چہرۂ اَقدس حضرت مُحَمَّد ﷺ
حضور ﷺ کا پورا حلیہ مبارک تفصیل طلب ہے۔ سرِ دست راقم آپ ﷺ کے صرف ''چہرۂ اقدس'' کی تفصیل پیش کر رہا ہے۔ مشتِ نمونہ از خروارے۔
چہرۂ اقدس گول تھا:
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، آپ کا چہرہ اقدس گول شکل کا تھا۔(رواہ مسلم)
تلوار کی
👇
طرح لمبا نہیں تھا بلکہ چاند جیسا گول تھا۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
کسی نے کہا کہ: آپ کا چہرہ تلوار جیسا تھا، فرمایا: نہیں! جیسے سورج اور چاند (گول تھا)(رواہ مسلم)
رخسار نرم تھے:
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:
آپ کے دونوں رخسار
👇
نرم تھے یعنی نہ پھولے ہوئے تھے نہ دبے ہوئے۔(شمائل ترمذی)
پیشانی مبارک:
حسین چہرہ، عظیم پیشانی اور باریک ابرو تھے۔(جواھر البیان وزرقانی)
دونوں ابروؤں کے درمیان ایک رگ تھی جو ناگواری کے وقت ابھر آتی تھی۔(ترمذی)
بھنویں باریک تھیں: (بیھقی)
مبارک آنکھیں:
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ
👇
عنہ فرماتے ہیں:
آپ ﷺ کی مبارک آنکھیں سیاہ، موٹی اور پلکیں دراز تھیں۔(مشکوٰۃ)
ناک مبارک:
حضرت ابن ابی ہالہ فرماتے ہیں:
ناک مبارک بلند تھی، جس پر نور چھایا ہوا تھا۔(شمائل ترمذی)
لب مبارک:
آپ ﷺ کے لب مبارک، تمام بندگانِ خدا سے زیادہ حسین تھے۔(مواھب لدنیہ)
دانت مبارک:
حضرت
👇
ابن ابی ہالہ فرماتے ہیں: آپ کے دانت مبارک چمکیلے اور کشادہ تھے۔(انوار محمدیہ)
آپ ﷺ کے اگلے دونوں دانت کشادہ تھے، بات کرتے تو ان سے نور جھڑتا تھا۔(دارمی)
دہن مبارک:
کان رسول اللهﷺ ضَلِیْعَ الْفَمِ (شمائل)
دہن مبارک کشادہ تھا۔
لکیریں جیسے چاند کا ٹکڑا:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی
👇
اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: کہ آپ ﷺ کے مبارک چہرہ کی لکیریں یوں تھیں، جیسے چاند کا ٹکڑا۔ (مدارج نبوۃ ص ۶،۱)
جب رسول اللہ ﷺ مسرور ہوتے تو آپ ﷺ کے مبارک چہرہ کی لکیریں چمک اُٹھتی تھیں۔ گویا کہ چاند کا ٹکڑا ہے۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:
جب رسول
👇
کریم ﷺ خوشی میں آتے تو آپ ﷺ کا مبارک چہرہ روشن ہو جاتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور ہم اس کی کیفیت سے پہچان جاتے تھے۔(بخاری و مسلم)
چاند بھی چودھویں کا:
حضرت ہمدانی حابیہ فرماتی ہیں کہ:
میں نے نبی پاک ﷺ کے ہمراہ حج کیا (راوی کہتا ہے) کہ میں نے اس سے کہا کہ حضور علیہ
👇
الصلوٰۃ والسلام کی مثال بیان کیجیے!(رواہ البیھقی)
انہوں نے جواب دیا کہ:
آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ''چودھویں کے چاند'' جیسا تھا، میں نے اس جیسا چہرہ کبھی نہیں دیکھا تھا اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔الله أكبر
آپ ﷺ کا چہرہ یوں چمکتا تھا جیسے چودھویں کا چاند۔(شمائل)
تبسّم:
جب مسکراتے
👇
تو دیواریں چمک اُٹھتیں۔
جب تبسم فرماتے تو بجلی کی روشنی کوند جاتی اور بارش کے اولوں کی مانند سفیدی ظاہر ہوتی۔(ترمذی وشفاء)
ہم نے دیکھا تو یوں لگا جیسے آپ ﷺ کے دہن مبارک سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی ہوں۔(طبرای عن ابی قرصافہ)
میٹھا بول اور راست گفتاری:
پیاری آواز، میٹھا
👇
بول اور راست گفتاری آپ کی خصوصیات تھیں۔(مدارج)
چہرہ مبارک میں سورج کی ضیاء:
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں:
گویا کہ آپ ﷺ کے مبارک چہرہ میں سورج تاباں ہے۔(احمد، بیھقی، ابن حبان، ترمذی)
ایک اور روات میں ہے۔
گویا کہ سورج آپ ﷺ کی پیشانی میں تاباں تھا۔(مسند احمد وان حبان وابن سعد
👇
عن ابی ھریرۃ)
چاند سے بھی زیادہ حسین:
حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابر و غبار سے صاف رات میں، حضور ﷺ کو دیکھتا اور ادھر چاند کو، مجھے آپ چاند سے بھی زیادہ حسین لگتے تھے۔(شمائل ترمذی)
حق و صداقت کا مرقع:
حضرت عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں۔
جب میں نے غور
👇
سے آپ کے مبارک چہرہ مبارک کو دیکھا تو میں پہچان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔(ترمذی)
گویا کہ قرآن کا ورقہ:
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ: چہرۂ اقدس کیا تھا، قرآن حکیم کا ورقہ تھا۔(شمائل)
تحقیق و تحریر : ابو اسد عطا
@threadreaderapp
roll
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
