رافضیت،خوارجیت اور ناصبیت یہ عالم اسلام کے اندر خوفناک فتنے ہیں
یہ تینوں آل یہود کے تخلیق کردہ ہیں
ان کا مشترکہ مقصد امت مسلمہ میں انتشار اور نااتفاقی پیدا کرنا ہے تاکہ مسلمان متحد ہو کر کبھی کفار کا مقابلہ نہ کر سکیں
تا حال کفار اس میں انتہائی کامیاب ہیں
ان کی کامیابی کی بڑی🔻
وجہ مسلمانوں میں دولت کا لالچ اور غداری کا نمایاں عنصر ہے
رافضیت زیادہ تر اہل تشیع میں پائی جاتی ہے جبکہ خوارجیت اور ناصبیت اہل سنت کے تینوں بڑے گروہوں یعنی وہابیوں،بریلویوں اور دیوبندیوں میں پائی جاتی ہے
حالیہ دہشت گردی کی بڑی لہر جس کا مسلم امہ کو سامنارہا یہ خوارج کا کام تھا🔻
اگلا بڑا فتنہ مگر ناصبی ہیں
اہلسنت بریلوی مکتب فکر کی دو بڑی جماعتوں میں ناصبی گھس چکے ہیں
اور انہیں کثیر بیرونی امداد حاصل ہے
اہلسنت کا دوسرا بڑا گروہ دیوبند مکتب فکر کا ایک بڑا حصہ خوارج نے ہائی جیک کر لیا ہے اور دوسرے بڑے حصے پہ پہلے ہی ناصبیت کا قبضہ ہے
جبکہ وہابیت کا 🔻
آدھا حصہ یعنی غیرمقلد وہابی مکمل طور پر خوارج کے رستے پر ہیں
داعش جیسی تنظیموں کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے
جبکہ ٹی ٹی پی ،لشکر جھنگوی ،سپاہ صحابہ پنجابی طالبان وغیرہ دیوبند مکتب فکر کے باغی گروہ ہیں
بنیادی طور پر اہلسنت ایک ہی تھے
اٹھارہویں صدی میں پہلے پوری منصوبہ بندی سے 🔻
وہابیت کو عرب علاقوں میں تخلیق کیا گیا اور اسے یہودی سرمائے کے بل بوتے پر عالم اسلام میں پھیلا دیا گیا
بعد میں ہندوستان میں علمائے دیوبند نے کچھ وہابی عقائد سے متاثر ہو کر الگ رستہ اپنایا تو اہلسنت کے ہی ایک بڑے حصے نے امام احمد رضا کی قیادت میں بریلی کو اپنا مرکز بنایا یوں 🔻
انگریز کی کامیاب سازش نے اہلسنت کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا
حالانکہ اکابر دیوبند علما نے انگریز کے خلاف جہاد بھی کیا تھا
حضرت امداد اللہ مہاجر مکی جیسی باکمال ہستی بھی انہی کی سرپرست رہی
بعد میں بگاڑ اس حد تک بڑھا کہ علمائے دیوبند کا ایک گروہ حسین احمد مدنی کی رہنمائی میں 🔻
انگریز کا وفادار بن گیا
اسی حسین احمد کیلئے علامہ اقبال کا مشہور زمانہ شعر موجود ہے
امام احمد رضا نے اپنے مکتب فکر کے علاؤہ سب کو کافر قرار دے دیا اور حسام الحرمین نامی کتاب لکھ کر علمائے حرمین شریفین سے اس کی تصدیق بھی کروا لی
بعد میں یہی سب علمائے دیوبند نے بھی کیا
وہابیت🔻
نے پاکستان میں پاؤں ضیاء الحق کے دور میں جمائے
سعودی امداد سے دھڑا دھڑ مدارس اور مساجد تعمیر کی گئیں
یہ سلسلہ مشرف دور تک زور وشور سے جاری رہا ،مشرف دور میں اس پر کچھ پابندی لگی مگر نوازا شریف دور میں پھر ہٹا دی گئ
اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان فتنوں کو پاکستان میں اتنی 🔻
آزادی کیوں ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر فتنے نے سرکاری اداروں میں اپنے لوگ بھرتی کروا رکھے ہیں جو ان کی سہولت کاری کرتے ہیں
دہشت گردی کے دنوں میں بھی آپ نے دیکھا تھا کہ دہشت گردوں کو ہر حملے کیلئے اندر سے مدد حاصل رہی
اکثر لوگ نہیں جانتے کہ رافضی ،ناصبی اور خوارجی ہوتے کیا ہیں 🔻
تو جان لیں کہ خوارجی وہ لوگ ہیں جو قرآن کے علاؤہ کسی چیز کو نہیں مانتے
ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ" یہ دین سے ایسے نکلے ہوں گے جیسے تیر کمان سے"
رافضی وہ ہیں جو اہل بیت کی محبت میں ان کی پیروی کی بجائے کبائر صحابہ کرام پہ تبرا بولتے ہیں 🔻
جبکہ قرآنی نص سے فتح مکہ تک کے تمام صحابہ کرام کی بخشش کا اعلان اللہ فرما چکا ہے
تبرا بازی کا آغاز امیر شام حضرت معاویہ نے کیا ،انہوں نے منبروں سے مولا علی علیہ السلام پر تبرا شروع کروایا
اس قبیح فعل کوحضرت عمر بن عبد العزیز نے آ کر روکا
ناصبی وہ لوگ ہیں جو مولاعلی علیہ السلام 🔻
کے مقابلے میں امیر شام حضرت معاویہ کو حق پر مانتے ہیں
یہ لوگ بظاہر عظمت صحابہ کے گن گاتے ہیں مگر یہ بھی رافضیوں کی طرح مولاعلی علیہ السلام اور ان کے ساتھی صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں اور انہیں باطل سمجھتے ہیں
یہی ناصبی اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہیں
اللہ اس سے اسلام اور پاکستان 🔻
کو بچائے
کیونکہ کراچی کی ایک بڑی جماعت کا سربراہ ناصبی ہو چکا ہے
ابھی اس نے اپنے چند عقائد واضح کئے ہیں مگر شنید ہے کہ جلدہی وہ کھل کر سامنے آ جائے گا
اب رہی بات کہ مجھے اس سے کیا تکلیف ہے ؟
تو مجھے اس سے یہ تکلیف ہے کہ ان ناصبیوں اور رافضیوں کو انڈیا خرید رہا ہے
جیسے اس🔻
نے پہلے خوارجیوں کو خریدا تھا
اس کا ایجنڈا شیعہ سنی فساد کروانے کا ہے
ایک دن رافضی کبائر صحابہ پہ تبرا کرے گا
تو اگلے دن ناصبی مولوی معاویہ اور یزید کے فضائل بیان کرے گا
یہ پوری منصوبہ بندی سے ہو گا
عام مسلمان مگر ان چالوں کو سمجھ نہیں پائیں گے اور 80 کی دہائی جیسا ماحول 🔻
بنے گا ،انڈیا نے اس مقصد کیلئے کروڑوں روپیہ مختص کیا ہے
ایجنسیاں اس سب سے آگاہ ہیں
مگر مدارس کے معصوم بچے اور جذباتی عوام آگاہ نہیں
ہماری نوے فیصد عوام اس طرح کے فرقہ ورانہ معاملات میں دلچسپی نہیں لیتی
مگر یہ آگ سب کو لپیٹ میں لے سکتی ہے
ہر کسی کو اپنے عقیدے کے ساتھ جینے کا 🔻
حق ہے، فرقہ پرست مولویوں کو مگر فساد پھیلانے کے پیسے ملتے ہیں
خود تو یہ مشکل وقت میں ایران یا سعودیہ نکل جائیں گے
مریں گے مگر پاکستانی عوام
میری سب دوستوں سے التجا ہے اس پیغام کو ہر جگہ پہنچائیں
سب مکاتب فکر کے علما اکٹھے ہو کر ان فتنوں کا مقابلہ کریں
اللہ پاکستان کو محفوظ رکھے !

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Roy Mukhtar Ahmad

Roy Mukhtar Ahmad Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @roymukhtar

14 Sep
"ریپ" کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے
اسلام سے پہلے کی تقریباً تمام بڑی طاقتیں اور افواج اس قبیح اور غیر انسانی فعل کی مرتکب رہی ہیں
اسلام نے مگر جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بہترین انسانی معیارات مقرر کئے وہیں جنگی قوانین میں بھی بے شمار مثبت تبدیلیاں🔻
کیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کے دوران بوڑھوں،بچوں،عورتوں،درختوں،کھڑی فصلوں اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا
بعد میں خلفائے راشدین نے اس کی مکمل پیروی کی
سینکڑوں جنگوں اور معرکوں میں کوئی ایک بھی انسانی المیہ جنم نہ لے سکا
اگر کچھ سپہ سالاروں سے کہیں غلطی ہوئی🔻
تو فوراً انکوائری کی گئی اور جو قصوروار پایا گیا اسے قرار واقعی سزا دی گئی
قوانین اتنے موثر تھے کہ دوران جنگ حضرت خالد بن ولید جیسے بے مثال سپہ سالار سے خدمات واپس لے لی گئیں
مسلمانوں کا یہ حسن سلوک عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے خوشگوار حیرت کا باعث بنا اور وہ جوق در 🔻
Read 12 tweets
15 Aug
ترکی نے بھی اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے
یہ بات عام سننے کو مل رہی ہے
چند حقائق کو جان لیں پھر اس پہ تبصرہ کریں !
اسرائیل ستمبر 1948میں قائم ہوا
ترکی نے اسے 1949میں تسلیم کر لیا
کیسے؟
ترکی اس وقت معاہدہ لوزان کے مطابق ایک مسلم نہیں بلکہ سیکولر ملک تھا
ترکی اس وقت ایک مرد بیمار🔻
جیسا تھا جسے یورپ کی شرائط ہر صورت ماننا پڑتی تھیں
اسرائیل کا اصل تنازعہ عربوں سے تھا اور آل سعود اس وقت بھی اسرائیل کے حمایتی تھے
ترکی کا براہ راست اسرائیل سے کوئی جھگڑا نہیں تھا
ترکی نے مگر اسرائیل کو بطور ایک جمہوری ریاست کے کبھی تسلیم کیا نہ ہی اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ🔻
کھولا
رجب طیب کی حکومت آنے کے بعد ترکی نے اسرائیل کو باقاعدہ دھمکیاں دے کر اس کی اوقات میں رکھا ہے
ترکی اب بھی فلسطینیوں کا پرجوش حامی اور حمایتی ہے
ایاصوفیہ کے افتتاح پہ طیب اردوگان نے باقاعدہ اعلان کیا کہ اگلی باری مسجد اقصی کی ہے
کیا کوئی عرب ملک اسرائیل کے خلاف ایسی بات کر🔻
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!