ایک سوال یہ کیا گیا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس کے سب بندوں کے لیے ہے اس لیے اس کے ہر بندے کو خود اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور درمیان میں کسی واسطہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر عرض کیا گیا کہ یہ دیکھ لینا چاہیے کہ 👇
خود قرآن کریم اس سلسلہ میں کیا کہتا ہے؟
قرآن کریم میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض نبوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ویعلمھم الکتاب کہ وہ اپنے ساتھیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہیں۔ حالانکہ 👇
آنحضرتؐ کے صحابہؓ کی اکثرت عرب تھی اور عرب بھی اس دور کے جس کی فصاحت وبلاغت کو معیاری سمجھا جاتا ہے، لیکن ان سے یہ نہیں کہا گیا کہ وہ خود قرآن کریم پڑھ کر اسے سمجھیں اور جیسا سمجھ میں آئے اس پر عمل کریں۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ انہیں قرآن کی تعلیم دیتے ہیں۔👇
پھر اس تعلیم کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ بھی ہے لتبین للناس ما نزل الیھم کہ جو قرآن کریم لوگوں پر نازل کیا گیا ہے اس کا بیان اور وضاحت بھی جناب رسول اللہؐ خود ہی فرمائیں گے۔ تعلیم اور ضروری امور کی وضاحت و بیان کو لوگوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ 👇
نبی اکرمؐ سے کہا گیا ہے کہ یہ دونوں کام آپ نے کرنے ہیں۔ اور تفسیر و حدیث کا ذخیرہ گواہ ہے کہ آنحضرتؐ نے صحابہ کرامؓ کوقرآن کریم کی باقاعدہ تعلیم دی اور جہاں ضرورت پڑی یا کوئی الجھن پیدا ہوئی، قرآن کریم کی آیات اور الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی منشا بھی آپؐ نے بیان فرمائی 👇
جس کے بیسیوں شواہد احادیث میں موجود ہیں۔
اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ سے تویہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کریں اور اس کے ضروری مقامات کی وضاحت بھی اللہ تعالیٰ کے رسول ؐ سے پوچھیں ، مگر 👇
چودہ سو سال کے بعد پاکستان کے عجمی مسلمانوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ عربی سیکھ لیں اور قرآن کریم کو خود براہ راست پڑھ کر جیسا سمجھ لیں اس پر عمل کریں۔
ایمان و ہدایت کا ذریعہ
اسی طرز کی ایک اور بات بھی کہی جا رہی ہے کہ ایمان و ہدایت اللہ تعالیٰ کا اور اس کے بندوں کا آپس کا معاملہ ہے، اس میں کسی اور کو دخیل نہیں ہونا چاہیے۔ اور ہدایت اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنا ہے، اس میں لوگوں کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے۔👇
ہم نے عرض کیا کہ
قرآن کریم خود اس تصور کی نفی کرتا ہے اور اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ ایمان و ہدایت براہ راست نہیں بلکہ نیک بندوں کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم یا اللہ ہمیں صراط مستقیم عطا فرما اور اسی سورۃ میں 👇
صراط مستقیم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعامات فرمائے ہیں۔
قرآن کریم میں دوسرے مقام پر ان لوگوں کا تعارف کرایا گیا ہے جو منعم علیہم ہیں یعنی جن پر اللہ تعالیٰ نے انعامات فرمائے ہیں اور ان کے چار طبقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 👇
(۱) انبیاء کرام علیہم السلام (۲) صدیقین (۳) شہداء (۴) صالحین ۔ گویا یہ چار طبقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام یافتہ ہیں اور قرآن کریم کے بقول ہدایت اور صراط مستقیم کا معیار بھی یہی چار طبقے ہیں، ان کے ذریعہ جو راہ ملے گی وہی صراط مستقیم ہے۔
👇
ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے فان اٰمنوا بمثل ما اٰمنتم بہ فقد اھتدوا وان تولّوا فانّما ھم فی شقاق۔ اس آیت کریمہ میں حضرات صحابہ کرامؓ سے خطاب کر کے کہا گیا ہے کہ اگر باقی لوگ تمہارے جیسا ایمان لائیں گے تو ہدایت یافتہ ہوں گے ورنہ گمراہی میں مبتلا ہو جائیں گے۔
👇
ایک جگہ یہ کہا گیا ہے واتّبع سبیل من اناب الیّ کہ ان لوگوں کے راستے پر چلو جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک گئے ہیں۔
ایک مقام پر اس بات کا تذکرہ یوں ہے ویتّبع غیر سبیل المؤمنین نولّہ ما تولّی ونصلہ جھنم کہ جو لوگ مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راہ پر چل رہے ہیں 👇
وہ جہنم کی طرف جا رہے ہیں۔
ان آیات کریمہ میں اور ان جیسی دیگر بہت سی آیات میں ہدایت کا معیار اور ذریعہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقبول بندوں کو بتایا گیا ہے جن میں حضرات انبیاء کرامؑ اور صحابہ کرامؓ تو پہلے نمبر پر ہیں، ان کے ساتھ صدیقین، شہداء اور صالحین بھی اسی زمرہ میں ہیں کہ 👇
ہدایت اور ایمان کے لیے ان کی پیروی ضروری ہے اور ان کو راہ نما بنائے بغیر نہ ہدایت ملتی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا کوئی اور راستہ ملتا ہے۔
اہل السنۃ والجماعۃ کا مذہب یہی ہے کہ قرآن کریم ہدایت کا سب سے بڑا معیار اور سر چشمہ ہے لیکن👇
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی منشا و مراد کو سمجھنے کیلئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تعلیمات تک رسائی ضروری ہے۔ جبکہ آپؐ کی سنت و سیرت کو سمجھنے کے لیے صحابہ کرامؓ کی پیروی لازمی امر ہے اور اس کے بعد درجہ بدرجہ فقہاء امتؒ ، محدثین عظامؒ اور 👇
صالحین کے ساتھ ساتھ امت کا اجماعی تعامل بھی ہدایت و ایمان کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
قتل بالسبب (Qatl-bis-sabab) قتل کی وہ چوتھی قسم ہے جس میں کسی شخص کا ارادہ نہ تو کسی کو مارنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی کرنے کا، لیکن وہ کوئی ایسا غیر قانونی کام کرتا ہے جو بالواسطہ طور پر کسی کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
👇
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 321 کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت کے بغیر کوئی ایسا غیر قانونی فعل کرے جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اسے قتل بالسبب کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
کسی عوامی راستے یا دوسرے کی ملکیت میں بغیر اجازت گہرا گڑھا یا کنواں کھودنا 👇
جس میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے۔
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا پتھر رکھنا جس سے ٹکرا کر کسی کی جان چلی جائے۔
سزا (دفعہ 322):
دیت: اس جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص صرف دیت (مالی معاوضہ) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) یا قید کی سزا عام طور پر نہیں ہوتی 👇
قتلِ شبہ عمد قتل کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو نقصان یا چوٹ پہنچانے کی نیت تو ہو، لیکن اسے جان سے مارنے کا ارادہ نہ ہو، مگر وہ فعل یا ضرب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
اس کی قانونی اور شرعی تفصیلات یہ ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو جان بوجھ کر ایسی چیز (مثلاً ڈنڈا یا تھپڑ) سے 👇
مارے جس سے عام طور پر موت واقع نہیں ہوتی، لیکن اس کے نتیجے میں اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو اسے قتلِ شبہ عمد کہتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 315 میں اس کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
سزا
دیت: مجرم پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (مالی معاوضہ) ادا کرے👇
قید (تعزیر): دفعہ 316 کے تحت عدالت مجرم کو 25 سال تک قیدِ تعزیری کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
کفارہ: شرعی اعتبار سے قاتل پر کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے) بھی واجب ہوتا ہے۔
قتلِ عمد سے مراد وہ قتل ہے جو مکمل ارادے اور نیت کے ساتھ کیا گیا ہو، یعنی قاتل کا مقصد جان بوجھ کر کسی شخص کی جان لینا ہو۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 300 کے مطابق، اگر کوئی شخص اس نیت سے کوئی ایسا فعل کرے 👇
جس سے کسی کی موت واقع ہو جائے یا ایسی جسمانی چوٹ پہنچائے جو عام حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہو، تو اسے قتلِ عمد کہا جاتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): اس جرم کی سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی ہے۔
سزائیں:
قصاص: اس کا مطلب ہے "جان کے بدلے جان"۔ یہ اسلامی سزا ہے جہاں عدالت 👇
قاتل کو سزائے موت سناتی ہے۔
تعزیر (سزائے موت یا عمر قید): اگر قصاص کے شرائط (جیسے گواہی کا خاص معیار) پورے نہ ہوں، تو عدالت حالات کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے۔
حبسِ دوام (25 سال قید): بعض مخصوص حالات میں، جہاں قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، وہاں 25 سال تک قید کی سزا دی 👇
قتلِ خطا سے مراد وہ قتل ہے جو کسی شخص کے ارادے یا نیت کے بغیر محض غلطی (Mistake of fact or act) کی وجہ سے ہو جائے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو مارنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن کسی غلطی یا غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے، تو اسے قتلِ خطا کہا 👇
جاتا ہے۔
مثالیں:
نشانہ بازی یا شکار کے دوران گولی غلطی سے کسی انسان کو لگ جانا۔
ٹریفک حادثات، جہاں ڈرائیور کا ارادہ قتل کرنا نہ ہو مگر غفلت یا حادثے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو جائے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پاکستان کے قانون کی دفعہ 318 (Section 318) میں اس کی تعریف بیان کی گئی👇
ہے۔
سزا:
دیت: قاتل پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرے۔
کفارہ: شرعی طور پر قاتل پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔
قید: اگر قتل غفلت یا لاپروائی (Rash or negligent act) کی وجہ سے ہوا ہو، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت 5 سے 10 سال تک قید کی سزا بھی ہو 👇
دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 👇
2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے
قتلِ عمد میں قاتل پر دیت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قتلِ عمد میں قاتل کی شرعی سزا قصاص ہے ، اور قصاص صرف حکومت جاری کرسکتی ہے، البتہ اگرمقتول کے ورثاء قصاص معاف کرکے قاتل سے صلح کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم قتلِ عمد میں صلح کی صورت میں دیت کی مقدار پر 👇