Muddassar Rashid Profile picture
I am only a muslim Pakistan my ❤ Belive پولیٹیکل وابستگی کوی مسئلہ نہی میرے تھریڈ کیلے لنک https://t.co/lRhvx8rDES

Sep 28, 2020, 11 tweets

جدیدیت پسند منکرین حدیث کے تضادات و اختلافات صلوٰۃ جیسے مسئلے میں ملاحظہ کیجیے
۱۔ سرسیدؒ پانچ نمازوں کے قائل تھے، عبداللہ چکڑالوی صاحب بھی پانچ نمازوں کے قائل تھے لیکن نماز میں اللہ اکبر کو شرک کہتے تھے، اور اس کی جگہ ان اللہ علیٰ کان کبیراً کا ورد کرتے تھے، 👇

سجدے کی حالت میں ایک گھٹنا اوپر رکھتے تھے۔
۲۔ عبداللہ چکڑالوی صاحب کے فرقہ اہل قرآن کے منحرف گروہ کے سربراہ مستری محمد رمضان تین وقت کی نماز کے قائل تھے ہر نماز میں صرف دو رکعت اور ہر رکعت میں صرف ایک سجدے کے قائل تھے۔
۳۔ عبداللہ چکڑالوی صاحب کے ایک اور منحرف گروہ کے 👇

سربراہ سید رفیع الدین ملتانی قرآن کریم کی روشنی میں صرف چار نمازوں کے قائل تھے ان کا موقف تھا کہ ہر نماز میں صرف دو رکعتیں قرآن سے ثابت ہیں اور دلیل یہ تھی کہ قرآن میں حالت جنگ و خوف میں ایک رکعت نماز کا حکم ہے لہٰذا ایک رکعت نصف نماز ہے تو حالت امن میں اصل نماز صرف دو رکعات ہے👇

، محبوب شاہ گوجرانوالہ اور سید عمر شاہ گجراتی کی رائے بالکل مختلف تھی۔
۴۔ مولوی احمد دین امرتسری صاحب جن سے علامہ اقبال بھی بے حد متاثر تھے۔ منکرین حدیث کے علمی امام اور اصل پیشوا احمد دین امرتسری صرف دو نمازوں کے قائل تھے، نماز کو قرآن سے حجت نہیں سمجھتے تھے اسے رسول اللہ کے 👇

قابل تقلید اجتہاد کے طور پر قبول کرتے تھے۔
۵۔ غلام احمد پرویز صاحب نماز کی جگہ نظام ربوبیت کے قائل تھے لہٰذا انھوں نے کبھی نہ مسجد بنائی نہ کسی مسجد میں نماز پڑھنے کی زحمت فرمائی۔ وہ نماز کی موجودہ حنفی شکل کو درست سمجھتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ 👇

مرکز ملت اس کی تعداد وغیرہ از سر نو مقرر کرسکتا ہے۔ ان کے حلقے بزم طلوع اسلام کے اجتماعات میں کبھی کسی کو نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
۶۔ اسلم جیراج پوری صاحب نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کو رسول اللہ کا متواتر اسوہ حسنہ سمجھتے تھے اور اس کی مخالفت کو 👇

قرآن کی مخالفت قرار دیتے تھے۔
۷۔ واضح رہے کہ اسلم جیراج پوری صاحب احمد دین امرتسری صاحب سے بے پناہ متاثر تھے، ان کا موقف تھا کہ احمد دین امرتسری کے مسلک سے اختلاف کرنا ممکن نہیں ہے جب کہ احمد دین امرتسری صرف دو نمازوں کے قائل تھے 👇

’’تعلیمات‘‘ میں صفحہ ۱۵۶ پر اسلم جیراج پوری کا یہ موقف تحریر ہے کہ ’’نماز متواتر اسوہ حسنہ ہے یقینی ہے اور دینی ہے اور اس کی مخالفت خود قرآن کی مخالفت ہے۔ لیکن ان کا یہ موقف بھی عجیب تھا کہ احمد دین امرتسری صاحب کی دو نمازوں کے فلسفے سے اختلاف کرنا ممکن نہیں۔
👇

۔
۹۔ حضرت علامہ مشرقی نماز کو پریڈ سے تشبیہ دیتے تھے تاکہ افواج اسلامی ورزش کے ذریعے چاق و چوبند رہیں ان کی صحت اچھی رہے اور وہ دنیاوی امور میں بہتر طور پر حصہ لے سکیں۔
۱۰۔ مصر میں منکرین حدیث کے سربراہ ڈاکٹر توفیق صدقی بھی صرف دو نمازوں کے قائل تھے۔
👇

ان تمام تضادات کو صرف صلوٰۃ کو مثال کے طور پر لیا ہے اگر اسی طرح دیگر موضوعات کی بھی فہرست تضادات پیش کی جائے تو قدم قدم پر منکرین حدیث کے متضاد نقطۂ ہائے نظر ملتے چلے جائیں گے۔ کولن ولسن نے لکھا تھا کہ سقراط سے آج تک جتنے بھی فلسفی گزرے ہیں ہر ایک نے دوسرے کی تردید کی بلکہ 👇

خود فلسفی اپنے فلسفے کی تردید کرتے رہتے ہیں۔ کم و بیش یہی صورت حال منکرین حدیث اور فرقہ اہل قرآن کی ہے صرف ان کے فرقوں میں تضادات نہیں پائے جاتے بلکہ ان فرقوں کے بانیان کے افکار تضادات سے پر ہیں، مختلف مواقع پر یہ مختلف موقف اختیار کرتے ہیں۔

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling