اے پی سی کے بعد
موچی میڈیا سے خبر چلوائی جاتی ہے کہ سیاستدان فوج سے ملے کچھ دن پہلے۔ (وہ الگ بات کہ فوج نے نیشنل سیکیورٹی اور گلگت بلتستان کے بہانے بلوایا)
پھر طلعت حسین سے خبر چلوائی جاتی ہے کہ نواز شریف کے بھی خفیہ رابطے بذریعہ محمد زبیر عمر
مریم گول مول سی تردید کرتی ہے
طلعت آئی ایس پی آر والوں کو کہتا ہے کہ مروا دیا حضور کچھ کرو
آئی ایس پی آر جس نے طلعت کو خبر دی تھی ، ووہی طلعت کی خبر کی تصدیق کرتے ہیں
محمد زبیر کہتا ہے کہ خبر جھوٹی ہے۔ میری ملاقات ذاتی تھی
پھر شیخ رشید تصدیق کرنے پہنچتا ہے کہ سیاستدان ملے تھے اور جے یو آئی والے بھی ملے تھے
پھر جے یو آئی والے جواب دیتے ہیں کہ ملے تھے مگر باجوہ نے بلایا تھا اور یہ بات ہوئی تھی۔
بات کھلتی دیکھ کر شیدا بات گول کر جاتا ہے، دھمکیاں لگاتا لگاتا مکر جاتا ہے۔
مگر اس سارے کھیل میں جو اصل میں ننگا ہوا وہ فوج یا سیاستدان نہیں طلعت حسین ہے۔
طلعت حسین نے فوج کی مدد کی ۔ بظاہر نیوٹرل اور مستند صحافی کے ذریعے ایسے خبر آنے سے لوگوں نے زیادہ یقین کیا ۔
فوج کے ایسے بہت سے خفیہ مہرے ہیں۔
ان خفیہ مہروں سے آگاہ رہنا زیادہ ضروری ہے ۔ جو سلیپر سیلز کی طرح کام کرتے ہیں۔ جو لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ صابر شاکر ، ارشد شریف وغیرہ ایکپوزہو چکے تو فطری طور پر ایسی خبر طلعت ، حامد میر یا اس قبیل کے کسی صحافی سے ہی آنی تھی۔ ورنہ لوگ یقین نا کرتے۔
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
