#Pakistan_IsTheBest
چترال کی وادی بروغل: تیزی سے پگھلتے، سرکتے گلیشیئر اور نئی جھیلیں
#Pakistan_IsTheBest
پاکستان کے ضلع چترال کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ گلیشیئروں کو اپنے سامنے تیزی سے پگھلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اِس وجہ سے نئی جھیلیں وجود میں آ رہی ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
اس خطے کے گلیشیئروں پر پڑنے والے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن آج چترال جائیں گے اور ماہرین کے ساتھ مل کر وادی کے ایک کونے میں واقع کوئی گلیشیئر کا جائزہ لیں گے۔
#Pakistan_IsTheBest
چترال کے رہائشی اور اِس وقت پشاور میں کام کرنے والے ماہرِ ماحولیات حامد احمد میر بتاتے ہیں کہ وہ کئی مرتبہ چنیتر گلیشیئر اور دیگر گلیشیئر پر جا چکے ہیں۔ اُن کے مشاہدے کے مطابق ان علاقوں میں چنیتر گلیشیئر کے علاوہ باقی گلیشیئروں پر واضح طور جھیلیں بن چکی تھیں۔
#Pakistan_IsTheBest
حامد احمد میر سنہ 2012 تک چترال کی وادیِ بروغل میں مختلف خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ چنیتر گلیشیئر پر بھی بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
اس میں بڑے بڑے سوراخ ہو رہے ہیں جن کی بناء پر مقامی لوگ اس کے قریب بھی جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
انھوں نے وادی بروغل میں کئی سال تک تحقیقاتی کام بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چنیتر گلیشیئر 35 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جو دریائے چترال کا منبع بھی ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
پاکستان کے ضلع چترال کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ گلیشیئروں کو اپنے سامنے تیزی سے پگھلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اِس وجہ سے نئی جھیلیں وجود میں آ رہی ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
چترال کے رہائشی اور اِس وقت پشاور میں کام کرنے والے ماہرِ ماحولیات حامد احمد میر بتاتے ہیں کہ وہ کئی مرتبہ چنیتر گلیشیئر اور دیگر گلیشیئر پر جا چکے ہیں
#Pakistan_IsTheBest
۔ اُن کے مشاہدے کے مطابق ان علاقوں میں چنیتر گلیشیئر کے علاوہ باقی گلیشیئروں پر واضح طور کئی چھوٹی بڑی جھیلیں بن چکی تھیں۔
#Pakistan_IsTheBest
حامد احمد میر سنہ 2012 تک چترال کی وادیِ بروغل میں مختلف خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ چنیتر گلیشیئر پر بھی بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
اس میں بڑے بڑے سوراخ ہو رہے ہیں جن کی بناء پر مقامی لوگ اس کے قریب بھی جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
انھوں نے وادی بروغل میں کئی سال تک تحقیقاتی کام بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چنیتر گلیشیئر 35 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جو دریائے چترال کا منبع بھی ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
میں سنہ 2016 میں جب وہاں گیا تھا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گلیشیئر کس تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں یہ گلیشیئر چالیس سے پچاس میٹر کم ہوئے ہیں
#Pakistan_IsTheBest
اور ان پر موجود جھیلیں زیادہ بڑی ہوئی ہیں۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال ہے۔ اگر اسی طرح یہ گلیشیئر پگھلتے رہے تو آنے والے 20 سال میں ان کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔`
#Pakistan_IsTheBest
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی وادی بروغل کو سیاح اور مہم جو زمین پر جنت قرار دیتے ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
تین سو گھروں اور کئی چھوٹے دیہاتوں پر مشتمل یہ وادی چترال سے شمال کی جانب 250 کلومیٹر دور افغانستان کی سرحد پر چھوٹے بڑے گلیشیئروں کا مرکز قرار دی جاتی ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
مقامی لوگوں کا واحد ذریعہ معاش مال مویشی اور سیاحوں کو خدمات فراہم کرنا ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
وادی بروغل کے سابق ناظم امین جان تاجک نے بتایا کہ وادیِ بروغل میں کئی چھوٹے بڑے گلیشیئر موجود ہیں جن کے مقامی زبان میں مختلف نام ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
عموما یہاں پر ہر گلیشیئر کو اس کے گاؤں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مقامی افراد کے مشاہدے کے مطابق یہ سب گلیشئیر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
امین جان تاجک کا کہنا تھا کہ جب وہ سکول کے زمانے میں چاٹی بوئے یا گرم چشمہ گلیشئیر سے ہو کر سکول جایا کرتے تھے تو اس وقت بھی دیکھا کرتے تھے کہ وہاں پر پانی اکھٹا ہو رہا ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
وہ کہتے ہیں کہ اب تقریبا چودہ سال بعد لوگوں کے لیے اِس گلیشیئر سے ہو کر گزرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ بہت چھوٹا ہوچکا ہے اور وہاں کا پانی پار کرنا ممکن نہیں ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
'اسی طرح کچھ سال پہلے تک ہم لوگ دارکھوت گلیشیئر سے گزر کر گلگت بلتستان جایا کرتے تھے۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ اب ہم نیچے سے گزر کر گلگت بلتستان کی طرف جاتے ہیں۔ گوئی گلیشیئر کی بھی یہی صورتحال ہے۔'
#Pakistan_IsTheBest
شاہی جوڑا بدھ کو ’کوئی گلیشیئر‘ کا رخ کرے گا۔ امین جان تاجک کے مطابق اس کا نام چترال اور ہنزہ میں موجود ہندو راج پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند چوٹی ’کوئی‘ کی نسبت سے پڑا ہے
#Pakistan_IsTheBest
اور اسی نام کا ایک گاؤں بھی وہاں پر آباد ہے۔ گاؤں سے پیدل ایک گھنٹہ کی مسافت پر چاٹی بوئے یا گرم چشمہ گلیشیئر موجود ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
ہمارے آباؤ اجداد بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں کوئی اور گرم چشمہ گاؤں کے بہت قریب ہوتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور میرے سامنے یہ گلیشیئر بہت سکڑ چکا ہے۔'
#Pakistan_IsTheBest
حامد احمد میر کے مطابق اس گلیشیئر کا راستہ کافی دشوار گزار ہے۔ اس پہاڑی سلسلے میں اکثر و بیشتر مہم جو ہی جاتے ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
محکمہ موسمیات اسلام آباد میں گلیشیئر کے شعبے کے ماہر ڈاکٹر فرخ بشیر نے بھی اِسی تشویش ناک صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا
#Pakistan_IsTheBest
کہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے گلیشیئروں میں سینکڑوں جھیلیں ہیں مگر اس میں انتہائی خطرناک کی تعداد تیس سے چالیس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بین الاقوامی اداروں کی مدد سے ایک نئی تحقیق جاری ہے جس کے بعد تازہ صورتحال سامنے آئے گی۔
#Pakistan_IsTheBest
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گلیشیئروں کے مسائل صرف جھیلیں بننے کی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں سرکنے کا عمل بھی جاری ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
گلگت بلتستان اور چترال میں گلیشیئر جھیلیں بن رہی ہیں جن کے پھٹنے کا خطرہ موجود رہتا ہے جو سیلاب اور تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ مقامات پر یہ گلیشیئر سرک بھی رہے ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
حامد احمد میر کا کہنا تھا کہ وادی بروغل میں گلیشیئر کو نقصان پہچنے ایک سبب مقامی حالات بھی ہیں۔ اس علاقے میں درخت نہیں ہیں مال مویشی اور چراہ گاہیں ان لوگوں کا واحد اثاثہ ہیں۔
#Pakistan_IsTheBest
وہاں پر موجود گھاس میں بہت زیاد گیس اور معدنیات ہوتی ہیں۔ یہ ایک خاص قسم کی گھاس ہے جو عام نہیں ہے۔ اس کو پیٹ کہا جاتا ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
مقامی لوگوں کے پاس ایندھن کے لیے واحد سہولت صرف یہ گھاس ہے جو کہ وہ گرمیوں اور سردیوں میں استعمال کرتے ہیں۔
ایک تو گھاس کا دھواں اور دوسرے اس گھاس کی یہ دیر تک جلتے رہنے کی خصوصیت بھی
#Pakistan_IsTheBest
گلیشیئر کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے ایندھن کے دوسرے ذرائع کا انتظام ہو جو ماحول دوست بھی ہوں۔
#Pakistan_IsTheBest
وادی بروغل کا جنگلی حیات کے حوالے سے بھی اپنا خاص مقام ہے۔ اس علاقے میں 1374 سکوائر کلومیٹر رقبے پر نیشنل پارک قائم ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
وائلڈ لائف چترال کے اعلیٰ اہلکار محمد ادریس کے مطابق اس علاقے میں جنگلی حیات کی آمجگاہیں محفوظ ہیں اور جنگلی حیات کی غذا کا قدرتی نظام بھی محفوظ ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
اس علاقے میں آئی بیکس، بھورا ریچھ، گولڈن مارمیٹ، مارکولو بھیڑ، بلیو شیپ، بھیڑیا، رام چکور اور چکور جیسے قیمتی انواع کے علاوہ مہمان پرندوں کی بھی بڑی تعداد ہر سال آتی ہے۔
#Pakistan_IsTheBest
محمد ادریس کے مطابق وادی بروغل میں جنگلی حیات کے محفوظ ہونے کی ایک وجہ تو اس کا دور دراز علاقہ ہونا ہے جہاں پر ابھی تک ماحول کو نقصاں پہچانے والے عوامل نہیں پہنچے ہیں
#Pakistan_IsTheBest
اور دوسری بڑی وجہ مقامی آبادیاں ہیں جو تعداد میں زیادہ تو نہیں ہیں مگر ان جنگلی حیات کا شکار وغیرہ نہیں کرتے ہیں اور کسی شکاری کو بھی اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
