وہ اس تہذیب و معاشرہ سے اس طرح متاثر ہوئے کہ ان کے دل و دماغ، اعصاب اور ساری فکری صلاحیتیں اس سے وابستہ ہو گئیں۔۱۲؍ اکتوبر ۱۸۷۰ء میں وہ اس تہذیب کے گرویدہ اور ہندوستان کی مسلم سوسائٹی میں ان اقدارا ور اصولوں کی بنیاد پر اصلاح و تغیّر کے پرجوش داعی اور 👇
مبلّغ بن کر اپنے ملک واپس ہوئے اور پورے خلوص اور گرم جوشی کے ساتھ انھوں نے اس تحریک و دعوت کا علم بلند کیا اور اپنی ساری صلاحیتیں اور قوتیں اس کے لیے وقف کردیں۔ ان کا نقطۂ نظر خالص مادی ہو گیا۔ وہ مادی طاقتوں اور کائناتی قوتوںکے سامنے بالکل سر نگوں نظر آنے لگے۔ 👇
وہ اپنے عقیدہ اور قرآن مجید کی تفسیر بھی اسی بنیاد پر کرنے لگے۔ انھوں نے اس میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ عربی زبان و لغت کے مسلّمہ اصول و قواعد اور اجماع و تواتر کے خلاف کہنے میں بھی ان کو باک نہ رہا۔ چنانچہ ان کی تفسیر نے دینی وعلمی حلقوں میں سخت برہمی پیدا کردی۔‘‘👇
[[مسلم ممالک میں اسلامیت و مغربیت کی کش مکش،مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ،۲۰۰۳ئ،طبع پنجم،،ص۹۹]
سرسید حدیث،اجماع اور قیاس وغیرہ کو اصول دین میں شامل نہیں سمجھتے۔ انہوں نے بقول مولانہ حالی اپنے جدید علم کلام کا موضوع اور اسلام کا حقیقی مصداق 👇
صرف قرآن مجید کو قرار دیا اور اس کے سوا تمام مجموعہ احادیث کو اس دلیل سے کہ ان میں کوئی حدیث مثل قرآن کے قطعی الثبوت نہیں اور تمام علماء ومفسرین کے اقوال و آراء اور تمام فقہاءو مجتہدین کے قیاسات و اجتہادات کو اس بنا پر کہ ان کے جوابدہ خود علماء و مفسرین اور فقہا و مجتہدین ہیں 👇
نہ کہ اسلام اپنی بحث سے خارج کر دیا۔ ( حالی، مولاناالطاف حسین، حیات جاوید،لاہور،ھجرہ انٹرنیشنل،1984ء،حصہ اول، ص 231)
چنانچہ سرسید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر ایک فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘ جس میں 👇
نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘ نہ ہی جنت ودوزخ کا کہیں نشان ہے اور نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور معجزات وکرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں۔
سرسید کی نیت خواہ کتنی ہی نیک رہی ہو مگر ان کے افکار کسی ٹھوس علمی بنیاد سے محروم تھے۔ انھیں خود پتہ نہ تھا کہ 👇
جن تصورت کو وہ اٹل حقائق سمجھ رہے تھے، ان کی حیثیت ان کے زمانے کی مغربی تہذیب کے متروکہ ردی مواد سے زیادہ نہ تھی، اور اسے بھی زمانے کی ہوا نے جلد ہی ہباء منثور کر دیا۔
سرسید نے روایتی علوم کی تعلیم نہیں پائی تھی۔ مابعد الطبیعیاتی شعور کا فقدان ان کے ہاں بالکل واضح ہے لہٰذا 👇
دیگر دینی روایتوں اور تہذیبوں میں فطرت کے تصورات کا علم تو ایک طرف رہا، ان کو مسلمانوں کے کونیاتی علوم اور بالخصوص فطرت سے متعلق علوم کا بھی قرار واقعی علم نہ تھا۔ مسلمانوں کے لیے دلِ دردمند کے ہاتھوں مجبور ہو کر اصلاحِ معاشرہ کی دھن میں پیروئ مغرب میں ایسے جتے کہ اور 👇
بہت سے خیالات کی طرح انھوں نے فطرت کے بارے میں بھی مغرب سے بعض چلتے ہوئے نظریات لیے اور انھیں ادھ کچرا ہی نگل گئے، اور ان کی بنیاد پر تفسیر قرآن سے لے کر سیاست و سماجیات تک اپنے افکار کی عمارت اٹھا دی. ڈاکٹر ظفر حسن کی تحقیق یہ ہے کہ فطرت کے برے بھلے جو بھی 👇
رائج الوقت معانی رہے ہوں سرسید اور دوسرے ’’نیچری‘‘ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ لفظ نیچر انگریزی میں کتنے معانی رکھتا ہے۔ [دیباچہ سرسید و حالی کا نظریہ فطرت]۔
سرسید کے چند اہم معاصر ہم خیالوں اور متبعین میں مولوی چراغ علی اور سید امیر علی شامل ہیں، پھر ذرا آگے چل کر 👇
سر سید کے مکتبہ خیال سے متعلق نمایاں نام محمد علی لاہوری اور غلام احمد پرویز، اسلم جیراج پوری ہیں۔
*آزمائش*
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بغیر آزمائش کے کوئی بندہ بشر اس دنیا سے رخصت نہیں ہوگا قرآن کے اس بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آزمائش کیا ہے یہ کیسا ہی امتحان کیوں نہ ہو کسی کو اس سے فرار نہیں اس لئے کہ بندہ اپنے علم و یقین کی جب خود گواہی دیتا ہے تو 👇
اس کی آزمائش اس کے اپنے علم و یقین کی اس کے بقدر ہوتی ہے۔
یقیناً آزمائش ایک مخصوص دورانیہ کی ہوتی ہے یعنی یہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی۔ آزمائش سے نبردآزما ہونے کے لئے سب سے اہم آزمائش کو سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ یہ لامحدود نہیں اور یہ یقین رکھنا کہ یہ دورانیہ اپنے مخصوص وقت تک 👇
محیط ہے یہ محیط کب تک ہے یہ غیب ہے بندہ اسے جاننے سے قاصر ہے چونکہ ہمیں آزمائش لاحق ہے تو ہمیں توبہ استغفار، ذکر و اذکار کرتے رہنا چاہئے اور دوا ، دعا کا بالخصوص باقاعدگی سے اہتمام کرنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے آزمائش کا دورانیہ سات سال تک طویل ہو جائے تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے، 👇
غزہ یا ہم، قرون اولیٰ کے وارث کون!
۔۔
آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں ہر چیز کو اپنی محدود عقل و علم پر پرکھتے ہوئے فیصلے صادر کرتے ہیں، لیکن دعوہ ہمارا مسلمانی ہے، کبھی اپنے آپ کو ایمان کی روشنی میں نہیں پرکھا ۔۔۔۔ غزہ برپا ہوا تو ۔۔ 👇
اہل دانش غلطی گردانے لگے کہ کمزور ہو کر طاقتور دشمن کو کیوں للکارا اپنے وطن و لوگوں کو تباہی کے راستے پر کیوں ڈالا، وہ جی فلاں کے مہرے تھے۔۔۔ ؟؟؟ ۔۔ لیکن پرکھو گر انکو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و قرآن حکیم کی روشنی میں تو گونگے بہرے ہو جائیں گے ۔۔۔ 👇
پرکھنا ہے تو پرکھو غزہ کو غزوہ بدر سے ۔۔ کتنی تلواریں، نیزے، سواریاں و ڈنڈے سوٹے تھے مسلمانوں کے پاس ۔۔۔ 313 اصحاب، 2 گھوڑے ، 70 اُونٹ 6 زرہیں اور 8 شمشیریں اور دشمن 1000 سے زائد نفوس، 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے، آج کا دانشور 👇
بھاری قرضے سے خلاصی
اللہ تعالی نے ”کلمہ طیبہ“ ”حمد“ اور تسبیح میں بڑی برکت رکھی ہے...بڑی تأثیر رکھی ہے...حضرت علامہ عبدالرحمن الجوزی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:-
حضرت شیخ ابوبکر بن حماد المقری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں...میں نے 👇
حضرت امام معروف الکرخی رحمہ اللہ تعالی سے عرض کیا......حضرت! مجھ پر بہت بڑا بھاری قرضہ چڑھ گیا ہے...حضرت نے فرمایا: میں آپ کو ایسی دعاء بتا دیتا ہوں جس سے اللہ تعالی آپ کا قرضہ اتار دیں گے...آپ 👇
روزانہ سحری کے وقت پچیس بار یہ دعاء پڑھا کریں
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً......
حضرت شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ عمل کیا تو 👇
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل منافقین کے بارے میں یہ تھا کہ چند معروف منافقین کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی صفوں میں موجود ان منافقین کی نشاندہی تک نہیں کی گئی۔ انہیں الگ کرنے اور معاشرتی طور پر انہیں علیحدہ قرار دینا تو بعد کی بات ہے، اس سے قبل ان کی جو نشاندہی 👇
ضروری قرار پاتی ہے اس کا مرحلہ بھی نہیں آیا۔ جناب نبی اکرمؐ نے صرف چودہ منافقین کے نام بتائے اور وہ بھی صرف حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو، اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان میں سے کسی کا نام اور کسی کو نہیں بتائیں گے۔ حتٰی کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے انہیں کئی بار کرید کر پوچھنا چاہا مگر 👇
حضرت حذیفہؓ نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو بھی ان میں سے کسی منافق کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ جس پر حضرت عمرؓ نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا کہ کسی عام شخص کے جنازے پر اگر حضرت حذیفہؓ موجود ہوتے تو حضرت عمرؓ جنازہ پڑھتے تھے ورنہ یہ سوچ کر جنازہ پڑھنے سے گریز کرتے تھے کہ 👇