ملا گردی :
ویسے تو ضیاء دور نے پاکستان کو دہشت گردی، ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر، ایم کیو ایم ،نوازشریف جیسے "تحفے" دئیے ہیں
مگر ضیاء دور کا سب سے بڑا "تحفہ" ملا گردی ہے
روس کے خلاف "پیڈ جہاد" کیلئے ایسے جنونی جذباتی مجاہدین کی ضرورت تھی جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری ہوں 🔻
اس قسم کے لوگ صرف ملا ہی فراہم کر سکتے تھے
اور پھر قرآن کی جہاد والی آیات کی لوٹ سیل لگ گئی
ہر مدرسے ،ہر گلی ،ہر سکول میں لوگوں کو جہاد کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا اور دنوں میں ہزاروں سربکف مجاہدین تیار کر لئے گئے
امریکی اچھی طرح جانتے تھے کہ اس ضمن میں مدارس ان کے کیلئے کتنے 🔻
مددگار ثابت ہو سکتے ہیں
لہذا انہوں نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دئیے
مدارس کو جدید اسلحہ، گاڑیاں اور بوریاں بھر کے ڈالرز دئیے گئے
مکمل حکومتی عمل داری میں پہلی بار ملا کو اتنی اہمیت اور دولت نصیب ہوئی تھی
ملا نے اپنی جان تو بچا کے رکھی مگر ہزاروں معصوم طلبا کو آگ کی چھ
بھٹی میں 🔻
جھونک دیا
کتنے طلبا اور عام لوگ روس کے خلاف جنگ میں مارے گئے ہمارے پاس اس کا کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں
یہ مگر کنفرم ہے کہ کوئی پاکستانی ملا اس جنگ میں "شہید" نہیں ہوا تھا
کیونکہ ملا کو جنت کے سارے مزے دنیا میں ہی پرووائیڈ کر دئیے گئے تھے
افغان جہاد اپنے اختتام کو پہنچا
پاکستان کو 🔻
فتح ملی
مگر ساتھ ہی پچاس لاکھ افغان مہاجرین بھی جو آج تک ہمارے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں
ملا کو اس دور سے طاقت کا ایسا نشہ چڑھا جو اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا
ملاؤں نے امریکی امداد سے بڑے بڑے مدارس قائم کئے
انہیں اپنی چھاؤنیاں بنایا اور ریاست کو چیلنج کر دیا
قارئین آپ جانتے ہیں🔻
کہ حالیہ برسوں میں ایک لال مسجد کے خلاف آپریشن کس قدر مشکل ثابت ہوا اور بعد ازاں اس کے کتنے ہی مضمرات سامنے آئے
جبکہ پاکستان کے طول وعرض میں ایسے سینکڑوں مدارس ہیں جو نا صرف دہشت گردی کے اڈے ہیں بلکہ فنڈنگ بھی بیرون ممالک سے ہوتی ہے
نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسے کئی مدارس کو 🔻
بند کیا گیا ہے
مگر یہ روپ بدل کے پھر سامنے آ جاتے ہیں
ملا گردی کی طاقت کو سمجھنے کیلئے آپ کو فضل الرحمان اور مولوی خادم کے لہجوں پر غور کرنا ہو گا
یہ لوگ ریاستی اداروں کو ایسے للکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی اس کی جرات نہیں کر سکتا
ان کی اس جرات کی وجہ کیا ہے؟
وجہ ہے ان کے مدارس🔻
اور ان میں پڑھنے والے لاکھوں طلباء
یہ ملا لوگ اپنے طلباء وطالبات کا مکمل برین واش کرتے ہیں
شخصیت پرستی کوٹ کوٹ کر ان کے دماغ میں بھر دیتے ہیں
فرقہ پرستی اور انتہا پسندی اس قدر راسخ کر دی جاتی ہے کہ یہ معصوم طلبا خود کش حملے کو بھی ثواب سمجھتے ہیں اور کر گزرتے ہیں
اپنے ملا کو 🔻
معاذاللہ پیغمبر سمجھ لیتے ہیں
اگر آپ کو یقین نہیں تو آپ کسی ملا کے پیروکار سے اس کے لیڈر کے بارے میں کچھ غلط کومنٹس کر کے دیکھ لیں
گالیوں اور فتووں کا طوفان آ جائے گا
مدارس کے ان بچوں کا استعمال ملا عام طور پر کرتے ہیں
2013 کا طاہر القادری کا ڈی چوک کا دھرنا آپ کو یاد ہو گا 🔻
جب طاہر القادری خود گرم کنٹینر میں آرام فرما تھا اور اس کے طلباء طالبات باہر سردی سے ٹھٹھر رہے تھے مگر اسے چھوڑ کر نہیں گئے تھے
ایسے ہی مناظر خادم رضوی کے دھرنے میں بھی نظر آئے اور فضل الرحمان کی ریلیوں میں بھی
یہ درحقیقت ریاست کی کمزوری ہے اور عوام کی جہالت کہ دونوں کی 🔻
لاپرواہی نے لاکھوں بچوں کو ان ملاؤں کے ہاتھوں میں ذہنی یرغمال بنا رکھا ہے
اور یہ ملا ان بچوں کو اپنے ذاتی اور سیاسی ایجنڈے کیلئے بے دردی سے استعمال کرتے ہیں
جبکہ والدین نے انہیں دین کی تعلیم کیلئے بھیج رکھا ہوتا ہے
بابا نے ایک بار مجھے کہا کہ چھوٹے بھائیوں کو طاہر القادری کے 🔻
اسکول میں داخل کروا دو
میں نے کہا بابا یہ "جرات و بہادری
طاہر القادری"
کے نعرے لگاتے پھریں گے اور ہم ان سے فارغ ہو جائیں گے
یہ تلخ حقیقت ہے کہ ان مدارس میں پڑھے بچے کبھی نارمل انسان نہیں بن پاتے
ایک تو وہ مذہبی انتہا پسند ہو جاتے ہیں دوسرا وہ اپنی مذہبی رہنما کی باقاعدہ پرستش🔻
شروع کر دیتے ہیں
حالیہ اشرف جلالی اور الیاس قادری کیسز میں بھی یہی دیکھنے کو ملا ہے
ان دونوں ملاؤں نے اہل بیت کی شان میں گستاخیاں کیں
مگران کے طلبا و عقیدت مند اہل بیت پہ ان کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں
یہ ہے جہالت کی سب سے گھٹیا مثال
حکومت ان پہ اگر ہاتھ ڈالے گی تو یہ معصوم طلبا🔻
کو ڈھال بنا کر لے آئیں گے
ایسا ماضی اور حال میں کئی بار ہو چکا ہے
اب سوال یہ ہے کہ ملا گردی کا حل کیا ہے؟
اس کا بہترین حل یہی ہے کہ تمام مدارس کو وفاق اپنی نگرانی میں لے لے
تمام تنظیمات مدارس کے بورڈز ختم کر کے ان کی جگہ ایک وفاقی بورڈ بنا دیا جائے
جس میں ملک بھر کے مدارس کے 🔻
طلبا کا بائیو ڈیٹا محفوظ ہو
ایک نصاب ترتیب دیا جائے اور مدارس کے سربراہان کا ایک سال بعد تبادلہ دوسرے کسی مدرسے میں کر دیا جائے
تمام مدارس کو اسلحہ سے پاک کیا جائے
اور ان کی بیرونی فنڈنگ اور اس کے مقاصد کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے
بیرونی امداد اور ایجنڈے پہ چلنے والے ملاؤں کو 🔻
جبری ریٹائر کر کے مدارس سے الگ کر دیا جائے یا ان ممالک کو تحفتاً دے دیا جائے
یاد رہے تمام دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیمیں کسی نہ کسی مدرسے سے جڑی ہیں کیونکہ انہیں افرادی قوت وہیں سے میسر آتی ہے
جب مدارس پہ چیک ہو گا
تو ان پر نظر رکھنا بھی آسان ہو جائے گا
درج بالا تجاویز پہ عمل🔻
بہت مشکل ہے
کہ ملا عیاری سے اسے اسلام پہ حملہ قرار دے دیں گے
جلاؤ گھیراؤ کریں گے
توڑ پھوڑ بھی کریں گے
کفر کے فتوے بھی دیں گے
مگر اگر کوئی مرد کا بچہ پیہم جدوجہد سے انہیں قابو کرنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ اسلام اور پاکستان کی سب سے بڑی خدمت ہوگی
عظیم پاکستان کیلئے یہ کرنا ہوگا !!
یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ سب مدارس ایسے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ سب افغان جہاد کا حصہ تھے
افغان جہاد میں حصہ لینے والے زیادہ تر مدارس کا تعلق دیوبند اور اہلحدیث مکتب فکر سے تھا
بھیرہ شریف، جامعہ اشرفیہ، جامعہ نعیمیہ، مولانا سردار احمد کا مدرسہ اور دیگر کئی ایسے مدارس میں صحت 🔻
مندانہ علمی سرگرمیاں پہلے بھی جاری تھیں
آج بھی جاری ہیں
جن مدارس پہ ہم نے اعتراض کیا ہے
یہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پہلے ہی سے واچ لسٹ میں ہیں
اور یاد رہے ان مدارس پہ بات کرنے کو ہرگز اسلام سے مت جوڑیں
امریکہ کے مجاہدین اب امریکہ کیلئے دہشت گرد ہیں
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے!!
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
