Muddassar Rashid Profile picture
Sep 28, 2020 12 tweets 3 min read Read on X
تحریک آزادی کے ممتاز رہنما مولانا محمد علی قصوریؒ کے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ جس زمانے میں مولانا شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سربراہ تھے انہی دنوں یوپی کے انگریز گورنر سرجان ہیرٹ نے انہیں بلا کر پیشکش کی کہ اگر ندوہ کے نصاب میں حدیث رسولؐ کو لازمی کی 👇
بجائے اختیاری مضمون قرار دے دیا جائے اور قرآن کریم کی تعلیم کے نصاب سے سورہ انفال، سورہ توبہ، سورہ ممتحنہ اور سورہ صف کو نکال دیا جائے تو انگریزی حکومت ندوۃ العلماء لکھنؤ کو ایک لاکھ روپے سالانہ گرانٹ دینے کے لیے تیار ہے۔ مگر مولانا شبلی نعمانی ؒ نے یہ پیشکش قبول کرنے سے 👇
انکار کر دیا۔ مولانا شبلی نعمانی ؒ کا انتقال ۱۹۱۴ء میں ہوا تھا اور یہ اس سے پہلے کا قصہ ہے۔ اس سے اندازہ کر لیجیے کہ اس وقت کے ایک لاکھ روپے آج کے حساب سے کتنی رقم بنتی ہوگی اور انگریز حکمران ان معاملات میں کس قدر حساس اور سنجیدہ تھے۔ انگریز حکمرانوں کے لیے تشویش کی بات 👇
یہ تھی کہ ’’درس نظامی‘‘ کے جس نصاب و نظام کو انہوں نے ۱۸۵۷ء کے بعد یکسر ختم کر دیا تھا اور اس نظام کو چلانے والے ہزاروں مدارس بند کر کے ان کی جائیدادیں اور بلڈنگیں ضبط کرلی تھیں، وہ چند درویش صفت علماء کی مخلصانہ جدوجہد کی بدولت ایک متوازی نظام کی صورت میں نہ صرف قائم رہا بلکہ👇
دن بدن ترقی کرتے ہوئے دنیا کی تمام استعماری قوتوں کے لیے ایک علمی اور فکری چیلنج کی حیثیت اختیار کر گیا۔👇
دوسری طرف سر سید احمد خان مرحوم نے انگریزی زبان اور مغربی علوم کی بنیاد پر جس جدید نظام تعلیم کی بنیاد رکھی تھی اور فکر کی آزادی کے نام پر قرآن و سنت کی نت نئی تعبیرات و تشریحات کا جو بیڑا اٹھایا تھا وہ عام مسلمانوں کو ہضم نہ ہوا اور جدید تعلیم کا نظام راسخ العقیدہ اور 👇
دیندار مسلمانوں کے تعاون کے بغیر آگے بڑھتا نظر نہ آیا۔ اس لیے وہاں بھی مذہبی معاملات کی باگ ڈور ہر دور میں علماء ہی کے ہاتھ میں دینا پڑی جس کی وجہ سے علی گڑھ کا نظام تعلیم جدید تعلیم کا مرکز تو بن گیا مگر اسلام کی جدید تعبیر و تشریح کا فلسفہ اس نظام میں ایڈجسٹ نہ ہو سکا۔ 👇
اس طرح اس جدید نظام تعلیم میں بھی دین اسلام کی جو تھوڑی بہت تعلیم شامل کی گئی وہ سر سید احمد خانؒ کے فلسفے کے بجائے علماء کرام اور امت کے اجماعی عقیدہ و تعامل کے مطابق تھی اور اس کو پڑھانے اور چلانے کے لیے بھی علماء کے روایتی طبقہ سے افراد کار فراہم کیے گئے۔ چنانچہ 👇
علی گڑھ محمڈن کالج میں، جو بعد میں یونیورسٹی کہلایا، شعبہ دینیات کے پہلے سربراہ حضرت مولانا عبد اللہ انصاریؒ تھے جو دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے داماد اور اپنے وقت کے بڑے عالم دین تھے۔ انہی مولانا عبد اللہ انصاریؒ کے بیٹے مولانا منصور انصاریؒ 👇
تحریک آزادی میں امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے دست راست تھے۔ مولانا منصور انصاریؒ کے فرزند مولانا حامد انصاری معروف کتاب ’’اسلام کا نظام حکومت‘‘ کے مصنف ہیں اور ان کے بیٹے ڈاکٹر عابد اللہ غازی آج کل شکاگو امریکہ میں اسلامی تعلیمات کے ایک بڑے پراجیکٹ کے نگران ہیں۔ 👇
علی گڑھ اور اس کی طرز پر چلنے والے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اگرچہ دینی تعلیم کا مواد بہت کم چلا آرہا ہے مگر جتنا بھی ہے اس کی بنیاد جدید فکر و فلسفہ کی بجائے قدیم روایت پر ہے جو پاکستان کے قیام کے بعد بھی بدستور قائم ہے اور 👇
اس میں دینی حلقوں کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے کچھ اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں ہو سکی۔

ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد

تاریخ اشاعت: 

۱۱ مئی ۲۰۰۱ء

اصل عنوان: 

قرآن کے شیدائی

@rashdigrw

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Muddassar Rashid

Muddassar Rashid Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Muddassar04

Feb 10
قتل بالسبب (Qatl-bis-sabab) قتل کی وہ چوتھی قسم ہے جس میں کسی شخص کا ارادہ نہ تو کسی کو مارنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی کرنے کا، لیکن وہ کوئی ایسا غیر قانونی کام کرتا ہے جو بالواسطہ طور پر کسی کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
👇
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 321 کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت کے بغیر کوئی ایسا غیر قانونی فعل کرے جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اسے قتل بالسبب کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
کسی عوامی راستے یا دوسرے کی ملکیت میں بغیر اجازت گہرا گڑھا یا کنواں کھودنا 👇
جس میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے۔
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا پتھر رکھنا جس سے ٹکرا کر کسی کی جان چلی جائے۔
سزا (دفعہ 322):
دیت: اس جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص صرف دیت (مالی معاوضہ) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) یا قید کی سزا عام طور پر نہیں ہوتی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ شبہ عمد قتل کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو نقصان یا چوٹ پہنچانے کی نیت تو ہو، لیکن اسے جان سے مارنے کا ارادہ نہ ہو، مگر وہ فعل یا ضرب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
اس کی قانونی اور شرعی تفصیلات یہ ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو جان بوجھ کر ایسی چیز (مثلاً ڈنڈا یا تھپڑ) سے 👇
مارے جس سے عام طور پر موت واقع نہیں ہوتی، لیکن اس کے نتیجے میں اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو اسے قتلِ شبہ عمد کہتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 315 میں اس کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
سزا
دیت: مجرم پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (مالی معاوضہ) ادا کرے👇
قید (تعزیر): دفعہ 316 کے تحت عدالت مجرم کو 25 سال تک قیدِ تعزیری کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
کفارہ: شرعی اعتبار سے قاتل پر کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے) بھی واجب ہوتا ہے۔
Read 4 tweets
Feb 10
قتل عمد کسے کہتے ہیں؟

قتلِ عمد سے مراد وہ قتل ہے جو مکمل ارادے اور نیت کے ساتھ کیا گیا ہو، یعنی قاتل کا مقصد جان بوجھ کر کسی شخص کی جان لینا ہو۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 300 کے مطابق، اگر کوئی شخص اس نیت سے کوئی ایسا فعل کرے 👇
جس سے کسی کی موت واقع ہو جائے یا ایسی جسمانی چوٹ پہنچائے جو عام حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہو، تو اسے قتلِ عمد کہا جاتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): اس جرم کی سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی ہے۔
سزائیں:
قصاص: اس کا مطلب ہے "جان کے بدلے جان"۔ یہ اسلامی سزا ہے جہاں عدالت 👇
قاتل کو سزائے موت سناتی ہے۔
تعزیر (سزائے موت یا عمر قید): اگر قصاص کے شرائط (جیسے گواہی کا خاص معیار) پورے نہ ہوں، تو عدالت حالات کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے۔
حبسِ دوام (25 سال قید): بعض مخصوص حالات میں، جہاں قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، وہاں 25 سال تک قید کی سزا دی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ خطا سے مراد وہ قتل ہے جو کسی شخص کے ارادے یا نیت کے بغیر محض غلطی (Mistake of fact or act) کی وجہ سے ہو جائے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو مارنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن کسی غلطی یا غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے، تو اسے قتلِ خطا کہا 👇
جاتا ہے۔
مثالیں:
نشانہ بازی یا شکار کے دوران گولی غلطی سے کسی انسان کو لگ جانا۔
ٹریفک حادثات، جہاں ڈرائیور کا ارادہ قتل کرنا نہ ہو مگر غفلت یا حادثے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو جائے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پاکستان کے قانون کی دفعہ 318 (Section 318) میں اس کی تعریف بیان کی گئی👇
ہے۔
سزا:
دیت: قاتل پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرے۔
کفارہ: شرعی طور پر قاتل پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔
قید: اگر قتل غفلت یا لاپروائی (Rash or negligent act) کی وجہ سے ہوا ہو، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت 5 سے 10 سال تک قید کی سزا بھی ہو 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتل خطا پر دیت کی مقدار

دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 👇
2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے
قتلِ عمد میں قاتل پر دیت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قتلِ عمد میں قاتل کی شرعی سزا قصاص ہے ، اور قصاص صرف حکومت جاری کرسکتی ہے، البتہ اگرمقتول کے ورثاء قصاص معاف کرکے قاتل سے صلح کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم قتلِ عمد میں صلح کی صورت میں دیت کی مقدار پر 👇
Read 4 tweets
Aug 6, 2025
علماء ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ نسب
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﻧﮯ
👇 Image
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﻧﮯ
👇
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﺳﮯ
ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﺳﮯ
ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﻧﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﻧﮯ
👇
Read 10 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us!

:(