جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے , جیسے باپ کو ہمارے مسائل، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا
کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر…
" کہاں ہو؟ کب آؤ گے؟ زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں
"سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو، سردی بہت ہے"
…
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں، گھر، گاڑی، پلاٹ، بینک بیلنس، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کرخود سُرخرو ہو جاتے ہیں "ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں…
اس میں شک نہیں، اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں، جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس ليے کہ ہمارے سامنے، وقت کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا سے مقابلے کا بُھوت سوار ہوتا ہے
جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں…
وقت گزر جاتا ہے , اچھا بھی برا بھی , اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے
جوانی، پڑھائی، نوکری، شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج، وہی کردار،…
باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے، اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے پرانوں کو فخر سے پہننا،…
کبھی کبھی سر جُھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ
کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سرِ شام بتّی بجھا کر لیٹ جانا
نظریں جھکائے انتہائی محویت سے ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد
جب ہم خود…
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں پًوچھ ہی لیں "بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے؟"
جب قہر کی گرمی میں اےسی یا رُوم کولر کی خنک ہوا بدن کو چُھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں…
جوان اولاد کے مستقبل، شادیوں کی فکر، ہزار تانےبانے جوڑتا باپ، تھک ہار کر اللّه اور اس کے پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے
تب یاد آتا ہے، ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف،ایک ایک آیت پر، رُک رْک کر، بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر…
ہر نماز کے بعد , اُٹھے کپکپاتےہاتھ ,اپنی دعاؤں کو بھول جاتےہونگے، ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو، نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا
سرِ شام کبھی کبھی، کمرے کی بتّی بُجھا کر اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد…
اولاد کو باپ بہت دیر سےیاد آتا ہے، اتنی دیر سے کہ ہم اسے چْھونے، محسوس کرنے، اسکی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سےمحروم ہو جاتے ہیں
یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے
لیکن یہ حقیقتیں جن پر بروقت عیاں ہو جائیں…
اولاد ہوتےہوئےہم سمجھتےہیں باپ کا چھونا، پیار کرنا، دل سےلگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں۔۔۔باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، پتہ نہیں باپ نےکتنی دفعہ دل ہی دل میں، ہمیں چھاتی سےلگانےکو بازو کھولےہونگے؟
پیار کےلئے اس کے ہونٹ تڑپے ہونگےاور ہماری بےباک…
ہم لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا، ہر تمنا، اولاد سےشروع ہوکر اولاد پر ہی ختم ہو جاتی ہے، لیکن کم ہی باپ ہونگےجو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں۔۔۔یہ ایک چُھپا،میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے
اولاد کے ليے بہت…
جب ہم باپ بنتےہیں، بڑھاپےکی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو باپ کےدل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے
اولاد اگر باپ کےدل میں اپنےلئے محبت کو کھلی…
یا اللہ، جن کےسر پہ باپ کا سایہ ہے، اس سائے کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے
اور جو والد اس دنیا میں نہیں، اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین
#پیرکامل
