آپؑ کا نام خود اللّٰہ نے تجویز فرمایا۔ ارشادِ باری ہے
’’اے زکریاؑ! ہم تمھیں ایک ایسے فرزند کی بشارت دیتے ہیں، جس کا نام ’’یحییٰ‘‘ ہو گا۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں…
(سورۂ مریم 7 )
گویا دنیا میں سب سے پہلے آپؑ ہی کا نام’’ یحییٰ‘‘ رکھا گیا اور آپؑ اپنی صفات میں بھی سب سے منفرد تھے۔
حضرت یحییٰ ؑ ؑکی والدہ، ایشاء اور حضرت مریم ؑ کی والدہ، حنہ آپس میں حقیقی بہنیں تھیں، یوں حضرت یحییٰ ؑاور حضرت عیسیٰ ؑآپس میں خالہ زاد تھے(…
حضرت یحییٰ ؑکثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے ، یہاں تک کہ آنسوئوں کی وجہ سے رخساروں پر نشان پڑ گئے تھے۔
ابنِ عساکر نے روایت کی ہے کہ ایک روز والدین اُن کی…
والدین نے فرمایا "بیٹے! ہم تین دن سے تمھاری تلاش میں ہیں"
اس پر آپؑ نے آخرت کے حوالے سے ایسی پُراثر گفتگو کی کہ والدین رو پڑے۔
اُنھیں جنگلوں، بیابانوں سے محبّت تھی، زندگی کا…
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ
بچّوں نے حضرت یحییٰ ؑکو بچپن میں کہا "آؤ چل کر کھیل کود کریں"، تو آپؑ نے فرمایا "ہم کھیل کود کے لیے پیدا نہیں کیے گئے۔"
حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوّت سب سے پہلے تسلیم کرنے والے حضرت…
حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
اولادِ آدمؑ میں کوئی ایسا نہیں، جس سے گناہ سرزد نہ ہوا ہو، سوائے حضرت یحییٰؑ کے
(مسندِ احمد)
قرآنِ پاک میں آپؑ کا ذکر اُن چار سورتوں میں آیا ہے، جن میں حضرت زکریا کا بھی ذکر…
اللہ عزّو جل نے حضرت یحییٰ ؑ پر وحی نازل فرمائی
اے یحییٰ ؑ۔۔ ہماری کتاب مضبوطی سے تھام ۔ اور ہم نے اُن کو لڑکپن ہی میں دانائی عطا فرمائی تھی اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی اور وہ پرہیز گار تھے…
(سورۂ مریم12 تا 15)
حضرت یحییٰ ؑ ابھی کم عُمر ہی تھے کہ پروردگارِ عالم نے فرشتوں کے ذریعے تورات…
سورۂ آلِ عمران کی آیت 39 میں اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت یحییٰ ؑکی پانچ خاص صفات کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
ابھی وہ عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریاؑ) اللہ…
حضرت یحییٰ ؑکی وفات کے بارے میں مفسرّین نے مختلف واقعات تحریر کیے ہیں، جو یہودو نصاریٰ کی کُتب سے لیے گئے ہیں۔ تاہم مفسرّین کی اکثریت نے جس واقعے کو بیان کیا ہے، وہ لوقا کی انجیل سمیت یہودو نصاریٰ کی کئی کُتب میں درج ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ
یہودیہ کا بادشاہ…
تاہم، بادشاہ اُن سے ڈرتا بھی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آپؑ اللہ کے نبی اور نیک و پارسا انسان ہیں، نیز عوام میں بڑی عزّت ہے، لیکن بادشاہ کی داشتہ، ہیرودیاس حضرت یحییٰ ؑ کی تعلیمات کو اپنے اور اپنی جیسی…
اسی اثناء میں بادشاہ کی سال گرہ کے سلسلے میں محل میں رقص و موسیقی کی محفل جَمی، جس میں ہیرودیاس کی جواں سال، خُوب صورت بیٹی نے رقص کے ہیجان خیز تیر چلا کر بادشاہ کو اپنے جال میں پھانس…
بادشاہ نے خوش ہو کر اُس سے کہا
مانگ کیا مانگتی ہے؟
بیٹی نے اپنی ماں سے مشورہ کیا، وہ تو پہلے ہی ایسے موقعے کی تاک میں تھی
لہٰذا بیٹی سے کہا
یحییٰ ؑکا سَر مانگ لے
بیٹی نے بادشاہ کے سامنے ادب سے جُھک کر عرض کیا
اے بادشاہ سلامت۔۔۔مجھے یحییٰ ؑکا سَر تھال میں…
بادشاہ یہ سُن کر غمگین تو ہوا، مگر محبوبہ کی بیٹی کی فرمائش کیسے رَد کر سکتا تھا۔چناں چہ اُس نے فوراً قید خانے سے حضرت یحییٰ ؑ کا سَر کٹوا کر منگوایا اور ایک تھال میں سجا کر محبوبہ کی رقاصہ بیٹی کی نذر کر دیا
کہتے ہیں کہ دمشق کی جامع مسجد ،بنی اُمیہ…
اُموی خلیفہ، ولید بن عبدالملک نے یہ مسجد تعمیر کروائی تھی۔
مؤرخین نے لکھا ہے کہ دَورانِ تعمیر یہاں ایک غار دریافت ہوا۔
اطلاع ملنے پر خلیفہ خود غار میں داخل ہوئے، تو دیکھا کہ ایک صندوق میں انسانی سَر رکھا ہوا ہے اور صندوق پر تحریر ہے…
ان کا چہرہ اور بال اپنی اصلی حالت میں تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے ابھی شہید ہوئے ہوں
واللہ اعلم
#پیرکامل
