ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ ایک پڑھے لکھے کھاتے پیتے گھرانے سے تھیں۔ لندن اور جرمنی میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان میں آ کے ڈاکٹر کی خدمت کے فرائض انجام دئیے
محبت ہوۂی تو ڈاکٹر صاحب سے شادی کر لی
ڈاکٹر صاحب نے وقت گزرنے کے بعد ایک اور شادی کر لی اور
1👇
اور مرحومہ ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کی ساری جائیداد اپنے نام کر لی
رفعت بی بی کو کسی چیز کی کمی تو نھیں تھی سوائے محبت کے.
مگر ڈاکٹر صاحب سے انہیں وہ محبت بھی نہ ملی
ڈاکٹر صاحب اپنی دوسری بیوی کو لے کے یورپ میں شفٹ ھو گئے
رفعت سلطانہ کی حالت غیر ہو رہی تھی
پھر ایک دن فون پہ
2👇
رابطہ ہوا یا خط موصول ہوا۔خدا بہتر جانتا، مگر ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کو طلاق مل گئی اور انہیں ایک جملہ کہا گیا کہ میں تمہیں اتنا کنگال کر آیا ہوں کہ اب تم ایک روپے کو بھی ترسو گی
پھر راولپنڈی سے 30 کلومیٹر دور ایک خوبصورت شہر واہ کینٹ میں رفعت سلطانہ کو بھیک مانگتے دیکھا
3👇
مرحومہ کی ایک ہی صدا ہوتی تھی
ایک روپہ دے دیں
ساتھ ہی دوسری صدا لگتی
پلیز گیو می ون روپی
اگر کوئی پانچ روپے دیتا تو مرحومہ پرس میں سے چار روپے نکال کے واپس کر دیتیں اور بولتیں
بسس ایک روپیہ ہی چاھئیے
پھر ایک دن خبر ملی کہ ایک روپے والی آنٹی انتقال کر گئی بہت دکھ ہوا
شہر
4👇
شہر کے سکولز کو چھٹی دے دی گئی۔ دکانیں بند کر دی گئیں۔
پروٹوکول ایسا تھا کہ مرحومہ پی او ایف ہوٹل میں بھی چائے پینے چلی جاتی تھی
5✍️
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
سان فرانسسکو میں کل ایک تاریخی لمحہ آیا جب سٹی اٹارنی نے میڈیا کے سامنے آ کر Pringles کا ڈبہ ہاتھ میں اٹھایا اور اعلان کیا
"ہم ان کمپنیوں پر مقدمہ کر رہے ہیں جو الٹرا پروسیسڈ فوڈ بیچتی ہیں"
یہ صرف قانونی کارروائی نہیں یہ عوامی صحت کا اعلانِ جنگ ہے
وہی کھانے جنہیں ہم چپس
1👇
نمکو، نوڈلز کہتے ہیں، جو بچوں کے لنچ باکس میں ہوتے ہیں
جو ہر دکان، ہر اشتہار، ہر سکرین پر نظر آتے ہیں وہی جو پاکستان، انڈیا، اور ہر ملک میں ہر جگہ عام ہیں
اٹارنی کا مؤقف
یہ کھانے اب سگریٹ کی طرح خطرناک سمجھے جا رہے ہیں
کیوں؟
یہ کھانے پکائے نہیں جاتے، انجینئر کیے جاتے ہیں
2👇
یہ غذا نہیں، نشہ ہیں، addiction پیدا کرتے ہیں
کمپنیاں نقصان جانتی تھیں، پھر بھی بیچتی رہیں
یہ جسم کو تباہ کرتے ہیں
موٹاپا شوگر دل کی بیماریاں
دماغی دھند (brain fog)
بچوں میں hyperactivity اور attention issues
جیسے سگریٹ کی تاریخ تھی
پہلے کہا گیا
"کوئی مسئلہ نہیں"
ایچ پی وی ویکسین ایک حفاظتی ٹیکہ ہے جو ہیومن پیپیلوما وائرس سے بچاؤ کے لیے لگایا جاتا ہے
یہ وائرس بہت عام ہے
اس کی کچھ اقسام درج ذیل بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں
1۔ خواتین میں سروائیکل کینسر (رحمِ مادر کے نچلے حصے کا کینسر)
1👇
2۔ مردوں اور خواتین میں (anal) کینسر
3۔ مردوں اور خواتین حلق اور منہ کا کینسر
4۔ مردوں میں عضو تناسل کا کینسر
5۔ جنسی اعضاء پر مسے (Genital warts)
ویکسین لگوانے سے جسم وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے، یوں یہ بیماریوں سے بچاؤ فراہم کرتی ہے
یہ ویکسین جسم کو وائرس کے خلاف
2👇
مدافعتی نظام (immune system) تیار کرنے میں مدد دیتی ہے
عام طور پر یہ 9 سے 14 سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں کو تجویز کی جاتی ہے
برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ اور عرب ممالک میں یہ کئی سالوں سے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو لگائی جا رہی ہے
تاہم ان ممالک
عربی زبان میں سب سے خوبصورت لفظ "اللہ" ہے
اس کے تمام حروف حلق سے ادا ہوتے ہیں، نہ کہ ہونٹوں سے، کیونکہ اس میں کوئی نقطہ نہیں ہے
آپ اللہ کا تلفظ کریں
آپ اس کے حروف کو اپنے حلق کے پچھلے حصے سے ادا کرتے ہیں، بغیر ہونٹوں کو حرکت دیے
اگر کوئی شخص اللہ کا
1👇
کا ذکر کرنا چاہے تو اس کے آس پاس کے لوگ اسے محسوس بھی نہیں کر سکتے
اس نام کا ایک اور معجزاتی پہلو یہ ہے کہ اگر اس کے کچھ حروف نکال دیے جائیں، تب بھی اس کا مطلب باقی رہتا ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں، یہ الٰہی نام عمومی طور پر ‘اللّٰهُ’ (Allahُ) کے ساتھ بولا جاتا ہے
2👇
اگر ہم پہلا حرف (الف) ہٹا دیں، تو یہ ‘لِلّٰهِ’ (Lillah) بن جاتا ہے، جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں ہے
وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ
(اور اللہ ہی کے لیے سب اچھے نام ہیں، سو ان سے اسے پکارو۔) (سورۃ الأعراف: 180)
ایک خاتون نے نہایت دلچسپ سوال کیا
کہنے لگیں
" تارڑ صاحب میں نے آپ کا حج کا سفرنامہ ”منہ ول کعبے شریف“ پڑھا ہے جس میں آپ نے اپنی بیگم کا تذکرہ اِس طرح کیا ہے جیسے وہ آپ کی بیوی نہ ہو گرل فرینڈ ہو“
میں نے مسکراتے ھُوئے کہا کہ
”خاتون جب میں اپنے سفرناموں میں
1👇
غیرمنکوحہ خواتین کا تذکرہ کرتا تھا تب بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے اور اب اگر اپنی منکوحہ کے ساتھ چہلیں کرتا ہوں تو بھی اعتراض ہوتا ہے۔ اگر آخری عمر میں بالآخر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ھُوں تو بھی آپ کو منظور نہیں“
وہ خاتون نہایت پُرمسرت انداز میں کہنے لگیں
2👇
”آخری عمر میں ہی کیوں؟“
میں نے انہیں تو جواب نہیں دیا محض مسکرا دیا لیکن میں آپ کو رازداں بناتا ھُوں۔
آخری عمر میں بیوی کے عشق میں مبتلا ہو جانا ایک مجبوری ہے کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس بھلی مانس نے مجھ پر بہت احسان کیے۔ میری بے راہرو حیات کو برداشت
مردوں نے تو یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم عورتوں کو کھانا کپڑا دیتے ہیں بس اسی سے سارا حق ادا ہوگیا اور اسکے بعد جو کچھ حقوق ہیں عورتوں ہی کے ذمہ ہیں ہمارے ذمہ کچھ نہیں، مگر میں کہتا ہوں کہ تمہارے کھانے کپڑے کے عوض میں تمہاری بیویاں اس قدر خدمت کرتی ہیں
1👇
کہ اتنی تنخواہ میں کوئ نوکر یا ماما ہرگز نہیں کرسکتی۔ جس کو شک ہو وہ تجربہ کرکے دیکھ لے۔ بیوی کے بغیر گھر کا انتظام چل ہی نہیں سکتا چاہے تم لاکھ خادم رکھو
ہم نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے جن کی معقول تنخواہ تھی مگر بیوی نہ تھی
نوکروں کے ہاتھ سے خرچ ہوتا تھا تو انکے گھر کا خرچ اس
2👇
قدر بڑھا ہوا تھا جسکی کچھ حد نہیں اور پھر جب انہوں نے نکاح کیا پھر گھر کا انتظام ٹھیک ہوا
میں کہتا ہوں اگر بیوی کچھ بھی گھر کا کام نہ کرے صرف انتظام اور دیکھ بھال ہی کرے تو یہی اتنا بڑا کام ہے جسکی دنیا میں بڑی بڑی تنخواہیں ہوتی ہیں اور انتظام کرنے والے کی بڑی عزت و قدر کی
چرس اور بھنگ پینے کے فوائد کا علم صرف اسی کو ہو سکتا ہے جو ان کا فائدہ اٹھاتا ہے، یہ اس نعمت سے محروم لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ ایسے لوگ تو بس ان نعمتوں کے خلاف کیے جانے والے غلط پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنا اور معاشرے کا نقصان ہی کر سکتے ہیں
1👇
چرس اور بھنگ ہمیں عاجزی اور انکساری سکھاتی ہیں
ہمیں دیالو بناتی ہے
ہم دولت کے خزانوں کو اپنے تک محدود رکھنے کی بجائے انہیں دوسروں میں بانٹنے والے بن جاتے ہیں
چرس پینے والے شریف لوگ مل جل کر پیتے ہیں
ایک سگریٹ ہوتا ہے اور سارے مل کر پی رہے ہوتے ہیں
ایک یا دو کش لگاتے ہیں اور
2👇
اگلے ساتھی کو پیش کر دیتے ہیں
ایک سگریٹ ختم ہوتا ہے اور دوسرا بھرنا شروع کر دیتے ہیں
اور یہی عمل جاری رہتا ہے جب تک چرس ختم نہیں ہو جاتی یا پولیس کا چھاپہ نہیں پڑ جاتا۔
چرس آپ کو دھیما بولنا، دوسروں کے معاملات میں دخل نہ دینا اور پرامن طریقے سے چوری کرنا سکھاتی ہے
چرس پینے