شائن سٹائن Profile picture
ہزاروں غیر رسمی، غیر حتمی، غیر ہضمی کتابوں کا مصنف لیکن وہ کتابیں ایک ایک لائن کی ہوتی ہیں۔اور ٹوئیٹر پہ لکھتا ہوں۔ یقین نہ آئے تو میری ٹائم لائن دیکھ لیں۔

Sep 17, 2020, 9 tweets

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی دور دراز کے ملک میں ایک بادشاہ ہوتا تھا
بادشاہ کے اولاد نہیں تھی
بڑی منتوں مرادوں سے اللہ نے ملکہ کی گود ہری کی
لیکن جب بیٹا پیدا ہوا تو بیٹے کے سر پر ایک چھوٹا سا سینگ تھا
بادشاہ بہت پریشان ہوا
یہ بات کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا
محل کی کنیزوں کو سختی سے+

منع کردیا گیا کہ یہ بات کسی کو پتا نہیں لگنی چاہئیے کہ بادشاہ کے بیٹے کے سر پر سینگ ہے
کچھ مہینے ایسے ہی گزر گئے
شہزادے کے سر کے بال بڑے ہوگئے تھے
ایک دن ملکہ نے فرمائش کی کہ شہزادے کے بال کٹوا دئیے جائیں
لیکن مسئلہ یہی تھا کہ اگر نائی نے کسی کو بتادیا کہ بادشاہ کے بیٹے کے سر +

پر سینگ ہیں تو بہت شرمندگی ہوگی
خیر ایک راز دار نائی ڈھونڈا گیا
نائی نے جب شہزادے کے بال کاٹنے شروع کئے تو اسے اندازہ ہوا کہ بادشاہ کے بیٹے کے سر پر سینگ ہے۔
قبل اسکے کہ نائی کچھ کہتا
بادشاہ نے اسے کہا کہ اگر یہ بات کسی کو پتا چلی تو تمھارا سر قلم کردیا جائے گا
+

نائی خوفزدہ ہوکر شہزادے کے بال کاٹ کر چلا گیا لیکن نائی پیٹ کا کچا تھا
کوئی بات راز رکھنا اسکے لئے ناممکن تھا
کچھ ہی دن میں اسکا پیٹ پھولنا شروع ہوگیا
کسی کو بات بتاتا تو جان جاتی
نائی نے ایک حل سوچا
اپنا پھولا ہوا پیٹ لیکر جنگل چلا گیا
دائیں بائیں دیکھ کر
یقین دہانی کی کہ +

دیکھ تو نہیں رہا
پھر بانس کے ایک درخت کے پاس جاکر
دھیرے سے کہہ دیا
“بادشاہ کے بیٹے کے سر سینگ ہے”
یہ کہتے ہی نائی کا پیٹ ہلکا ہوگیا اور وہ واپس گھر چلا گیا
کچھ دن بعد اسی جنگل سے ایک لکڑہارے کا گزر ہوا
اسکی نظر بانس کے پیڑ پر پڑی تو اس درخت کی ڈھیر ساری شاخیں کاٹ لیں

لکڑہارا شہر آیا
اور بانس کی شاخیں ایک بانسری بنانے والے کو دے دیں
بانسری بنانے والے نے ان شاخوں کی سینکڑوں بانسریاں بنائیں
اور شہر میں بانسریاں بیچنے نکل گیا
یہ بانسریاں اسی بانس کے درخت کی بنی تھیں جس کے پاس جاکر نائی نے کہا تھا کہ
“بادشاہ کے بیٹے کے سر پر سینگ ہے”
اب بانسری+

والا جہاں بھی بانسری بیچتا اور لوگ بانسری بجاتے
ہر بانسری سے آواز آتی
“بادشاہ کے بیٹے کے سر پر سینگ ہے”
شام تک بانسری والے نے سینکڑوں بانسریاں بیچیں
گلی گلی میں بچے بانسریاں بجاتے پھر رہے تھے
اور ہر گلی سے آوازیں آرہی تھیں
“بادشاہ کے بیٹے کے سر پر سینگ ہیں”

بادشاہ کو جب اس بات کی اطلاع ملی
تو سب سے پہلے
نائی کو شمالی علاقہ جات کی سیر کو بھیج دیا
اور ملک میں قانون نافذ کردیا کہ
باندری بجانے کی سزا پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور دو سال کی سزا

کیونکہ
“بادشاہ کے بیٹے کے سر پر سینگ ہے”

بقلم #شائن_سٹائن

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling