ایک تو ہوتا ہے عقل کے خلاف ہونا اور ایک ہوتا ہے ماورائے عقل۔ دراصل دونوں میں خلط ملط کرنے سے ایک بہت بڑی غلط فہمی ہوتی ہے، عقل کے خلاف اس چیز کو کہیں گے کہ اس کے اتنے سے کوئی عقلی محال لازم آجائے اور عقل اس کے باطل ہونے پر دلیل دیتی ہو👇
اس کو خلاف عقل کہتے ہیں انگریزی میں Impossible کہتے ہیں اور ایک ہوتا ہے، ماورائے عقل یعنی عقل کے پاس اس کے باطل کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے، لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے بھی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس کو اس کی نظیر نہیں ملتی، اس لیے اس کووہ اجنبی چیز محسوس ہوتی ہے اور 👇
حیرت انگیر بات لگتی ہے جسے آپ Improbable کہہ سکتے ہیں، چوں کہ عقل کو اس بات پر تجربہ نہیں ہوتا۔ اس واسطہ اس کو عجیب سے معلوم ہوتی ہے، اس لیے نہ اس کے پاس اس کے اثبات کا ذریعہ تو دونوں میں بہت فرق ہے Impossible الگ اور Improbable الگ۔ اب یہ ہوتا ہے کہ وحی کی طرف سے 👇
کوئی ایسی بات تو نہیں کہہ جاسکتی جو کہ Impossible ہو یعنی عقل کی دلیل کے خلاف لیکن ایسا ہوسکتا ہے کہ وحی مبین کوئی ایسی بات ہو جو کہImprobable یعنی عقل کی پرواز سے اوپر ہو اور وہ بالکل عین فطری بات ہے جس طرح پر کہ میں نے کہا کہ حواس خمسہ کے دائرہ کے بعد عقل کا دائرہ 👇
شروع ہوتا ہے کہ جس چیز کا حواس خمسہ ادراک نہیں کرسکتے، عقل اس کا ادراک کرسکتی ہے تو اسی طرح جس چیز کا عقل ادراک نہیں کرسکتی، اور اس کا دائرہ وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، وہاں عقل سے نہیں پہنچا جاسکتا ہے اور وحی اس کا علم عطا کرتی ہے، اگرچہ وہ بعض اوقات اچنبھی معلوم ہوتی ہے، 👇
بعض اوقات حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات اجنبی سی لگتی ہے۔👇
مثال کے طور پر وحی نے ہمیں بتایا کہ اوپر آسمان ہے اب ہمارے حواس خمسہ تو آسمان کو نہیں دیکھتے اور عقل اس تک نہیں پہنچتی، ہمیں جو نظر آرہا ہے یہ تو آسمان نہیں ہے۔ ظاہر ہے یہ جدنگاہ ہے جو ہمیں نیلا نیلا نظر آتا ہے تو اس واسطے موجودہ بہت سے سائنس دان یہ کہتے ہیں کہ آسمان ہے ہی نہیں👇
جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ آسمان کا وجود نہیں ہے تو یہ بات نہیں ہے کہ آسمان کے نہ ہونے کے وجود پر کوئی دلیل قائم ہوگئی ہے کہ یعنی دلیل ان کو مل گئی ہے جس کی بناء پر وہ ثابت نہیں ہوا یا یہ کہ اس کی نفی پر کوئی دلیل قائم کردی ہو، ایسا نہیں ہوا تو اس واسطے اگر وحی یہ کہتی ہے کہ آسمان ہے
اور لوگ کہتے ہیں کہ صاحب ہمیں نظر نہیں آرہا، نہ آنکھوں سے نظر آتا ہے، نہ ہماری عقل کہتی ہے کہ یہ کوئی ضروری چیز ہے کہ آسمان ہو، لیکن ساتھ ہی عقل کے اعتبار سے وہ کوئی دلیل بھی ایسی قائم نہیں کرسکتے جس کی بناء پر یہ کہا جائے کہ آسمان موجود نہیں ہوسکتا، ممکن نہیں اور 👇
آسمان کا وجود Impossible ہے آسمان کا وجود نہیں ہے۔ ہاں یہ کہ ہماری اپروچ (پہنچ) وہاں نہیں ہوسکتی، ہوسکتا ہے کہ بعد میں اپروچ ہوجائے یہاں پر اس قسم کی کوئی بات ہے تو وہ حواس خمسہ یا عقل کے ماورا کوئی بات ہے، لیکن عقل اس کے عدم وجود پر کوئی دلیل نہ پیش کرسکی۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
*آزمائش*
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بغیر آزمائش کے کوئی بندہ بشر اس دنیا سے رخصت نہیں ہوگا قرآن کے اس بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آزمائش کیا ہے یہ کیسا ہی امتحان کیوں نہ ہو کسی کو اس سے فرار نہیں اس لئے کہ بندہ اپنے علم و یقین کی جب خود گواہی دیتا ہے تو 👇
اس کی آزمائش اس کے اپنے علم و یقین کی اس کے بقدر ہوتی ہے۔
یقیناً آزمائش ایک مخصوص دورانیہ کی ہوتی ہے یعنی یہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی۔ آزمائش سے نبردآزما ہونے کے لئے سب سے اہم آزمائش کو سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ یہ لامحدود نہیں اور یہ یقین رکھنا کہ یہ دورانیہ اپنے مخصوص وقت تک 👇
محیط ہے یہ محیط کب تک ہے یہ غیب ہے بندہ اسے جاننے سے قاصر ہے چونکہ ہمیں آزمائش لاحق ہے تو ہمیں توبہ استغفار، ذکر و اذکار کرتے رہنا چاہئے اور دوا ، دعا کا بالخصوص باقاعدگی سے اہتمام کرنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے آزمائش کا دورانیہ سات سال تک طویل ہو جائے تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے، 👇
غزہ یا ہم، قرون اولیٰ کے وارث کون!
۔۔
آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں ہر چیز کو اپنی محدود عقل و علم پر پرکھتے ہوئے فیصلے صادر کرتے ہیں، لیکن دعوہ ہمارا مسلمانی ہے، کبھی اپنے آپ کو ایمان کی روشنی میں نہیں پرکھا ۔۔۔۔ غزہ برپا ہوا تو ۔۔ 👇
اہل دانش غلطی گردانے لگے کہ کمزور ہو کر طاقتور دشمن کو کیوں للکارا اپنے وطن و لوگوں کو تباہی کے راستے پر کیوں ڈالا، وہ جی فلاں کے مہرے تھے۔۔۔ ؟؟؟ ۔۔ لیکن پرکھو گر انکو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و قرآن حکیم کی روشنی میں تو گونگے بہرے ہو جائیں گے ۔۔۔ 👇
پرکھنا ہے تو پرکھو غزہ کو غزوہ بدر سے ۔۔ کتنی تلواریں، نیزے، سواریاں و ڈنڈے سوٹے تھے مسلمانوں کے پاس ۔۔۔ 313 اصحاب، 2 گھوڑے ، 70 اُونٹ 6 زرہیں اور 8 شمشیریں اور دشمن 1000 سے زائد نفوس، 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے، آج کا دانشور 👇
بھاری قرضے سے خلاصی
اللہ تعالی نے ”کلمہ طیبہ“ ”حمد“ اور تسبیح میں بڑی برکت رکھی ہے...بڑی تأثیر رکھی ہے...حضرت علامہ عبدالرحمن الجوزی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:-
حضرت شیخ ابوبکر بن حماد المقری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں...میں نے 👇
حضرت امام معروف الکرخی رحمہ اللہ تعالی سے عرض کیا......حضرت! مجھ پر بہت بڑا بھاری قرضہ چڑھ گیا ہے...حضرت نے فرمایا: میں آپ کو ایسی دعاء بتا دیتا ہوں جس سے اللہ تعالی آپ کا قرضہ اتار دیں گے...آپ 👇
روزانہ سحری کے وقت پچیس بار یہ دعاء پڑھا کریں
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً......
حضرت شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ عمل کیا تو 👇
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل منافقین کے بارے میں یہ تھا کہ چند معروف منافقین کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی صفوں میں موجود ان منافقین کی نشاندہی تک نہیں کی گئی۔ انہیں الگ کرنے اور معاشرتی طور پر انہیں علیحدہ قرار دینا تو بعد کی بات ہے، اس سے قبل ان کی جو نشاندہی 👇
ضروری قرار پاتی ہے اس کا مرحلہ بھی نہیں آیا۔ جناب نبی اکرمؐ نے صرف چودہ منافقین کے نام بتائے اور وہ بھی صرف حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو، اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان میں سے کسی کا نام اور کسی کو نہیں بتائیں گے۔ حتٰی کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے انہیں کئی بار کرید کر پوچھنا چاہا مگر 👇
حضرت حذیفہؓ نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو بھی ان میں سے کسی منافق کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ جس پر حضرت عمرؓ نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا کہ کسی عام شخص کے جنازے پر اگر حضرت حذیفہؓ موجود ہوتے تو حضرت عمرؓ جنازہ پڑھتے تھے ورنہ یہ سوچ کر جنازہ پڑھنے سے گریز کرتے تھے کہ 👇