مذہب کے ساتھ معاشرہ اور ریاست کے تعلق پر نظر ثانی اور سوسائٹی میں مذہب کے کردار کی حدود ازسرنو طے کرنے کا مشورہ دیا جانے لگا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص کے بدن میں ناسور پیدا ہونے پر اس کی جراحی کی ضرورت پیش آجائے تو کوئی دانشور یہ مشورہ دے کہ چونکہ اس ناسور کی وجہ 👇
وہ خوراک بنی ہے جو حلق کے راستے اس کے وجود کا حصہ بنی تھی اس لیے اس کی گردن ہی کاٹ دی جائے تاکہ بیماری کے اس سبب کا سرے سے خاتمہ ہو جائے۔ اس پر ایک کہاوت یاد آگئی ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بکری پانی پیتے ہوئے مٹکے میں اپنا سر پھنسا بیٹھی، لوگ اکٹھے ہوئے مگر 👇
انہیں مٹکے سے بکری کی پھنسی ہوئی گردن کو نکالنے کی کوئی صورت سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اتنے میں ایک دانشور آیا اور اس نے لوگوں کو پریشان دیکھ کر مشورہ دیا کہ اس کا آسان حل یہ ہے کہ بکری کو ذبح کر دیا جائے۔ چنانچہ بکری ذبح کر دی گئی لیکن سر پھر بھی اس کے اندر ہی رہا۔ پھر 👇
اس سمجھدار آدمی نے کہا کہ اب مٹکے کو توڑ دو۔ جب مٹکے کو توڑ کر بکری کا سر آزاد کرایا گیا تو اس نے لوگوں سے کہا تم کتنے خوش قسمت ہو کہ میرے جیسا سیانا تمہارے پاس موجود ہے ورنہ تم اس بکری کی گردن کو مٹکے سے کبھی نہیں نکال سکتے تھے۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
*آزمائش*
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بغیر آزمائش کے کوئی بندہ بشر اس دنیا سے رخصت نہیں ہوگا قرآن کے اس بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آزمائش کیا ہے یہ کیسا ہی امتحان کیوں نہ ہو کسی کو اس سے فرار نہیں اس لئے کہ بندہ اپنے علم و یقین کی جب خود گواہی دیتا ہے تو 👇
اس کی آزمائش اس کے اپنے علم و یقین کی اس کے بقدر ہوتی ہے۔
یقیناً آزمائش ایک مخصوص دورانیہ کی ہوتی ہے یعنی یہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی۔ آزمائش سے نبردآزما ہونے کے لئے سب سے اہم آزمائش کو سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ یہ لامحدود نہیں اور یہ یقین رکھنا کہ یہ دورانیہ اپنے مخصوص وقت تک 👇
محیط ہے یہ محیط کب تک ہے یہ غیب ہے بندہ اسے جاننے سے قاصر ہے چونکہ ہمیں آزمائش لاحق ہے تو ہمیں توبہ استغفار، ذکر و اذکار کرتے رہنا چاہئے اور دوا ، دعا کا بالخصوص باقاعدگی سے اہتمام کرنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے آزمائش کا دورانیہ سات سال تک طویل ہو جائے تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے، 👇
غزہ یا ہم، قرون اولیٰ کے وارث کون!
۔۔
آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں ہر چیز کو اپنی محدود عقل و علم پر پرکھتے ہوئے فیصلے صادر کرتے ہیں، لیکن دعوہ ہمارا مسلمانی ہے، کبھی اپنے آپ کو ایمان کی روشنی میں نہیں پرکھا ۔۔۔۔ غزہ برپا ہوا تو ۔۔ 👇
اہل دانش غلطی گردانے لگے کہ کمزور ہو کر طاقتور دشمن کو کیوں للکارا اپنے وطن و لوگوں کو تباہی کے راستے پر کیوں ڈالا، وہ جی فلاں کے مہرے تھے۔۔۔ ؟؟؟ ۔۔ لیکن پرکھو گر انکو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و قرآن حکیم کی روشنی میں تو گونگے بہرے ہو جائیں گے ۔۔۔ 👇
پرکھنا ہے تو پرکھو غزہ کو غزوہ بدر سے ۔۔ کتنی تلواریں، نیزے، سواریاں و ڈنڈے سوٹے تھے مسلمانوں کے پاس ۔۔۔ 313 اصحاب، 2 گھوڑے ، 70 اُونٹ 6 زرہیں اور 8 شمشیریں اور دشمن 1000 سے زائد نفوس، 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے، آج کا دانشور 👇
بھاری قرضے سے خلاصی
اللہ تعالی نے ”کلمہ طیبہ“ ”حمد“ اور تسبیح میں بڑی برکت رکھی ہے...بڑی تأثیر رکھی ہے...حضرت علامہ عبدالرحمن الجوزی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:-
حضرت شیخ ابوبکر بن حماد المقری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں...میں نے 👇
حضرت امام معروف الکرخی رحمہ اللہ تعالی سے عرض کیا......حضرت! مجھ پر بہت بڑا بھاری قرضہ چڑھ گیا ہے...حضرت نے فرمایا: میں آپ کو ایسی دعاء بتا دیتا ہوں جس سے اللہ تعالی آپ کا قرضہ اتار دیں گے...آپ 👇
روزانہ سحری کے وقت پچیس بار یہ دعاء پڑھا کریں
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً......
حضرت شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ عمل کیا تو 👇
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل منافقین کے بارے میں یہ تھا کہ چند معروف منافقین کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی صفوں میں موجود ان منافقین کی نشاندہی تک نہیں کی گئی۔ انہیں الگ کرنے اور معاشرتی طور پر انہیں علیحدہ قرار دینا تو بعد کی بات ہے، اس سے قبل ان کی جو نشاندہی 👇
ضروری قرار پاتی ہے اس کا مرحلہ بھی نہیں آیا۔ جناب نبی اکرمؐ نے صرف چودہ منافقین کے نام بتائے اور وہ بھی صرف حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو، اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان میں سے کسی کا نام اور کسی کو نہیں بتائیں گے۔ حتٰی کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے انہیں کئی بار کرید کر پوچھنا چاہا مگر 👇
حضرت حذیفہؓ نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو بھی ان میں سے کسی منافق کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ جس پر حضرت عمرؓ نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا کہ کسی عام شخص کے جنازے پر اگر حضرت حذیفہؓ موجود ہوتے تو حضرت عمرؓ جنازہ پڑھتے تھے ورنہ یہ سوچ کر جنازہ پڑھنے سے گریز کرتے تھے کہ 👇