پروفیسر عبدالغنی ‘منکرین حدیث کے اعتراضات’ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
”ان لوگوں کے اکثر اعتراضات مستشرقین یورپ ہی کے اسلام پر اعتراضات سے براہِ راست ماخوذ ہیں مثلاً حدیث کے متعلق اگر گولڈ زیہر (Gold Ziher)، سپرنگر(Sprenger) اور ڈوزی (Dozy) کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو 👇
آپ فوراً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منکرین حدیث کی طرف سے کئے جانے والے بڑے بڑے اعتراضات من و عن وہی ہیں جو ان مستشرقین نے کئے ہیں۔”(قادری، عبدالغنی، پروفیسر، ریاض الحدیث، لاہور، ۱۹۶۹ئ، ص۱۵۹)
برصغیر کے فتنۂ انکار حدیث میں مستشرقین کے لٹریچر کے اثرات کو مولانا محمد فہیم عثمانی 👇
ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
”افسوس تو زیادہ اس بات کا ہے کہ سب کچھ دشمنانِ اسلام کی پیروی میں ہورہا ہے۔مستشرقین یورپ کے سفیہانہ اعتراضات کی اندھا دھند تقلید سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ ڈھائی سو برس بعد احادیث کے قلمبند ہونے کی باتیں اور اس طرح حدیث کے ذخیرے کو ساقط الاعتبار ثابت کرنے👇
کی سکیمیں، یہ رجالِ حدیث کی ثقاہت پر اعتراضات اور یہ عقلی حیثیت سے احادیث پر شکوک وشبہات کا اظہار، یہ سب کچھ مستشرقین یورپ کی اُتارن ہیں جن کو منکرین حدیث پہن پہن کر اِتراتے ہیں۔” (فہیم عثمانی، مولانا محمد محترم، حفاظت و حجیت حدیث، لاہور، دارالکتب، ۱۹۷۹ئ، ص۱۳)
👇
اسی حقیقت کو مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی نے یوں بیان کیا ہے:
”اور عجیب بات ہے کہ موجودہ دور کے منکرین حدیث نے بھی اپنا ماخذ و مرجع انہی دشمنانِ اسلام، مستشرقین کو بنایا ہے اور یہ حضرات انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور جو اعتراضات وشبہات ان مستشرقین نے اسلام کے بارے میں پیش کئے 👇
ہیں، وہی اعتراضات و شبہات یہ منکرین حدیث بھی پیش کرتے ہیں۔” (ٹونکی، ولی حسن، مفتی ، عظیم فتنہ، کراچی، اقراء روضۃ الاطفال، ناظم آباد، ۱۹۸۴ء ص۲۶)
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
