حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت بھی اللہ کے عجائب میں سے ہے اللہ کی شان اور مرضی جس کو جس طرح مخاتب کریں لیکن قرآن میں انبیاء کرام کا نام لیکر براہ راست ان کو مخاطب کیا الغرض وہ تمام مقامات جہاں اللہ نے انبیاء کو خطاب کیا بلاواسطہ اسلوب و انداز اختیار کیا۔ جاری ہے
آقائے دو جہاں کیلیے اسلوب وانداز تبدیل کئیے کہ جہاں حضرت آدم کو مخاطب کیا تو فرمایا۔(قُلْنَا يٰـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ.)حضرت نوح کو ایسے مخاطب کیا (يٰــنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا.)حضرت ابراہیم کوایسےمخاطب کیا ( يٰـاِبْرٰهِيْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْ يَا.
حضرت موسی کو ایسے مخاطب کیا ( يٰمُوْسٰی اِنِّیْ اَنَا اﷲُ رَبُّ الْعٰـلَمِيْنَ ) حضرت داؤد کو ( يٰـدَاؤدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِيْفَةً فِی الْاَرْضِ.) اور حضرت زکریا کو ( يٰـدَاؤدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِيْفَةً فِی الْاَرْضِ.) ایسے مخاطب کیا لیکن جب بات ہمارے نبی صلی اللہ وسلم۔
کی باری آئی تو اسلوب و انداز بھی بدل گیا کہ شان محبوبیت کی نرالا پن ہے سبحان اللہ قرآن میں الحمد سے لیکر ولناس تک قرآن مجید اللہ تعالی جب بھی حضور صلی اللہ وسلم سے مخاطب ہوئے تو آپ صلی اللہ وسلم کا نام نہیں لیا یہ شان فر دیت ہے اس لیے انداز خطابت میں بھی فردیت کو قائم رکھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی نہیں ان کی شان عظمت قدرو منزلت کا درجہ ہر شے سے افضل و اعلی ارفع اور منفرد ہے انبیائے کرام میں سے بھی نفس نبوت کے سوا کسی کو حضور صلی اللہ وسلم کے ساتھ برابری نہیں اسی لیے خطابت میں بھی اللہ نے فرق رکھا سبحاناللہ۔ جاری
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
