آج ہم جانیں گے مشہورِ زمانہ فلاسفر سقراط کی زندگی کے کچھ حالات و واقعات
کیا آپ کومعلوم ہے
سقراط نےجو دنیا کاپہلا فلسفی شمار کیا جاتا ہےکوئی کتاب نہیں…
سقراط انتہائی بدصورت تھا،اس کے شاگرد نے اس کی مثال ایک ایسےمجسمے سےدی تھی جو اوپر سے تو نہایت مضحکہ خیز ہوتاہےلیکن اس کےاندر دیوتا کی تصویر ہوتی ہے
سقراط کبھی پیسہ کمانےکےبارے میں سنجیدہ نہ تھا کیونکہ اسکی بیوی ہروقت لڑتی رہتی تھی،…
سقراط کا ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھنے والا شاگرد کیٹو لکھتا ہے
"ایک روز میں سقراط کے گھر گیا تو دیکھا کہ سقراط مکان کی دہلیز پر بیٹھا تھا اس کی بیوی اس کو برا بھلا کہہ رہی تھی سقراط کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جب اسکی بیوی نے دیکھا کہ…
افلاطون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا "آپ کا نوکربازار میں…
سقراط نے مسکر ا کر پوچھا "وہ کیا کہہ رہا تھا"
افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا "آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔"
سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروا دیا اور کہا
"آپ یہ بات سنانے سے پہلے تین کی کسوٹی پر رکھو،…
افلاطون نے عرض کیا "یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے"
سقراط نے کہا "کیا تمہیں یقین ہے تم مجھے جوبات بتانے لگے ہو وہ سو فیصد سچ ہے"
افلاطون نے انکار میں سر ہلا دیا ،
سقراط نے ہنس کر کہا "پھر یہ بات…
افلاطون خاموشی کے ساتھ سقراط کا چہرہ دیکھنے لگا
سقراط نے کہا "یہ پہلی کسوٹی تھی۔ ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں، مجھے تم جو بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے"
افلاطون نے انکار میں سر ہلادیا "جی نہیں یہ بری بات ہے "
سقراط نے مسکر…
افلاطون نے انکار میں سر ہلادیا
سقراط بولا "گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی "
افلاطون خاموش رہا
سقراط نے ذرا رک کر کہا "اور آخری کسوٹی یہ بتاؤوہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو یہ میرے لیے…
افلاطون نے انکار میں سر ہلا دیا اور عرض کیا "یا استاد یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں"
سقراط نے ہنس کر کہا "اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے"
افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنےلگا
سقراط کی قوت برداشت کمال…
سقراط نے نوجوانی میں میدان جنگ میں بہادری کا انعام حاصل کیا تھا
سقراط کا زیادہ وقت ایتھنز کے باغات اور معبدوں کے دادان میں اپنے شاگردوں سے باتیں کرتے گزرتا
آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے کا عجیب و غریب فلسفی…
اس نے اپنے پیچھے کوئی کتاب تو کیا چار صفحوں کو کوئی چھوٹا سا مضمون بھی نہیں چھوڑا
وہ کچھ نہیں لکھتا تھا
اس کا اپنا کوئی فلسفہ نہیں تھا
وہ لوگوں کو کچھ بتانے کی بجائے ان سے پوچھتا زیادہ تھا
اس کے سوال ہی اس کا فلسفہ تھا
…
سقراط نے ہنس کر جواب دیا: "میں اس لئے داناٰ ہوں کہ مجھے اپنی بےعلمی کا احساس ہے"
ایک صبح جب سقراط بازار میں آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے…
"سقراط نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے
اس کا پہلا جرم یہ ہے کہ وہ ان دیوتاؤں کی پرستش نہیں کرتا جن کو یہ شہر پوجتا ہے، اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے نئے دیوتا لے آیا ہے
دوسرا جرم اس کا یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو بگاڑتا ہے، لہذا اس کی سزا…
اس الزام آرائی کے پیچھے سب سے بڑا محرک انی ٹس نامی ایک چمڑا فروش تھا
اس کو سقراط کے خلاف ذاتی بغض تھا
بات یہ ہے کہ سقراط نے اس کے بیٹے کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کھالوں اور چمڑے کا کام چھوڑ کر فلسفے سے ناتا جوڑے
انی ٹس کا اصرار تھا کہ اس کے بیٹے کو گمراہ کرنے کی…
یوں چمڑا اور علم ایک دوسرے کے سامنے آگئے
فتح چمڑے کو حاصل ہو گئی
سقراط کو گرفتار کر لیا گیا اس پر مقدمہ شروع ہو گیا
سقراط چاہتا تو موت کی سزا سے بچ سکتا تھا
وجہ یہ ہے کہ ایتھنز کے قانون کے میں یہ گنجائش موجود تھی…
گویا جس شخص کو موت کی سزا ملتی تھی اس کو یہ اختیار بھی مل جاتا تھا کہ وہ اپنی ریاست سے باہر چلاجائے اور یو ں موت کی سزا سے بچ جائے
سقراط یہ اختیار کر سکتا تھا مگر وہ اس طرح بچ نکلنے پر تیار نہیں…
جب سقراط کی زندگی کا آخری دن آیا تو اس کے کئی شاگرد اس سے جیل ملنے کے لیے آئے
شاگرد سقراط کے گرد جمع ہیں
سقراط نے ان میں سے ایک کو اپنے پاس بلایا، اس کے بالوں کو چھوا اور ساتھ ہی ساتھ زندگی، موت اور روح کی ابدیت کے…
وہ کہتا ہے کہ"موت تو ابدی نیند ہے، وہ خود فراموشی کی میٹھی ابدی کیفیت ہے، جس میں کوئی ایذا رسانی نہیں، کوئی ظلم اور نا انصافی نہیں، کو ئی مایوسی نہیں اور نہ ہی دکھ درد ہے یا پھر وہ ایسا دروازہ ہے جس سے گزر کر ہم زمین سے جنت میں داخل ہو جاتے…
جب…
افسوس ہمارے استاد کو بے گناہ مارا جارہاہے
سقراط نے زیر لب تبسم کے ساتھ کہا:"توکیا تم چاہتے تھے کہ میں گناہ کرنے کے بعد مارا جاؤں؟"
مرنے سے چند لمحے پہلے سقراط کے ایک شاگرد نے اس سے…
سقراط نے جواب دیا: "اگر میں تمہارے ہاتھ آجاؤں تو جہاں جی چاہے دفن کر دینا"
سقراط نے ہنستے ہوئے اپنے روتے ہوئے شاگردوں کے سامنے زہر کا پیالہ پی لیا۔یہ واقعہ ایتھنز میں 404 قبل مسیح پیش آیا
کتاب "فلسفہ حیات اور نظریات" سے ماخوذ
#پیرکامل
