جنسی تشدد: ہم کچھ بھول رہے ہیں….؟
غزالی فاروق
الانا کا تعلق امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا سے ہے، پورا نام الانا واگیانوس ہے۔ وہ ایک فیمینسٹ ہیں اور خواتین کے حقوق، ان کے اختیارات، تحفظ، مساوات اور معیشت میں ان کے مثبت کردار کی علمبردار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک صحافی بھی ہیں اور
ہفنگٹن پوسٹ میں سیاست اور معاشرے میں پیش آنے والے جنسی مسائل پر لکھتی ہیں۔ 6 اپریل 2017 کو ان کی ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے جس کا عنوان ہے: ” 30 ایسے پریشان کن اعداد و شمار جو امریکہ میں جنسی تشدد کی اصل حقیقت کو واضح کرتے ہیں”۔
اس رپورٹ میں وہ بتاتی ہیں کہ👇
امریکہ میں 1998 سے لے کر 2017 تک کے درمیان 20 سال کے عرصہ میں 1 کروڑ 77 لاکھ خواتین ریپ یعنی زناء بالجبر کا شکار ہوئی ہیں جس کا مطلب ہوا کہ ہر دن اوسطاً 2425 خواتین اس کا نشانہ بنی ہیں یعنی ہر 35 سیکنڈ کے بعد ایک عورت کا ریپ ہوا ہے۔ ان جنسی زیادتیوں کے مجرموں میں سے صرف 👇
ایک فیصد کو سزا ہوی جبکہ باقی چلتے بنے۔ جن خواتین کے ساتھ یہ ہوا ان میں سے 13 فیصد یعنی 23 لاکھ سے زیادہ خواتین نے خود کشی کر لی۔
الانا کی رپورٹ میں جو بات اہم ہے وہ مغربی معاشروں میں اس قسم کے جنسی جرائم کی وجہ کی تشخیص ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ “جنسی تشدد ہماری ثقافت میں راسخ ہو چکا
ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی جڑ ہماری ثقافت میں بہت گہری ہے”۔ ان کے مطابق ایسا ” معروف ٹی وی شوز میں اس قسم کے مناظر کو عام کرنے اور لباس کے ایسے ضوابط جو جنس پرستی پر مبنی ہوں” اور ان جیسی دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہوا ہے۔
اسی طرح امریکی ریاست مشی گن کے ایک ہائی اسکول کے 👇
پرنسپل جم بیزن کی ایک پوسٹ 29 اکتوبر 2015 میں ایم لائیو ڈاٹ کام پر اس عنوان کے ساتھ شائع ہوئی کہ ” لباس کے ضوابط بچیوں کو جنسی اشیاء بننے سے روکتے ہیں”، اس میں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اسکول اور کالجوں میں لباس کے ضوابط اس لئے ضروری ہیں کہ وہ عورتیں جو عزت کا لباس اوڑھتی ہیں، انہیں👇
لوگ ایک جنسی شےء کے طور پر دیکھنے کی بجائے اس نظر سے دیکھتے ہیں جو ان کی اصل پہچان ہے”۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ لباس کے ضوابط کی ایسی پالیسی جس میں عورتوں سے کہا جائے کہ جو مرضی چاہے پہنو اور ساتھ ہی مردوں سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ ان سے اپنی نظریں پھیری رکھیں گے، ایسا ہی ہے 👇
جیسے “بارش میں چلنا لیکن اس امید کے ساتھ کہ آپ بھیگنے سے بچ جائیں گے”۔
جم بیزن پھر لکھتے ہیں کہ “(اسکول میں) خواتین طلبہ سے معتدل لباس استعمال کرنے کا تقاضا کر کے ہم ان کو سزا نہیں دے رہے۔ ہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں!”۔ لیکن مغرب میں ایسی آوازیں بہت کم ہیں۔ اس👇
اس پوسٹ کے بعد مغرب میں ایک ” ڈریس کوڈ ڈیبیٹ” چل پڑتی ہے جس میں“حقوق نسواں”، جنسی مساوات” اور “آزادیوں” کے علمبردار بہت سے لوگ بالخصوص فیمنسٹ خواتین اس موقف سے مکمل اختلاف کرتی ہیں
مغربی تہذیب کی جڑوں میں جنسی تشددکے یوں راسخ ہو جانے کی وجہ ان کا زندگی گزارنے سے متعلق وہ نظریہ ہے
جسے انہوں نے مذہب سے علیحدگی کے نتیجہ میں قبول کیا ہے۔ چونکہ پاپائیت کا نظام ان کے استحصال کا باعث بن رہا تھا اور ان کی مادی ترقی میں بھی رکاوٹ تھا تو اس سے چھٹکارا حاصل کر کے انہوں نے مذہب کے کاروبار زندگی سے علیحدگی کے فلسفے یعنی سیکولرزم کو گلے لگا لیا جس کا پرچار برطانیہ میں
جان لاک فرانس میں روسو اور والٹیئر، اور امریکہ میں بنجمن فرانکلن اور ان جیسے دیگر مفکرین کر رہے تھے۔ چونکہ مذہب کو اب ان کے اجتماعی معاملات میں رائے دینے کا اختیار نہیں تھا، لہٰذا وہ آزاد تھے کہ جس بھی معاملہ میں جو مرضی رائے چاہے اپنا لیں۔ چونکہ مذہب انسان پر چند حدود و قیود👇
عائد کرتا ہے اور پاپائیت نے اسی بات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کا استحصال کیا، تو اس مذہبی فکر کی ضد میں اب آزادیوں کی فکر سب سے زیادہ مقدس ٹھہری۔ یہی وہ فکر ہے جس کو مغرب میں اصل الاصول کے طور پر مانا جاتا ہے۔
اجتماعی معاملات میں کوئی رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو یا کسی بھی مسٔلہ پر کسی قسم کی قانون سازی درکار ہو تو اس سب کے لئے اسی فکر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ شخصی آزادی یعنی پرسنل فریڈم اسی فکر کا ہی ایک شاخسانہ ہےجس کے مطابق کوئی شخص جو بھی عمل کرے وہ اس کا حق ہے سوائے اس کے کہ 👇
اس عمل سے کسی اور کی آزادی کو زک نہ پہنچتی ہو۔ لہٰذا ایک شخص جو مرضی کھائے پیئے، جو مرضی پہنے اوڑھے یا کچھ بھی نہ پہنے، اوڑھے اور جو مرضی افعال انجام دے، وہ سب ٹھیک ہیں جب تک کہ کسی اور کی آزادی اس کے اس فعل سے بلا واسطہ طور پر سلب نہ ہوتی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ 👇
ہم جنس پرستی کے علاوہ جانوروں کے ساتھ یہاں تک کہ اپنے مقدس رشتوں کے ساتھ جنسی افعال بھی ان کے ہاں آزادیوں کی اسی فکر کے تحت ان کا بنیادی حق ہونے کے باعث اصولی طور پر درست ٹھہرتے ہیں۔ ہمارے آقارسول اللہ ﷺ نے یقیناً درست فرمایا تھا کہ ” جب حیاء نہ رہے تو جو مرضی چاہے کرو”۔ 👇
مغرب نے حیاء کے تصور کو دفن کرنے کے بعد پھر جو چاہا کیا ، اس سے قطع نظر کہ یہ افعال بذات خود کس قدر قبیح ہیں۔
شخصی آزادی ہی کے نتیجہ میں مغرب میں عورت کا ایک جنسی شے کے طور پر شدید استحصال ہوا۔ لہٰذا گاڑی بیچنی ہو یا موٹر سائیکل، اپارٹمنٹ بیچنا ہو یا کچھ اور، 👇
عورت کو ایسے روپ میں لا کھڑا کیا گیا جو دیکھنے والوں کی توجہ کا باعث بنے تا کہ ان کی پروڈکٹس کی فروخت کو بڑھایا جا سکے۔ دولت کے حصول کے لئے اس سے بڑھ کر عورت کی جسم فروشی اور کیا ہو سکتی ہے! لیکن ایک مغرب زدہ عورت نے اس ذلت کو دل سے قبول کر لیا۔
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
