خلفائے راشدینؓ نے قومی خزانے کو امانت کا درجہ دیا اور اس حد تک آگے چلے گئے کہ ایک بار امیر المومنین حضرت عمرؓ بیمار ہوگئے۔ بیماری کیا تھی کہ خشک روٹی کھاتے کھاتے انتڑیوں میں خشکی اور سوزش پیدا ہوگئی تھی۔ طبیب نے زیتون کا تیل بطور علاج تجویز کیا تو فرمایا کہ 👇
میرے پاس زیتون کا تیل استعمال کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کسی نے کہا کہ زیتون کا تیل بیت المال میں موجود ہے اس میں سے لے لیں۔ حضرت عمرؓ نے بیت المال کے انچارج کو بلایا اور پوچھا کہ بیت المال میں زیتون کا جو تیل ہے اسے اگر مدینہ منورہ میں عام دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے تو 👇
میرے حصے میں کتنا آئے گا؟ اس نے جواب میں جتنی مقدار بتائی وہ بہت تھوڑی تھی، طبیب نے کہا کہ اس سے کام نہیں چلے گا۔ اس پر امیر المومنین حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ اس تیل پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی اپنے پیٹ پر ہاتھ مار کر کہا کہ ’’جتنا چاہے گڑگڑاتا رہ، 👇
تجھے وہی ملے گا جو مدینہ کے عام شہریوں کو ملتا ہے‘‘۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
*آزمائش*
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بغیر آزمائش کے کوئی بندہ بشر اس دنیا سے رخصت نہیں ہوگا قرآن کے اس بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آزمائش کیا ہے یہ کیسا ہی امتحان کیوں نہ ہو کسی کو اس سے فرار نہیں اس لئے کہ بندہ اپنے علم و یقین کی جب خود گواہی دیتا ہے تو 👇
اس کی آزمائش اس کے اپنے علم و یقین کی اس کے بقدر ہوتی ہے۔
یقیناً آزمائش ایک مخصوص دورانیہ کی ہوتی ہے یعنی یہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی۔ آزمائش سے نبردآزما ہونے کے لئے سب سے اہم آزمائش کو سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ یہ لامحدود نہیں اور یہ یقین رکھنا کہ یہ دورانیہ اپنے مخصوص وقت تک 👇
محیط ہے یہ محیط کب تک ہے یہ غیب ہے بندہ اسے جاننے سے قاصر ہے چونکہ ہمیں آزمائش لاحق ہے تو ہمیں توبہ استغفار، ذکر و اذکار کرتے رہنا چاہئے اور دوا ، دعا کا بالخصوص باقاعدگی سے اہتمام کرنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے آزمائش کا دورانیہ سات سال تک طویل ہو جائے تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے، 👇
غزہ یا ہم، قرون اولیٰ کے وارث کون!
۔۔
آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں ہر چیز کو اپنی محدود عقل و علم پر پرکھتے ہوئے فیصلے صادر کرتے ہیں، لیکن دعوہ ہمارا مسلمانی ہے، کبھی اپنے آپ کو ایمان کی روشنی میں نہیں پرکھا ۔۔۔۔ غزہ برپا ہوا تو ۔۔ 👇
اہل دانش غلطی گردانے لگے کہ کمزور ہو کر طاقتور دشمن کو کیوں للکارا اپنے وطن و لوگوں کو تباہی کے راستے پر کیوں ڈالا، وہ جی فلاں کے مہرے تھے۔۔۔ ؟؟؟ ۔۔ لیکن پرکھو گر انکو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و قرآن حکیم کی روشنی میں تو گونگے بہرے ہو جائیں گے ۔۔۔ 👇
پرکھنا ہے تو پرکھو غزہ کو غزوہ بدر سے ۔۔ کتنی تلواریں، نیزے، سواریاں و ڈنڈے سوٹے تھے مسلمانوں کے پاس ۔۔۔ 313 اصحاب، 2 گھوڑے ، 70 اُونٹ 6 زرہیں اور 8 شمشیریں اور دشمن 1000 سے زائد نفوس، 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے، آج کا دانشور 👇
بھاری قرضے سے خلاصی
اللہ تعالی نے ”کلمہ طیبہ“ ”حمد“ اور تسبیح میں بڑی برکت رکھی ہے...بڑی تأثیر رکھی ہے...حضرت علامہ عبدالرحمن الجوزی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:-
حضرت شیخ ابوبکر بن حماد المقری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں...میں نے 👇
حضرت امام معروف الکرخی رحمہ اللہ تعالی سے عرض کیا......حضرت! مجھ پر بہت بڑا بھاری قرضہ چڑھ گیا ہے...حضرت نے فرمایا: میں آپ کو ایسی دعاء بتا دیتا ہوں جس سے اللہ تعالی آپ کا قرضہ اتار دیں گے...آپ 👇
روزانہ سحری کے وقت پچیس بار یہ دعاء پڑھا کریں
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً......
حضرت شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ عمل کیا تو 👇
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل منافقین کے بارے میں یہ تھا کہ چند معروف منافقین کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی صفوں میں موجود ان منافقین کی نشاندہی تک نہیں کی گئی۔ انہیں الگ کرنے اور معاشرتی طور پر انہیں علیحدہ قرار دینا تو بعد کی بات ہے، اس سے قبل ان کی جو نشاندہی 👇
ضروری قرار پاتی ہے اس کا مرحلہ بھی نہیں آیا۔ جناب نبی اکرمؐ نے صرف چودہ منافقین کے نام بتائے اور وہ بھی صرف حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو، اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان میں سے کسی کا نام اور کسی کو نہیں بتائیں گے۔ حتٰی کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے انہیں کئی بار کرید کر پوچھنا چاہا مگر 👇
حضرت حذیفہؓ نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو بھی ان میں سے کسی منافق کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ جس پر حضرت عمرؓ نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا کہ کسی عام شخص کے جنازے پر اگر حضرت حذیفہؓ موجود ہوتے تو حضرت عمرؓ جنازہ پڑھتے تھے ورنہ یہ سوچ کر جنازہ پڑھنے سے گریز کرتے تھے کہ 👇