ہمارا سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے رحجان نے وہ بربادی پھیلائی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے فولورز کے چکروں میں ہم بہت سے جھوٹ بول یا لکھ لیتے ہیں یا سنی سنائی بات ایسے طریقے سے بیان کہ حقیقت کا گماں اگر وقت ہو زیر نظر کچھ ارشادات ہیں امید سے کچھ آگاہی ہوگی۔ جاری
جھوٹ بولنا جھوٹی خبریں پھیلانا آج کے دور کا فیشن بن گیا ہے میڈیا نےاسے انتہا پر پہنچا دیا ہے اینکروں کی دوڑلگی ہوئی ہے ہر ایک زیادہ سے زیادہ جھوٹی خبریں پھیلانے کےمعاملے میں سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہےہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے جاری ہے۔
فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر جو مواد بھی ان تک پہنچتا ہے وہ بغیر تحقیق کے اور بغیر یہ دیکھے کہ وہ صحیح بھی ہے یا نہیں فوراً اسے فارورڈ کرنے لگتے ہیں۔
اس سلسلے میں اسلامی ہدایات بہت سخت ہیں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے بتوں کی گندگی سے بچو جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو الحج: 30۔ جاری ہے
اس آیت میں دو باتیں کہی گئی ہیں بت پرستی اور جھوٹ بولنے سے بچو قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس آیت میں جھوٹ بولنے کو بت پرستی کے برابر گناہ اور جرم قرار دیا گیا ہے کوئی شخص چاہے جتنے گناہ کرلے، اللہ تعالیٰ اپنی شانِ کریمی سے معاف کرسکتا ہے، لیکن شرک بڑا گناہ اور ناقابل معافی۔ جاری
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہؐ سے سوال کیا گیا کہ بڑے بڑے گناہ کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا شرک قتل والدین کی نافرمانی پھر آپ نے خود ہی سوال کیا۔ کیا میں تمھیں بتاؤں کہ ان میں بھی سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ پھر خود ہی جواب دیا: جھوٹ بولنا(بخاری، مسلم)
جھوٹ بولنا زندگی کے ہر معاملے میں ناپسندیدہ گناہ لیکن خبروں میں غلط بیانی دھوکا دہی سب سے بڑا جرم ہے قرآن مجید کی ہدایت اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلیاکروکہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا کر پشیمان ہوالحجرات :49)
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
