Muddassar Rashid Profile picture
I am only a muslim Pakistan my ❤ Belive in +ve poltical econmical discussions about Pakistan in lighter mood پولیٹیکل وابستگی کوی مسئلہ نہی قادیانی گریز کریں
Amjad 🛠🔌 Profile picture Sherlock Holmes Profile picture Faisal Rashid Profile picture imran patel Profile picture Ahsan Iqbal Profile picture 9 added to My Authors
27 Oct
قیام پاکستان سے قبل سندھ میں حروں کی مسلح فورس موجود تھی، یہ مجاہدینِ آزادی تھے جو برطانوی استعمار کے خلاف برسرپیکار تھے اور مسلح طور پر چھاپہ مار کاروائیاں کیا کرتے تھے۔ ان کی قیادت موجودہ پیر صاحب آف پگاڑا شریف کے والد محترم حضرت پیر سید صبغت اللہ شہیدؒ پیر آف پگاڑا 👇
کر رہے تھے۔ یہ مسلح اور چھاپہ مار تحریک تھی۔ حضرت پیر صبغت اللہ راشدیؒ کو اسی جرم میں باغی قرار دے کر ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا تھا اور انہیں پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا تھا۔ اسی لیے سندھ کی قومی تاریخ میں انہیں ’’آزادی کا ہیرو‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ 👇
لیکن جب پاکستان قائم ہوا تو حروں کے ان مسلح دستوں کو پاک فوج کا حصہ بنا کر سنبھال لیا گیا اور ان کی صلاحیتوں کے استعمال کا رخ متعین کر دیا گیا۔ اسی طرح اگر افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد پاکستان کے ان مجاہدین کے بارے میں، جنہوں نے جہاد افغانستان میں حصہ لیا تھا، 👇
Read 4 tweets
27 Oct
(البقرہ: ۲۵۶)

                ترجمہ: دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں،ہدایت اور گمراہی دونوں واضح ہیں،پس جو شخص باطل معبودوں کا انکار کرکے ایک خدا پر ایمان لے آیا،اس نے مضبوط چیز کو تھام لیاجوجدا ہونے والی نہیں ہے اور اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔
اس آیتِ کریمہ کے سببِ نزول کوجان لینا بھی دل چسپی سے خالی نہیں،مفسرین نے بیان کیا ہے کہ انصار کے بنی سالم بن عوف کے ایک شخص کے پاس دو بیٹے تھے،جو بعثتِ نبوی سے قبل ہی نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے،ایک زمانے کے بعدوہ دونوں نصرانیوں کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ تجارت کی غرض سے آئے،👇
ان کے والد(جو مسلمان ہوچکے تھے)نے جب انھیں دیکھا،تو ان کے پیچھے پڑ گئے اور کہنے لگے کہ جب تک تم دونوں مسلمان نہیں ہوجاتے، میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں،یہاں تک کہ یہ معاملہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلمتک پہنچ گیا، انصاری صحابینے آپ سے کہا کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم میرے 👇
Read 5 tweets
26 Oct
اسلامی ملک میں غیر مسلم کو عہدہ دینے کا حکم:

 شریعت مطہرہ  کی تعلیمات کے مطابق کسی بھی کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہیں ہے، اور کافروں کے ساتھ میل، محبت اور قریبی تعلقات قائم کرنے کی ممانعت قرآن وحدیث میں وارد ہے، اور انہیں اپنا معتمد یا مشیر   بنانے سے روکا گیا ہے، لہذا 👇
قرآن وحدیث کی روشنی میں مفسرین، محدثین اور فقہاء  نے صراحت کی ہے کہ مسلمان حکومت میں کسی بھی کافر کو  خواہ وہ ذمی ہی کیوں نہ ہو کسی قسم کا  عمومی سرکاری عہدہ دینا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ سرکاری عہدہ دینے کا مطلب ان کو مسلمانوں پر ولایت دینا ہے  جو ناجائز ہے، اسی طرح 👇
عہدہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اپنا امین، معتمد اور خاص بنایا گیا جس سے قرآن کریم میں صراحتاً منع کیا گیا ہے، اور سرکاری عہدہ دینے میں حکومتی اور مملکتِ اسلامیہ کے معاملات میں ان سے بسا اوقات مشورہ بھی کیا جائے گا اور وہ قومی وملکی رازوں سے بھی واقف ہوں گے 👇
Read 27 tweets
26 Oct
وال

"دارالکفر " میں رہائش اختیار کرنا کیساہے ؟

جواب

غیرمسلم  ممالک میں رہائش اور وہاں کی شہریت اختیار کرنے  کا مدار زمانہ و حالات اور رہائش  رکھنے  والے کی اغراض و مقاصد پر ہے، ان کے مختلف ہونے  سے حکم مختلف ہوجاتا ہے ۔جس کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:
👇
۱۔اپنے ملک کے ابتر حالات اور ظلم و ستم میں اگر کسی شخص کی جان و مال کی حفاظت مشکل ہوجائے اور ان مشکلات کی بنا پر وہ دارالکفر میں رہائش اختیار کرتا ہے اور وہاں پر بذات خود اپنے دین پر کاربند رہ سکتا ہے اور وہاں کے منکرات و فواحش سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے تو اس کے لیے 👇
وہاں رہائش اختیار کرنے کی گنجائش ہے ۔جیساکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اپنے وطن میں مذہب کی بنیادپرانتقامی کارروائیوں اور حالات سے تنگ آکر جان کے تحفظ کے لیے اپنے حق میں نرم گوشہ رکھنے والے غیر مسلم ملک( حبشہ)میں پناہ لی تھی۔
👇
Read 13 tweets
26 Oct
افتاء اور تبلیغ دونوں کا تعلق دین اور  شریعتِ محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، البتہ مبلغ کا کام اشاعتِ دین ہے جب کہ مفتی کی ذمہ داری  امت کو شرعی مسائل سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ دونوں میں تضاد نہیں ہے، یعنی ایک شخص مفتی اور مبلغ بھی ہوسکتاہے۔ البتہ 👇
مبلغ کے لیے اتنا درست علم ضروری ہے کہ وہ دوسری کی صحیح راہ نمائی کرسکے۔

جو شخص تبلیغ و دعوت کا ارادہ رکھتا ہو  اس کا چند صفات سے آراستہ ہونا ضروری ہے کہ مبلغ کی تبلیغ کے مؤثر ہونے کا تعلق ان صفات سے ہے  کیوں کہ ان صفات کا ذکر خود باری تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے
👇
لہذا جو شخص تبلیغ کرتا ہو اس کو چاہیے کہ مخلوق سے بے نیازی اختیار کرے اور مخلوق کی طرف سے کسی قسم  کے بدلے کی امید نہ رکھے اور استغنا کی صفت اپنائے۔

انبیاء علَیہِم الصّلاۃُ والسَّلامُ کے اصولِ دعوت اور بنیادی صفات میں بندگانِ الہی پر رحمت وشفقت اور خیر خواہی کاجذبہ ہے ؛ 👇
Read 6 tweets
26 Oct
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"فان اللہ ھو مولاہ وجبریل وصالح المومنین"،
یعنی بے شک اللہ تعالیٰ اورجبریل اور نیک اہل ایمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولیٰ ہیں۔
یہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہل ایمان(یعنی نیکوکاروں)کے لیے بھی یہ 👇
لفظ استعمال فرمایاہے۔ جس سے معلوم ہواکہ جبریل امین اور تمام نیکو کار اہل ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولیٰ ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہ ایزدی سے عطاہواہے۔ اس سے آگے چلیں تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا: 👇
"یا زید انت مولانا"۔ معلوم ہوا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولیٰ ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایاکہ:"من کنت مولاہ فعلی مولاہ"۔👇
Read 9 tweets
25 Oct
فرانس دنیا میں سیکولر جمہوریت کا سب سے پہلا علمبردار ہے اور ۱۷۹۰ء کے انقلاب فرانس سے ہی مذہب اور ریاست میں قطع تعلقی کے عملی دور کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے اختتام پر فرانس میں آنے والے اس انقلاب کے بعد سے یہ طے کر لیا گیا تھا کہ آئندہ ریاستی معاملات اور 👇
سوسائٹی کے اجتماعی امور سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہو گا اور کسی پبلک مقام پر کسی مذہبی علامت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انقلاب فرانس کے بعد سے مغربی دنیا دنیا بھر میں مسلمانوں کو بھی اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ مذہب کے اجتماعی اور 👇
معاشرتی کردار سے دستبردار ہو جائیں اور مغرب کی طرح مذہب کو ذاتی اور انفرادی سطح تک محدود کر دیں۔ لیکن مسلمان نہ صرف اپنے ملکوں میں اسے قبول کرنے سے انکاری ہیں بلکہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمان کمیونٹی بھی مذہب کے معاشرتی کردار اور اجتماعی پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں لگی ہوئی ہے 👇
Read 5 tweets
25 Oct
مولانا سعد نے اپنے بیان میں معاملات اور حلال و حرام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور فرمایا کہ حلال و حرام کا شعور بیدار کرنا اور ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنے کی ترغیب دینا بھی دعوت و تبلیغ کے مقاصد میں سے ہے اور ایک مسلمان کے لیے انتہائی ضروری امور میں شامل ہے۔

انہوں نے فرمایا کہ 👇
ہماری سب سے زیادہ محنت اس بات پر ہونی چاہیے کہ مسلمانوں کو مسجد کے ماحول میں لایا جائے کیونکہ ایمان و اعمال کی تعلیم و تربیت ایمان کے ماحول میں ہی ہو سکتی ہے اور اس کی جگہ مسجد ہے۔ مسجد سے باہر کیے جانے والے اعمال میں وہ برکت نہیں ہوتی جو مسجد میں ہوتی ہے۔ اس لیے 👇
ہم اگر لوگوں کو ایمان کی طرف لانا چاہتے ہیں تو اس کی محنت کی صحیح جگہ مسجد ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق تو اللہ تعالیٰ کے گھر میں آنے سے ہی قائم ہوگا اور یہی دعوت و تبلیغ کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ باہمی حقوق کی ادائیگی کا ماحول پیدا کرنا بھی 👇
Read 4 tweets
24 Oct
سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ اور گستاح رسول ﷺ

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنا خیمہ لڑائی کے میدان میں نصب کرایا۔جب خیمہ نصب ہوگیا تو حکم دیا کہ قیدی سامنے حاضرکیے جائیں۔یروشلم کا بادشاہ گائی اور اس کا بھائی ریجی تالڈ دونوں اندر لائے گئے۔سلطان نے بادشاہ یرو شلم کو 👇
اپنے پہلومیں بٹھایا اور اسے پیاسا دیکھ کر برف میں سرد کیے ہوئے پانی کا کٹورا دیا
لیکن بادشاہ گائی نے ا گئیے
ریجی نالڈ کو دیا
سلطان یہ دیکھ کر ناخوش ہوا اور ترجمان سے کہا کہ بادشاہ گائی نے دیا ہے۔

روٹی اور نمک جسے دیتے ہیں وہ محفوظ سمجھا جاتا ہے مگر 👇
یہ آدمی ریجی نالڈ اس قسم کی حفاظت میں بھی میرے انتقام سے نہیں بچ سکتا۔سلطان اتنا کہہ کر کھڑا ہوا اور ریجی نالڈ کے سامنے آیا۔ریجی نالڈ جب سے خیمہ میں داخل ہوا تھا برابر کھڑا رہا تھا۔سلطان نے اس سے کہا کہ سن میں نے تجھے قتل کرنے کی قسم دو مرتبہ کھائی تھی۔ ایک مرتبہ تو اس وقت 👇
Read 7 tweets
24 Oct
اصول یہ ہے کہ وہ شخصیت جس کی شان میں گستاخی کی جاوے اسے یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے گستاخ کی خود معاف کر دے لیکن بطور امتی ناموس رسالت کی حفاظت ہمارے ذمے ہے ۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’الصارم المسلول ‘‘میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ 👇
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ اختیار حاصل تھا کہ اپنی زندگی میں سب وشتم کرنے والوں سے درگزر کریں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس جرم کو معاف کرے”۔آپ ؐ نے کسی امتی کو یہ حق تفویض نہیں فرمایاتھا کہ جو میری توہین کرے تو اسے مناسب سمجھو تو 👇
معاف کر دیا کرو۔ کیا خلفائے راشدین یا بعد میں خیر القرون میں کوئی ایک بھی ایسی مثال ملتی ہے کہ اسلامی ریاست کے کسی بھی شخص نے اللہ کے رسول کی توہین کی ہو تو اسے معاف کردیا گیا ہو؟الله کے رسول کے دور میں اصحاب رسول رض آپ کے ظاہری حکم کے پابند تھے اسلئے 👇
Read 8 tweets
24 Oct
یہاں پراگر کوئی مسلمان کسی ملحد سے مقابلہ کرتا ہے تو پھر ایسے مسلمان کو اسی میدان کا کھلاڑی ہونا چاہئے۔ مسلمان بھائیوں بہنوں سے گذارش ہے کہ یہ ملحدوں کا خاص میدان ہے اور آپ ان کے میدان میں ان سے کبھی بھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایک گھٹیا ذہنیت کا ملحد آپ کوعقلی میدان سے گھسیٹ کے 👇
اپنے میدان میں لانے کی ضرور کوشش کرے گا۔ اگر وہ کامیاب ہوگیا تو آپ کی شکست یقینی ہے۔ آپ گالیوں اور توہین آمیز رویے میں ملحد کا مقابلے نہیں کر سکتے کیونکہ ملحدانسانی شعور کی ایک عظیم ترین نعمت یعنی منطقیت اور جذباتی وابستگی کو ترک کر کے حیوانی بلکہ شیطانی سطح پر آچکا ہوتا ہے۔ 👇
آپ کوشش کریں کہ ملحد کو اپنے میدان یعنی عقل اور اخلاقیات کی سطح پر لے کر آئیں اور اس سے بحث کریں۔ اور اگر وہ نہیں آتا تو اسے اس کی شیطانی اذیت پرستی کے راستے پر چلنے دیں۔ یہ بات بھول جائیں کہ اس کے میدان میں آپ اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔یہ سوشیل میڈیا ہے، 👇
Read 7 tweets
24 Oct
نعت خوانی پر معاوضہ لینا

سوال

نعت خوانی کی محافل منعقد کرنا،پیسے لینا ،پیسے پھینکنا لٹانا،معاوضہ طے کرنا کیساہے؟

جواب

دینی اجتماعات اور مختلف قسم کی ایسی محافل کا انعقاد جن میں حدودِشرع کی رعایت رکھتے ہوئے ترویجِ دین اور اشاعتِ قرآن و سنت کی کوشش ہورہی ہو  👇
فی نفسہ جائزاور باعثِ اجروثواب کا م ہے، لیکن اگر اِن ہی محافل کو محرمات و منکرات کا مجموعہ بنادیا جائے، جیسا کہ آج کل کا عام مشاہدہ ہے تویہی محافل  بہت سے معاصی کا مجموعہ بن کربجائے ثواب کے گناہ کاباعث بن جاتی ہیں۔ لہذا ایسی محافل کو نیک مقاصد یا فوائد کے ساتھ ساتھ 👇
عمومی مفاسد اور خرابیوں  سے پاک رکھنا بھی لازم اور ضروری ہے۔

نعت خواں حضرات کو اگر آمدو رفت کا خرچہ دیاجائے اور کھانے کا انتظام کیاجائے تو یہ جائز ہوگا،البتہ نعت خوانی میں صرف کردہ وقت کے  پیسے دینے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر نعت خوانی خالص ثواب  اور عبادت کی نیت سے ہو 👇
Read 8 tweets
24 Oct
امام طحاویؒ نے کتاب کے دیباچے میں ایک بات لکھی ہے کہ میں یہ طریق کار اختیار کروں گا کہ کسی بھی مسئلہ کے حوالہ سے مختلف احادیث بیان کر کے یہ بتاؤں گا کہ اس حوالے سے یہ حدیث بھی موجود ہے اور یہ بھی ہے۔ پھر میں کہیں ان کے مابین تطبیق دوں گا، کہیں ترجیح دوں گا، 👇
کہیں ناسخ منسوخ کی بات کروں گا، لیکن میرے اس طرز بحث کا مقصد کیا ہے؟ اس مباحثے کی غرض اور مقصد سمجھیے۔ امام طحاویؒ کی یہ تمہید محض چار پانچ سطروں کی ہے لیکن اس میں انہوں نے پوری بات سمو دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ 👇
بہت سی احادیث میں ظاہری تعارض کی حقیقت سے ناواقف آدمی کا دل بڑا دکھتا ہے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ یہ بھی حدیث ہے اور یہ بھی حدیث ہے، ایک چیز کو جائز کہنے والا بھی دو چار احادیث پیش کر دیتا ہے اور ناجائز کہنے والا بھی دو چار احادیث پیش کرتا ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟یہ احادیث متعارض ہیں👇
Read 6 tweets
24 Oct
کوئی نئی اجتماعی ضرورت پیش آجائے تو اسے نظر انداز کر دینا دانش مندی نہیں ہے بلکہ اس ضرورت کو تسلیم کرنا ،اس کی اہمیت کو سمجھنا، اور اس کا حل نکالنا اہل علم کی دینی ذمہ داری ہے۔ کوئی ضرورت اپنے حل سے زیادہ دیر تک محروم نہیں رہتی کیونکہ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے ۔البتہ 👇
یہ ضرور ہوگا کہ اہل علم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کا کوئی حل نکالیں گے تو وہ شرعی اصولوں کی روشنی میں ہوگا اور دین کے دائرے میں ہوگا لیکن اگر اہل علم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو لوگ خود اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے جو ظاہر ہے کہ 👇
دینی اصولوں اور تقاضوں کے دائرہ کا پابند نہیں ہوگا اور اس سے دین سے انحراف کی حوصلہ افزائی ہوگی
نبی اکرمؐ اور پہلے دونوں خلفا حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنا بیت المال کی ذمہ داری تھی اور 👇
Read 6 tweets
24 Oct
نبی اکرمؐ کی سیرت وتعلیمات کے ان پہلوؤں کو ترجیحی بنیاد پر سامنے لانے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے جن کا تعلق ہماری موجودہ ضروریات، کمزوریوں، اور کوتاہیوں سے ہے۔ اسی طرح نبی کریمؐ کی تعلیمات و ارشادات کے ان حصوں کو زیادہ اہمیت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوگیاہے جو 👇
آج کے عالمی مسائل سے تعلق رکھتے ہیں اور جن میں ان اشکالات و شبہات کا جواب پایا جاتاہے
بدقسمتی سے ہم اس حوالے سے بھی افراط وتفریط کا شکار ہیں اور ہماری طرف سے ان معاملات میں دو مختلف بلکہ متضاد رویے سامنے آرہے ہیں جو کنفیوژن کا باعث بن رہے ہیں اور مسائل کے حل کی بجائے 👇
ان میں اضافے کا سبب بنتے جارہے ہیں۔ مثلاً ایک رویہ یہ ہے کہ آج کی دنیا کو درپیش مسائل و مشکلات اور اس کے حل کے لیے منطقی اور فطری ضروریات کی نفی کرتے ہوئے اور ان سے آنکھیں بند کرتے ہوئے رسول اللہؐ کے ارشاد وتعلیمات کو اسی انداز اور ماحول میں پیش کیا جاتا ہے 👇
Read 5 tweets
23 Oct
تحفہ لے کر انا پو گا
💯♥️💯👇 Image
Image
Image
Read 4 tweets
23 Oct
زبان کو حرکت دیے بغیر دل ہی دل میں تلاوت کرنا

جواب

قرآنِ کریم کو جہراً (اونچی آواز سے) پڑھنا افضل ہے بشرطیکہ کسی کی عبادت یا آرام وغیرہ میں خلل نہ ہو، اگر کسی کی عبادت یا آرام وغیرہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر سری (ہلکی آواز سے) تلاوت کرنی چاہیے، لیکن 👇
سری تلاوت کی کم از کم حد یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا قرآنِ پاک کے حروف اور الفاظ کا باقاعدہ اپنی زبان سے تلفظ اور ادائیگی کرے، اس طور پر کہ خود اپنی آواز سن سکے، زبان سے حروف اور الفاظ کا باقاعدہ تلفظ کیے بغیر صرف دل ہی دل میں تلاوت کا تصور کرنا تلاوت کا تصور ہے تلاوت نہیں، اور 👇
ظاہر ہے کہ جو ثواب تلاوت میں ہے وہ تصورِ تلاوت میں نہیں ہوگا، گو یہ بھی اجر و ثواب سے خالی نہیں ہے۔ نیز تلاوتِ قرآن کے علاوہ درود شریف یا کوئی اور ورد وغیرہ دہرانے میں بھی یہی ضابطہ ہے۔ 

تفصیل کیلے

فقط واللہ اعلم

👇
Read 4 tweets
23 Oct
How to write "ﷺ" (Sallallahu Alaihi Wasallam) in Android ?
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
Bismillah !

Whenever we mention our beloved Prophet (ﷺ), we must not forget to write the durood i.e (ﷺ) after the name of Prophet (ﷺ).

Many people don't write the complete durood 👇
because it's too long in English and make also spelling mistakes.

Here is the simple and fastest way to write it.

1. Copy 👉 ﷺ
2. Go to Settings
Language & Input
Personal Dictionary
All Languages
Tap on "+" on the top right corner
👇
3. Paste "ﷺ" in the first text box
Write "saw" in shortcut field.
(Note "saw" shouldn't be in Capital letters)

Done ! Now whenever you write "saw", " ﷺ " will be shown in the suggestion area, just tap on it to write it.

@IslamApp | Instagram | fb | tumblr

👇
Read 4 tweets
22 Oct
میلادالنبی ﷺ اور علماء دیوبند کا مسلک

حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب مدظلہم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

علماء دیوبند پر یہ تہمت اور الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر مبارک کرنے یا اس پر خوش ہونے سے منع کرتے ہیں ، حالانکہ ہرگز یہ بات نہیں ہے ،👇
بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاذکر کرنا تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے ، ہاں البتہ جو باتیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہیں ، ان سے ہم ضرور روکیں گے ، اگر چہ بذاتِ خود وہ باتیں اچھی ہی کیوں نہ ہوں ، شریعت میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
👇
دیکھئے !اس بات پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے کہ عین دوپہر کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے ، اور اس بات پر بھی کہ قبلہ روہوئے بغیر نماز پڑھنا منع ہے ، اور اس پر بھی سب علماء کرام کا اتفاق ہے کہ عید الاضحی اور عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اور اس مسئلہ پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ👇
Read 36 tweets
22 Oct
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دیوبند عیدمیلادالنبیﷺ کے بارے میں۔ میرا سوال ضرور پڑھیں۔ (سہیل احمد تورڈھیر صوابی خیبر پختونخواہ پاکستان بعد از سلام عرض ہے ۔ کہ اپ صاحبان نے اپنے کئی فتووں میں عید میلاد النبیﷺکی ممانعت کی ہے اور اس کو عیسائیوں کا ایجاد قرار دیا ہے فتویٰ نمبر 👇
فتوی: 515=381/ل فتوی(د):560=124-3/1432 فتوی: 679-604/B=5/1433 فتوی: 720-616/B=5/1433۔ اپ نے مولانا شوکت علی تھانوی اور دوسرے علمائکے فتووں سے اس کی سخت نکیر کی ہے ۔ حالانکہ مولانا شوکت علی تھانوی اور رشید احمد گنگوئی نے اپنی رسالہ طریقہ مولد شریف میں فتویٰ دیا ہے کہ 👇
اگر عید میلاد النبیﷺ میں شرک و بدعت اور مکروہات شرعیہ سے خالی ہو ایسی محفل میں شرکت کرنا باعث خیروبرکت و ثواب ہے ۔ اسی طرح حضرت امداداللہ مہاجر مکی نے اپنی کتاب صفحہ نمبر 78میں لکھا ہے ۔کہ اس میں تو کسی کو کلام ہی نہیں نفس ذکر ولادت شریف ﷺ موجب خیرات وبرکات دینی و اخروی ہے ۔ 👇
Read 14 tweets
22 Oct
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکر یا  آپ کے اوصاف ومحاسن اور عبادات ومعاملات کا ذکرحتی  کہ جس چیز کی ادنیٰ نسبت بھی نبی کریم ﷺکی جانب ہو اس کا ذکر  یقیناً فعلِ مستحسن اور باعثِ اجروثواب ہے، یقیناً آپ ﷺ کی دنیا میں آمد دنیا کے لیے ایک نعمت ہے، 👇
اندھیروں میں ایک روشنی ہے، ایک مسلمان کا  خوش ہونا فطری امر ہے، جس سے انکار ممکن نہیں، البتہ  اس پر خوش ہونے کا وہی طریقہ اختیار کرنا جائز ہے جو  محسنِ کائنات ﷺ سے ثابت ہو، یا صحابہ وتابعین نے اس پر عمل کیا ہو،  یہی آپ ﷺ کی آمد  کے  مقصد  کی حقیقی پیروی ہے،  👇
چوں کہ مروجہ میلاد کا ثبوت قرآن وحدیث اور صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین میں سے کسی سے نہیں ہے، بلکہ یہ ساری چیزیں بعد کے لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں،اور بدعات میں شامل ہیں، لہذا ان  کا ترک کرنالازم ہے۔

👇
Read 9 tweets