آڈٹ پالیسی2019 کے تحت پیرامیٹرک کمپیوٹر بیلٹنگ کے ذریعے ٹیکس سال2018کے لئے آڈٹ کیسز کے انتخاب کی تقریب منعقد ہوئی۔ایسے افراد کا انتخاب کیا گیا ہےجو انکم ٹیکس آرڈینینس2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت کسی ایک یا تمام قوانین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔1/28
ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی اس تقریب میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریوینیو عبدل حفیظ شیخ نے شرکت کی۔2/28
دیگر شرکاء میں پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اسلام آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ایف بی آر افسران شامل تھے۔3/28
ٹیکس سال 2018 کے لئے تمام ٹیکسز کے آڈٹ کیسز کے انتخاب کے لئے رسک پر مبنی پیرامیٹرک طریقہ کار کا معیار وضع کیا گیا ہے۔ کیسز کے انتخاب کے لئے سائینسی طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور ایک سافٹ وئیر بنایا گیا ہے جو کہ رسک پر مبنی آڈٹ مینجمنٹ نظام کہلاتا ہے۔ 4/28
اس سافٹ وئیر کی بدولت ایف بی آر کو اختیا ر ملا ہے کہ وہ عدم تعمیل والے ٹیکس گزاروں کو آڈٹ کے لئے منتخب کرے جس کا مقصد تعمیل کرنے والے ٹیکس گزاروں کو سہولت دینا ہے تا کہ ان کا آڈٹ نظام پر اعتمار مستحکم ہو۔5/28
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی نے کہا کہ ایف بی آر شفافیت ، آسانی فراہم کرنے اور ثابت قدمی کے اصولوں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کیٹیگریز کو آڈٹ کے انتخاب سے خارج کیا گیا ہے۔6/28
ان کیٹیگریز میں ایسے افراد ہیں جن پر ایف بی آرکا انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ونگ تحقیقات کر رہا ہےایسے تمام کیسز بھی خارج کر دیئے گئے ہیں جن میں تنخواہ اور پنشن پر ٹیکس لاگو آمدنی ٹیکس عائد آمدنی کے پچاس فیصد سے تجاوز کر گئی ہوسوائے ان کیسز پر جہاں آمدنی کاروبار کے ذریعے آئے۔7/28
کمپنیوں کے ڈائیریکٹرز اخراج کے لئے کوالیفائی نہیں کرتے۔ وہ تمام کیسز جن میں تمام آمدنی حتمی ٹیکس رجیم کے دائرہ کار میں آئےاور وہ تمام کیسز جنہوں نے 2018 اور 2019 ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کر دیئے ہیں وہ بھی آڈٹ کے انتخاب سے خارج کر دیئے ہیں۔8/28
وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتوں ک ادارے بھی آڈٹ کے لیئے خارج کر دیئے گئے ہیں۔9/28
امور خزانہ و ریونیو پر وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آڈٹ کیسز کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ طریقے سے رسک کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔10/28
انہوں نے بتایا کہ آڈٹ کے لئے کم سے کم کیسز کا انتخاب کیا جا رہا ہے اور اصل توجہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے زیادہ رسک والے کیسز پر دی جا رہی ہے تاکہ آڈٹ مناسب طریقے سے اور مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جا سکے۔11/28
اس سے کرپشن اور ہراساں کرنے سے متعلق ٹیکس گزاروں کی شکایات کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں، آڈٹ پالیسی ان کیٹیگریز کے اخراج کی بدولت ٹیکس گزاروں کو پیش آنے والی غیرضروری مشکلات کم سے کم رہیں گی۔ 12/28
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر اپنے معیارات میں مسلسل بہتری لاتے ہوئے سرکاری محکموں اور ٹیکس گزاروں کو بہترین خدمات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔13/28
اس سلسلے میں ایف بی آر نے "سالانہ ٹیکس ڈائریکٹری، 2018" شائع کر دی ہیں جن میں عام ٹیکس گزاروں کے ساتھ ساتھ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی ٹیکس تفصیلات بھی شامل ہیں تاکہ پاکستانی عوام ان معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ 14/28
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ شہریوں کو ریلیف دینے کے لئے موجودہ بجٹ کے تحت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کاروباری برادری کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کے کاروباری شعبے کا مستقبل شاندار ہے۔ 15/28
اس سلسلے میں حکومت نے برآمدی شعبے کو سب سڈیز بھی فراہم کی ہیں۔ ایف بی آر نے گزشتہ سال کی نسبت رواں سال زیادہ سیلز ٹیکس ری فنڈز ادا کئے ہیں۔16/28
اس سلسلے میں ایف بی آر نے "فاسٹر" کے نام سے ایک آن لائن سسٹم متعارف کرایا ہے تاکہ ری فنڈ کلیمز میں ٹیکس عملہ کے کسی کردار کے بغیر خود کار طریقے سے ضروری کارروائی کی جا سکے۔17/28
ٹیکس دہندگان کا اعتماد مزید مضبوط بنانے کے لئے ایف بی آر کے خلاف شکایات کے ازالہ کے لئے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں سے ایک بزنس کمیٹی ہے جس میں ایف بی آر کے نمائندے اور کاروباری افراد شامل ہیں جبکہ دوسری ری فنڈ امور سے متعلق ٹیکنیکل کمیٹی ہے۔ 18/28
پیرامیٹرک طریقے سے بذریعہ کمپیوٹر قرعہ اندازی کے باقاعدہ آغاز کے لئے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ نے انکم ٹیکس کیسز کے لئے کمپیوٹر کا بٹن دبایا19/28
جبکہ چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی نے سیلز ٹیکس اور صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن آفتاب حسین ناگرہ نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا بٹن دبایا جس کے نتیجے میں ٹیکس سال 2018 کے لئے آڈٹ کئے جانے والے کیسز کا انتخاب کیا گیا۔ 20/28
مختلف کیٹیگریز کے تحت مکمل طور پر شفاف انداز میں آڈٹ کے لئے منتخب کئے جانے والے کیسز کی تعداد درج ذیل ہے:
i.انکم ٹیکس (کارپوریٹ/ نان کارپوریٹ) -10,441
ii.سیلز ٹیکس (کارپوریٹ/ نان کارپوریٹ)-2,065
iii.فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (کارپوریٹ/ نان کارپوریٹ)27
ٹوٹل -12,553
ٹیکس گزاروں کی سہولت کے پیش نظر گزشتہ سالوں کی نسبت رواں سال کم تعداد میں کیسز چنے گئے ہیں۔22/28
آڈٹ کے لئے منتخب کئے جانے والے کیسز کے نیشنل ٹیکس نمبر/ قومی شناختی کارڈ نمبر، ایف بی آر کی ویب سائٹ پر فراہم کر دئیے گئے ہیں۔23/28
ٹیکس سال 2018 سے متعلق آڈٹ پالیسی، 2019، بھی ویب سائٹ پر موجود ہے جو یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے: fbr.gov.pk/taxpayers-audi…۔
اس کے علاوہ، محترمہ فریدہ رشید، صدر، اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور میاں عبدالغفار، صدر، آل پاکستان ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن نے ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراء کے لئے بٹن دبایا 25/28
جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) کے صدر خلیل اللہ شیخ نے کمپیوٹر بٹن دبا کر ٹیکس ڈائریکٹری 2018 کا اجراء کیا۔26/28
یہ تمام معلومات عام شہریوں کے لئے دستیاب ہیں اور اس پتہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں: fbr.gov.pk/tax-directory-… ۔
اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیف کوآرڈینیٹر مرزا عبدالرحمان نے اس بات پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا کہ "رسک بیسڈ آڈٹ مینجمنٹ سسٹم" کے اجراء اور کاروباری برادری کے دیرینہ واجبات کی ادائیگی سے متعلق ان کے مطالبات پورے کر دئیے گئے ہیں۔28/28
آڈٹ پالیسی 2019 کے تحت سال 2018 کے آڈٹ کیسز کے انتخاب کی تقریب کی لی گئی فوٹو
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
