1/
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
"سکینہ (س) میری نمازِ شب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے"
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہ 20 رجب 56 ھجری میں اس جہانِ فانی میں متولد ہوئیں۔
اصل نام آمنہ یا امیمہ ہے اور لقب "سکینہ"
"سکینہ" کے معنی ہیں قلبی و ذہنی سکون۔۔۔
👇👇👇
2/
لیکن یہ بچی سکون سے نہ رہ سکی
نازونعم سے پلی، باپ کے سینے پر سونے والی اپنی پھوپیوں کی چہیتی
پیاری سکینہ 4 سال ہی میں یتیمہ ہو گئیں 😭
کربلا کا ذکر ہو اور بی بی سکینہ کا ذکر نہ ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ ھمارے لاکھوں سلام اس معصومہ پر جو عاشور کے دن ڈھلنے تک۔۔۔
👇👇👇
3/
اپنے سے چھوٹے بچوں کو یہ کہہ کر دلاسہ دیتی رہی کہ ابھی عمو پانی لائیں گے۔۔۔
معصومہ کو کیا خبر تھی کہ اس کے عمو (عباس علمدار علیہ السلام) تو آج نہر کے کنارے اپنے بازو کٹائیں گے۔۔۔
عصرِ عاشور سے پہلے جنابِ عباس (ع) کی شہادت کے بعد بی بی سکینہ (س) خاموش ہوگئی اور ۔۔۔
👇👇👇
4/
پھر موت کے وقت تک پانی نہ مانگا کیونکہ سکینہ کو آس تھی کہ چچا عباس ہی پانی لائیں گے، تاریخ گواہ ہے کہ شہادتِ جنابِ عباس علمدار (ع) کے بعد العطش العطش (ہائے پیاس ہائے پیاس) کی صدائیں نہیں آئیں
جب 11 محرم 61 ھجری، آلِ اطہار کو رسیوں سے باندھ کر بازاروں سے گزارا گیا تو۔۔۔
👇👇👇
5/
اس معصومہ کو سب سے زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی، کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام اور پھر زندانِ شام کہ آخری آرامگاہ بھی وہی قیدخانہ بن گیا
ایک روز جب بی بی سکینہ اپنے بابا کو بہت یاد کررہی تھیں اور بہت آہ و بکا کیا، تمام بیبیاں رو رہی تھیں
یزید نے پریشانی کے عالم میں پوچھا کہ۔۔۔
👇👇
6/
کیا معاملہ ہے
اس کو بتایا گیا کہ حسین ابنِ علی (ع) کی چھوٹی بچی اپنے بابا کو یاد کر کے رو رہی ہے
یزید ملعون نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ اس کو کس طرح خاموش کیا جائے
یزید کو بتایا گیا کہ اگر سرِ حسین (ع) زندان میں بھجوادیں تو یہ بچی خاموش ہوجائے گی،
پھر ایسا ہی ہوا۔۔۔
👇👇👇
7/
سرِ امام حسین علیہ السلام زندان میں لایا گیا، اک حشر برپا ہوا، تمام بیبیاں احتراماً کھڑی ہوگئیں
سید سجاد، عابدِ بیمار طوق و زنجیر سنبھالے بابا حسین کے سر کو لینے آگے بڑھے، سکینہ کی گود میں جب بابا کا سر آیا، بیچینی سے لرزتے ہونٹ امامِ عالی مقام کے رخسار پر رکھ دیے۔۔۔
👇👇👇
8/
کبھی ماتھا چومتی کبھی لبوں کا بوسہ لیتیں روتی جاتیں اور شکوے کرتی جاتیں
بی بی سکینہ روتی رہی
ہچکیوں کی آواز بتدریج مدھم ہوتی گئی پھر
بالآخر خاموشی چھاگئی۔۔۔
سید سجاد کھڑے ہو گئے
پھوپی زینب کو سہارا دیا
اور بلند آواز میں فرمایا
انا للہِ وانا الیہِ راجعون
👇👇👇
9/
سکینہ (س) ہمیشہ کے لیئے خاموش ہو گئیں
13 صفر المظفر
شہادت بی بی سکینہ بنت الحسین علیہ السلام
شام میں یزید کے محل کے ساتھ اس چھوٹے سے قید خانہ میں ہی اس معصوم بچی کو اسی خون آلود کرتے میں دفنا دیا گیا۔ جو لوگ شام میں زیارات کے لیے جاتے ہیں،۔۔۔
👇👇👇
10/
اس بی بی کے روضہ (مزار) پر ضرور دیا جلاتے ہیں۔
یارب کوئی معصومہ زنداں میں نہ تنہا ہو
پابند نہ ہوں آہیں، رونے پہ نہ پہرا ہو
اے پروردگار! اس معصوم سکینہ (س) کی یتیمی کے صدقے کسی بچی کو اس کم سنی میں یتیم نہ کرنا، آمین
#پیرکامل
#قلمکار
#شہادت_جناب_سکینہ
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
