Rozina Khan Profile picture

Sep 18, 2020, 10 tweets

ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور اس کے تدارک کے اوپر ایک نظر
----------------
ملک کے طول و عرض میں پھیلے مدرسے، مسجدوں پر مولویوں کے قبضے اور #فرقہ_واریت_کا_آسیب.!!! ہمارا ملک اس وقت ایک خطرناک موڑ پر آن پہنچا ہے. مولوی مسجدیں چھوڑ کر حصول #اقتدار کی جنگ لڑنے

سڑکوں پر چل پڑے ہیں. تمام اپوزیشن جماعتیں ان کا ساتھ دے رہی ہیں اور بیانیہ فوج سے نفرت کا بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد ملک کی بنیادیں کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں.

حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو عرب سپرنگ کے نام پر کی جانے والی اسلامی ملکوں👇👇👇.

ں کی تباہی میں ملا اور فرقہ واریت نے اہم کردار ادا کیا۔ ہر ملک میں ایک فرقہ کو خرید کر مظلوم بنایا گیا اور عوام کو مذہب کی آڑ لے کر آپس میں لڑا کر پورے ملک کو کھنڈر بنا دیا گیا.
اب دیکھنا یہ ہو گا کہ مولانا فضل کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟

مولانا کا تعلق مولویوں کی اس شاخ سے ہے جو 1947 سے پہلے اور بعد میں بھی پاکستان کے وجود کی مخالف رہی ہے۔ ملک کے 70 فیصد مدرسوں پر انہی لوگوں کا قبضہ ہے. مدرسوں کے طلباء کو ہر قسم کی دنیاوی تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے۔ ان کا دین ایمان وہی ہے جو مولوی اس کے ذہن میں ڈال دیتا ہے۔

اور وہ اس کے بعد سوچنا سمجھنا بھی گناہ سمجھتا ہے.
یہ لوگ خانہ جنگی میں موئثر ہتھیار کا کام کر سکتے ہیں۔ اور اس اندرونی خانہ جنگی کا منتقی انجام کسی کو معلوم نہیں۔ مگر تاریخ کی روشنی میں ایسی کوئی بھی خانہ جنگی ملک کو بربار کر دیتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ان عوامل کا تدراق کیا جائے

اور ملک کو کسی بھی ممکنہ تباہی سے بچایا جائے۔

#مدرسہ_ریفارمز وقت کی اشد ضرورت ہے۔ وقت ضائع کئے بغیر تمام #مدارس_سرکاری_تحویل میں لے کر انہیں ماڈل تعلیمی ادارے کی طرز پر چلایا جائے تا کہ مولوی کا رول role کم کیا جا سکے۔

تمام مذہبی سرگرمیاں عبادگاہوں تک محدود کی جائیں

اور کسی مذہب یا فرقہ کو سڑکوں اور بازاروں میں نکل کر مذہبی جلسے جلوسوں کی اجازت نا ہو۔

1۔ تمام مساجد اوقاف کی تحویل میں دے کر عرب کی طرز پر خطیب نامزد کئے جائیں۔ اور انہیں #منظور_شدہ_خطبہ دینے کا حکم دیا جائے۔
#لاؤڈ_سپیکر_کے_استعمال_پر_مکمل_پاپندی عائد کی جائے،

آذان اور خطبہ کے علاوہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی ہو۔
3۔ ہر قسم کے مذہبی یا کسی بھی فرقہ کے جھنڈے یا اشتہار لگانے پر پابندی لگا دی جائے۔ دیواروں، چوراہوں، گلی محلوں اور مذہبی عبادت گاہوں پر #مذہبی_اشتہار_بازی کو جرم قرار دیا جائے۔

4۔ ملک بھر کے چھاپہ خانوں پر کسی قسم کا مذہبی مواد چھاپنے پر پابندی لگا دی جائے۔ قرآن پاک کی اشاعت حکومتی پریس کی ذمہ داری ہو جس کیلئے ہر مکتبہ فکر کے scholors نگرانی پر مقرر کئے جائیں۔
5۔ تمام ٹی وی چینلز کو کسی قسم کی مذہبی سرگرمی کو نہ دکھانے کا پابند کیا جائے۔

ہر ٹی وی چینل پر اسلامی تعلیمات کو اجاگر کیا جائے۔
ورنہ مولوی کا آسیب اس ملک کو تباہی کے دھانے پر لے جائے گا...

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling