ڈی جی آئی ایس پی میجر جنرل بابر افتخار صاحب
چلو مان لیا آپ سچے آپکا بیانیہ سچا کہ اس ملک میں آپ کے سوا سچا اور زیادہ ایماندار اور کون ہوسکتا ہے۔
آپ نے سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا حلف اٹھایا ہؤا ہے۔ لیکن آپ وردی میں ہوتے ہوئے سیاست پر کھل کر گفتگو کرسکتے ہیں
1
لیکن کسی شہری کو اجازت نہیں کہ آپ کو جواب دے سکے۔
آپ صبحِ شام سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے رہیں لیکن ہمیں آنکھیں بند کرکے ماننا چاہیے کہ سیاست سے آپ کا کوئی تعلق نہیں۔۔
2
عدالتی معاملات سے آپ کو دور رکھا جائے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار کونسل سے خطاب کے دوران حلفاً کہا کہ آئی ایس آئی کے اہلکار عدلیہ کے کاموں میں مداخلت کرتے ہوئے اپنی مرضی کے بینچ بنواتے ہیں اور مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں،
3
عدالتی معاملات سے آپ کو دور رکھا جائے تو پھر آئی ایس آئی کے دو اعلی عہدیداروں نے 19 جولائی 2018 کو
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی سے کس حثیت سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی،
4
اور اس پر دباؤ ڈالا کہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے شاہراہ کو کھولنے سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور کوئی ایسا حکم جاری کیا جائے جس سے آئی ایس آئی کی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔
5
اگر قانونی معاملات عدالتوں نے ہی حل کرنے تھے تو اس ملاقات میں آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے کس حثیت سے شوکتِ صدیقی سے پوچھا کہ اگر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی تو اس پر ان کا کیا ردعمل ہوگا،
6
اور جب شوکت عزیز صدیقی نے ان پر واضح کیا کہ اس اپیل پر قانون کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا۔
تو اس کے جواب میں ایک اہلکار نے کس قانون کے تحت دھمکی دی کہ
’اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی"
وہ آپ کی دو سالہ محنت کون سی تھی؟؟
7
اگر قانونی معاملات عدالتوں نے ہی حل کرنے ہیں تو آپ کا پیش رو آصف غفور کس حثیت کہہ رہا تھا کہ ہر پاکستانی کی طرح پاک فوج بھی پاناما کیس فیصلے کی منتظر ہے۔
8
آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے کس حثیت سے پانامہ جی آئی ٹی کے ممبرز بنے اس وقت بڑے صاحب نے یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے اس سے ہمیں دور رکھا جائے۔
9
اسی طرح اگر سیاسی معمالات سے آپ کا تعلق نہیں ہے تو 2014 کو ریاست کے خلاف اٹھنے والے دھرنے کے بلوائیوں کے خلاف آنسو گیس کے استعمال پر کور کمانڈر کس حثیت سے اپنی تشویش کا اظہار کررہے تھے۔
10
صاحب بہادر کس حثیت سے بیرونی ملک سے وزیراعظم خاقان عباسی کو فون کرکے خادم گالوی کے جنونیوں کے خلاف کاروائی سے منع کر رہے تھے حالانکہ اس کاروائی کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ نے دیا تھا۔
11
انتخابات ایک سیاسی عمل ہے تو صاحب بہادر کس حثیت سے دشمن کو ووٹ سے شکست دینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ آج ذرا بتائیں کہ وہ دشمن کون تھا؟؟
12
اگر سیاسی معمالات پارلمینٹ کا کام ہے تو ایک سیاسی جماعت کے سربراہ پرویز مشرف کے خلاف پارلمینٹ کی منظور کردہ عدالتی کارروائی پر کور کمانڈر کس حثیت سے تشویش کا اظہار کررہے تھے۔
13
کس حیثیت سے آصف غفور تبدیلی کی خوشخبری سنا رہے تھے، اور کس حثیت سے لوگوں کو سیلکٹڈ حکومت کے بارے میں مثبت رپورٹنگ کا بھاشن دے رہے تھے۔
جب سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں حل ہونے تھے تو 16 ستمبر کو صاحب بہادر کس حثیت سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو دعوت پر بلایا۔
14
قانونی طور پر سیاستدانون کسی سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن ایک سرکاری ملازم کس حثیت سے سیاستدانوں کو بلاتا اور انہیں دھمکاتا ہے
جب آپکا تعلق سیاسی معاملات سے نہیں تو صاحب بہادر کس حثیت سے معیشت پر سیمنارز منعقد کرواتے رہے
صحافیوں کو ہیڈکوارٹر بلاکر اپنی ڈاکٹرائن سناتے رہے
15
یہ 21 ویں صدی ہے صاحب ۔۔
جتنی صفائیاں دیں گے تاریخ کے جھروکوں سے اتنا ہی زیادہ ملبہ نکلے گا۔
سواتی صاحب کی وال سے
17
دو دن کے اندر آپ نے نواز شریف کا بیانیہ سچا ثابت کیا کہ ستر سالوں سے اس ملک کی سیاست سے بس آپ کا ہی تعلق ہے۔
سیاست دان تو بس پارٹ ٹائم کے لیے آتے ہیں اور جب تک آپ کی مرضی ہو یس سر یس سر کرکے وقت گزارتے ہیں۔
16
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
