Shafiq Ur Rehman              پتلی گر Profile picture
‏‏پتلی گر

Sep 29, 2020, 8 tweets

1- تاریخ کا ایک گم گشتہ چیپٹر
جنرل گریسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد چار سینئر موسٹ میجر جنرلز کے نام وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھیجے گئے۔
1

میجر جنرل اکبر خان، سینئر موسٹ ( پنجابی منہاس راجپوت، چکوال) ، میجر جنرل اشفاق المجید(بنگالی)، میجر جنرل این اے ایم رضا( پنجابی)، میجر جنرل افتخار خان ( پنجابی منہاس راجپوت، چکوال، میجر جنرل اکبر خان کا چھوٹا بھائ ) ۔ 2

وزیراعظم لیاقت علی خان نے میجر جنرل افتخار کو پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف مقرر کر دیا۔ لیکن میجر جنرل افتخار خان چارج لینے سے قبل ھی ایک ھوائ حادثے میں 24 دوسرے سولین اور فوجی افراد کے ساتھ ھلاک ھو گئے۔ اس کے بعد میجر جنرل اکبر خان کا نام تجویز کیا گیا۔ 3

میجر جنرل اکبر خان قائد اعظم کے پہلے ملٹری سیکرٹری بھی تھے۔ لیکن پاکستان کے سیکرٹری ڈیفینس میجر جنرل اسکندر مرزا( بہاری بنگالی، میر جعفر کے پڑپوتے) نے وزیر اعظم لیاقت علی خان(یوپی) کو مبینہ طور پر قائل کیا
4

اور ایک جونئیر میجر جنرل ایوب خان ( پٹھان) کو جنوری 1951 میں کمانڈر انچیف مقرر کر دیا جبکہ انکا نام مجوزہ فہرست میں بھی شامل نہیں تھا میجر جنرل اکبر خان ریٹائر ھو گئے۔ 1951 میں راولپنڈی سازش کیس ھوا ان میں میجر جنرل اشفاق المجید بنگالی بھی شامل تھے۔ جو بعد میں بے گناہ ثابت ھوے
5

16 اکتوبر 1951 کو وزیراعظم لیاقت علی خان کو پنڈی میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ملزم ایک افغان کراے کا قاتل سید اکبر ببرک تھا۔ جسے اسی وقت ایک پولیس افسر نے گولی مار کر ھلاک کر دیا
6

بے نظیر کو بھی 2007 میں اسی مقام پر قتل کیا گیا۔ اور فوری طور پر کرائم سین کو دھو دیا گیاجو پولیس افسر، نوابزادہ اعتزاز الدین لیاقت علیخان قتل کی تحقیقات کر رھا تھا
7

وہ بعد میں ایک طیارہ حادثے میں مارا گیا اور جس پولیس افسر نے سید اکبر کو شوٹ کرنے کا حکم دیا۔ وہ بعد میں آئ جی کے عہدے تک گیا۔
منقول طارق احمد

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling