Muddassar Rashid Profile picture
Sep 24, 2020 9 tweets 2 min read Read on X
خاتون کا پہلا نام ’’مارسیہ کے ہرمینسن‘‘ تھا اور ایم کے ہرمینسن کہلاتی تھیں ۔اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے نام کا مخفف قائم رکھنے کے لیے اسلامی نام مجاہدہ رکھ لیا اور اس طرح ان کے نام کا مخفف ایم کے ہرمینسن قائم رہا۔

اس نومسلم خاتون کا کہنا تھا کہ فلسفہ میں ایم اے کی 👇
ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہیں ذہنی طور پر ایک خلاء محسوس ہوتا تھا اور کہیں سکون نہیں مل رہا تھا۔ اسی سکون کی تلاش میں وہ مختلف ملکوں میں گھومتی رہیں اور یونیورسٹیوں میں کورسز کرتی رہیں۔ اسی دوران اسپین کی کسی یونیورسٹی میں وہ اپنے ہاسٹل میں تھیں کہ ایک روز ریڈیو کی سوئی گھماتے 👇
ہوئے ایک جگہ سے عجیب سی پرکشش آواز سنائی دی۔ آواز میں کشش تھی مگر زبان سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ایک دو دفعہ سننے کے بعد مختلف حضرات سے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ یہ مراکش ریڈیو ہے اور اس وقت مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے۔ اس کے بعد قرآن کریم کا سننا معمول بن 👇
گیا۔ قرآن کریم کا انگلش ترجمہ منگوا کر پڑھا مگر لطف نہ آیا تو عربی زبان کا کورس کیا۔ زبان سے مانوس ہو کر براہ راست قرآن کریم کا مطالعہ کیا اور مسلمان ہوگئیں۔
👇
ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن نے اس کے بعد مختلف اسلامی تحریکات اور شخصیات کا مطالعہ کیا اور سب سے زیادہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے متاثر ہوئیں۔ حتیٰ کہ ’’مغرب اور شاہ ولی اللہ کا تعارف‘‘ کے موضوع پر برکلی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ اس وقت وہ کیلی فورنیا کی سین ڈیگو یونیورسٹی میں👇
فلسفہ کی استاذ ہیں اور انہوں نے اسی یونیورسٹی میں امام ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و تعلیمات پر ریسرچ کے لیے ’’شاہ ولی اللہ چیئر‘‘ قائم کر رکھی ہے۔ انہوں نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکۃ الاراء تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا انگلش ترجمہ بھی کیا ہے اور 👇
مختلف جرائد میں شاہ صاحبؒ کے بارے میں مضامین لکھتی رہتی ہیں۔👇
انہیں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تیاری کے دوران محترم مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کی بعض تصنیفات سے استفادہ کا موقع ملا تھا، وہ اسی نسبت سے ان سے ملاقات و گفتگو کے لیے پاکستان آئی ان سے حضرت صوفی صاحب نے یہ سوال کیا تھا کہ آج کے دور میں ہم مسلمانوں میں تو کوئی 👇
ایسی کشش کی بات نہیں ہے جسے دیکھ کر کوئی غیر مسلم مسلمان ہو، اور آپ پڑھی لکھی خاتون ہیں آپ کیسے مسلمان ہوگئی ہیں؟ اس کے جواب میں محترمہ نے کہا کہ وہ کسی مسلمان سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوئی ہیں۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Muddassar Rashid

Muddassar Rashid Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Muddassar04

Feb 10
قتل بالسبب (Qatl-bis-sabab) قتل کی وہ چوتھی قسم ہے جس میں کسی شخص کا ارادہ نہ تو کسی کو مارنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی کرنے کا، لیکن وہ کوئی ایسا غیر قانونی کام کرتا ہے جو بالواسطہ طور پر کسی کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
👇
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 321 کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت کے بغیر کوئی ایسا غیر قانونی فعل کرے جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اسے قتل بالسبب کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
کسی عوامی راستے یا دوسرے کی ملکیت میں بغیر اجازت گہرا گڑھا یا کنواں کھودنا 👇
جس میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے۔
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا پتھر رکھنا جس سے ٹکرا کر کسی کی جان چلی جائے۔
سزا (دفعہ 322):
دیت: اس جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص صرف دیت (مالی معاوضہ) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) یا قید کی سزا عام طور پر نہیں ہوتی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ شبہ عمد قتل کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو نقصان یا چوٹ پہنچانے کی نیت تو ہو، لیکن اسے جان سے مارنے کا ارادہ نہ ہو، مگر وہ فعل یا ضرب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
اس کی قانونی اور شرعی تفصیلات یہ ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو جان بوجھ کر ایسی چیز (مثلاً ڈنڈا یا تھپڑ) سے 👇
مارے جس سے عام طور پر موت واقع نہیں ہوتی، لیکن اس کے نتیجے میں اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو اسے قتلِ شبہ عمد کہتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 315 میں اس کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
سزا
دیت: مجرم پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (مالی معاوضہ) ادا کرے👇
قید (تعزیر): دفعہ 316 کے تحت عدالت مجرم کو 25 سال تک قیدِ تعزیری کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
کفارہ: شرعی اعتبار سے قاتل پر کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے) بھی واجب ہوتا ہے۔
Read 4 tweets
Feb 10
قتل عمد کسے کہتے ہیں؟

قتلِ عمد سے مراد وہ قتل ہے جو مکمل ارادے اور نیت کے ساتھ کیا گیا ہو، یعنی قاتل کا مقصد جان بوجھ کر کسی شخص کی جان لینا ہو۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 300 کے مطابق، اگر کوئی شخص اس نیت سے کوئی ایسا فعل کرے 👇
جس سے کسی کی موت واقع ہو جائے یا ایسی جسمانی چوٹ پہنچائے جو عام حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہو، تو اسے قتلِ عمد کہا جاتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): اس جرم کی سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی ہے۔
سزائیں:
قصاص: اس کا مطلب ہے "جان کے بدلے جان"۔ یہ اسلامی سزا ہے جہاں عدالت 👇
قاتل کو سزائے موت سناتی ہے۔
تعزیر (سزائے موت یا عمر قید): اگر قصاص کے شرائط (جیسے گواہی کا خاص معیار) پورے نہ ہوں، تو عدالت حالات کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے۔
حبسِ دوام (25 سال قید): بعض مخصوص حالات میں، جہاں قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، وہاں 25 سال تک قید کی سزا دی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ خطا سے مراد وہ قتل ہے جو کسی شخص کے ارادے یا نیت کے بغیر محض غلطی (Mistake of fact or act) کی وجہ سے ہو جائے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو مارنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن کسی غلطی یا غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے، تو اسے قتلِ خطا کہا 👇
جاتا ہے۔
مثالیں:
نشانہ بازی یا شکار کے دوران گولی غلطی سے کسی انسان کو لگ جانا۔
ٹریفک حادثات، جہاں ڈرائیور کا ارادہ قتل کرنا نہ ہو مگر غفلت یا حادثے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو جائے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پاکستان کے قانون کی دفعہ 318 (Section 318) میں اس کی تعریف بیان کی گئی👇
ہے۔
سزا:
دیت: قاتل پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرے۔
کفارہ: شرعی طور پر قاتل پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔
قید: اگر قتل غفلت یا لاپروائی (Rash or negligent act) کی وجہ سے ہوا ہو، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت 5 سے 10 سال تک قید کی سزا بھی ہو 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتل خطا پر دیت کی مقدار

دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 👇
2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے
قتلِ عمد میں قاتل پر دیت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قتلِ عمد میں قاتل کی شرعی سزا قصاص ہے ، اور قصاص صرف حکومت جاری کرسکتی ہے، البتہ اگرمقتول کے ورثاء قصاص معاف کرکے قاتل سے صلح کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم قتلِ عمد میں صلح کی صورت میں دیت کی مقدار پر 👇
Read 4 tweets
Aug 6, 2025
علماء ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ نسب
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﻧﮯ
👇 Image
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﻧﮯ
👇
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﺳﮯ
ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﺳﮯ
ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﻧﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﻧﮯ
👇
Read 10 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us!

:(