زنا کو غلط تسلیم کرتی ہے اور انہیں یہ گوارا نہیں ہے؟
یا پھر ریاست کے معاملےمیں نام کو ہی سہی “اسلام”کے حوالے سے کچھ تو لکھا ہوا ہے اور 👇
انہیں یہ تسلیم نہیں ہےچاہے وہ لکھا ہونا ان کی اپنی شرائط کو بھی کافی حد تک پورا کرتا ہو۔
الغرض عورت کی مظلومیت کا نام لے کر جو کوشش ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں فواحش کی نشر و اشاعت پر کوئی روک نہ لگے یا پھر اسلام کے حوالے سے کوئی چیز پائی جانا انہیں قبول نہیں ہے۔
👇
استفادہ تحریر: ابوزید، سہ ماہی ایقاظ
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
