醫生啊 Profile picture
لاکھوں ہم جیسے ملتے ہیں نایاب نہیں ہیں ہم احمدؔ ہاں اُن کے لئے جو دل سے ملے وہ جانتے ہیں کم یاب ہیں ہم

Sep 29, 2020, 12 tweets

خدا کی پہچان کا مادی ذریعہ
اللہ پاک نے سلسلہ نبوت تو ختم فرما دیا مگر یہ وعدہ کیا کہ اب قرآنی آیات کے ساتھ ساتھ آفاقی آیات لوگوں کو اللہ سے متعارف کرائیں گی کیونکہ قرآنی آیات اللہ پاک کا قول ہے اور کائنات اللہ کا فعل ہے اور بقول کسے action of a man speaks louder than his words

کے مصداق دنیا جس طرح اندھا دھند مادے کی طرف دوڑی چلی جا رہی ہے وہ سائنسی بنیادوں پر خدا کی طرف ہی رخ کیئے دوڑ رہی ہے ایک انسان کے قول و فعل میں بھی تضاد ایک برائی سمجھی جاتی ہے پھر الله کے قول و فعل میں تضاد کیسے ہو سکتا ہے چنانچہ سائنس اگر حقیقت تک پہنچے تو وہ کبھی بھی الله کے

خلاف دلیل نہیں بنے گی بلکہ الله کے وجود کا ٹھوس گواہ پیش کرے گی جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ
[سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (53) الصافات

عنقریب ہم ان کو اپنی آیات دکھائیں گے آفاق میں یہاں تک کہ ان کو واضح ہو جائے گا کہ وہ واقعی موجود ہے کیا آپ کے رب کے لئے یہ کافی نہیں کہ وہ ہر چیز پر شاھد ہے یعنی اللہ ہمیشہ سے مستقبل کی ان ایجادات اور سائنسی کامیابیوں سے بخوبی آگاہ تھا محمد یوسف بھٹی صاحب نے اسی چیز کو موضوع بنا

کر ایک بہترین کتاب الله کی پہچان کا مادی ذریعہ لکھی ہے اس کتاب کا مرکزی خیال دو اہم نکات کے گرد گھومتا ہے
1. اللہ تبارک و تعالی کی ذات کو وحی کے بعد جاننے اور سمجھنے کے لئے کائنات اور مادی دنیا کے نظام نظم و ضبط اور طریقہ کار کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے قرآن میں

مذکور علم الاسما چیزوں کے اوصاف اور کارکردگی کا علم ہے جس پر سائنس کی شاخ فزکس بیالوجی اور کیمسٹری وغیرہ بحث کرتی ہیں (جس کو جاننے کے بعد انسان ملائک پر ممتاز ہوا) کتاب میں اس حوالے سے قرآن و حدیث کی روشنی میں دین اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئ ہے مزید برآں

یہ کہ اللہ رب العزت بے مثل اور انسان کے فہم و فراست اور عقل سے ماورا ذات ہے وحی کے بعد اللہ کو جاننے کا واحد ظاہری ذریعہ مادی کائنات کی دریافت ہے تاکہ اس کے طریقہ کار کو جان اور سمجھ کر الله کی عظمت اور کاریگری کو پہچانا جائے
2. انسان اپنی نجات کا ذمہ دار خود ہے کتاب میں اسلام

اور سائنس کے مختلف حوالوں سے بین السطور یہ بتانے کی کوشش کی گئ ہے کہ اسلامی عقائد سائنسی نظریات ہیں انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور اپنے لئے جنت و دوزخ قائم کرنے کا بھی خود ذمہ دار ہے قرآن کی ایک آیت کے مفہوم کے مطابق اللہ ہماری حالت (اور ہماری موجودہ اور مستقبل کی زندگی)

اس وقت تک نہیں بدلے گا جب تک ہم خود اسے نہیں بدلیں گے
مزید برآں قرآن کی اجتماعی فکر جدجوجہد اور اپنے مسائل خود حل کرنے کا درس دیتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا نمونہ ہمارے سامنے ہے ہماری دنیاوی بقا اور ہماری اخروی زندگی کا انحصار دنیا میں ہماری کامیابی سے ہے قرآن میں

واضح طور پر ارشاد ربانی ہے کہ مومن دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے لہذا اسلام اور مسلمانوں کے احیا کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ عزت و جاہ کی زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ سائنس کا علم حاصل کریں عہد حاضر میں الحاد سائنسی ترقی کو دین کے خلاف استعمال کر کے قدم جما رہا ہے

سائنس زدہ طبقے کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئ ہے کہ شائد سائنس اور دین ایک دوسرے کے متضاد یا مخالف مضامین ہیں حالانکہ سائنس قرآن کی معمولی شاخ ہے یا اگر قرآن سائنس نہیں ہے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی حتمی منزل اور نشاتہ ثانیہ کے لئے سائنس کو قرآن سے دریافت کریں

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling