تازہ ترین سرگوشیوں کے مطابق ارشد شریف کا قتل نواز شریف زرداری اور رانا ثناءاللہ کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ جس کی ذمہ داری کامران ٹیسوری کو دی گئ تھی جو کینیا میں ایم کیو ایم کے مفرور قاتلوں کا لمبا چوڑا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ فارم ہاؤس ایم کیو ایم کے لوگوں کی ملکیت ہے #ArshadSharif
جہاں ارشد شریف کو لے جایا گیا اور تشدد کا نشانہ بنا کر نزدیک سے گولیاں ماری گئ۔ کینیا پولیس کے لوگ صرف کور کے لیے ہائیر کیے گئے۔ کامران ٹیسوری کو گورنر کا عہدہ اس وقت دیا گیا تھا جب اس نے یہ ٹاسک پورا کرنے کی یقین دہانی کرائ تھی۔ رقم کی ادائیگی لندن سے ہوئ اور دو دن پہلے
ایم کیو ایم کے لوکل باڈیز الیکشن سے متعلق تمام مطالبات مانے جا چکے ہیں۔
رانا ثناءاللہ کی طبیعت بگڑنے اور زرداری کے پالتو اقرار الحسن کو دو گولیاں ملنے کو آپ ان سرگوشیوں سے کنکٹ کریں تو کہانی سمجھ جائیں گے۔
تریموں یعنی جھنگ سے نیچے والوں کے پاس تقریبا چوبیس گھنٹے ہیں کیونکہ قادر آباد سے چار لاکھ کیوسک تریموں کیلئے چھوڑا جا چکا ہے۔ سول ڈیفنس اور انتظامیہ بارہ گھنٹے پہلے اطلاع دینا شروع کرتی ہے کہ بیٹ کے علاقے خالی کر دیں تب تک بیٹ میں پانی بھرنا شروع ہو چکا ہوتا ہے ایک ہی وقت
ساری آبادی کی نقل و حمل راستوں میں دشواری بھی پیدا کرتی ہے اور پینک بھی ہوتا ہے اسلیے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے دوستوں رشتہ داروں کو ابھی سے مطلع کریں کہ اپنا سازو سامان ڈھور ڈنگر فلڈ بند پر منتقل کرنا شروع کر دیں۔ بچوں اور خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔ خواتین اور
بچوں کے ساتھ ساتھ سامان اور جانوروں کو اکٹھا منتقل کرنا دشوار بھی ہوتا ہے پھر وقت پر کنوینس بھی نہیں ملتی یا لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں
ہمارے پاس پانی نہیں آئے گا فلاں سال میں بھی نہیں آیا تھا جیسی ذہنیت چھوڑ دیں۔ بچوں خواتین اور جانوروں کی منتقلی کے بعد مرد باآسانی گھروں بستیوں
The worst case scenario is happening.
دو دن پہلے کسی بڑی اچیومنٹ کی طرح خبریں دی جا رہی تھی کہ انڈیا نے باضابطہ طور پر پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ ہم توی میں ڈھائ لاکھ کیوسک پانی چھوڑیں گے جبکہ 9 بجے کی سرکاری رپورٹ کے مطابق پورے پنجاب میں انڈیا کی جانب سے مجموعی طور پر 8 لاکھ
کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ مرالہ سے پنجند تک تمام بیٹ کے علاقے ایک ہی وقت میں متاثر ہوں گے۔ راوی اور ستلج میں کیونکہ پچھلے دس سال سے اتنی بڑی مقدار میں پانی نہیں آ رہا تھا تو خواص نے ڈی ایچ اے اور بحریہ بنائے عوام دریاؤں کے بیڈ میں بستیاں اور بازار بسا کر بیٹھ
گئ۔
اب امتحان عاصم منیر کا ہے کہ کیسے کم سے کم نقصان کے ساتھ یہ سارا پانی پورے پنجاب سے گزارا جاتا ہے۔
انڈیا شاید کوئ جنگی حماقت تو نا کرے مزید پانی چھوڑ دیا تو رانی اور رانے کا گھر سیلاب سے ہی ڈوب جائے گا۔
عاصم منیر اور بائیس بہادر اور کریں عمران خان کو فکس۔
اگلے تین سال
فیلڈ مارشل کے شیخ چلی والے خواب جو بذریعہ سلوموشن بھونپو زبان زد عام ہوئے فل فلیج بیک فائر کر گئے۔۔۔۔
غیر اہم نکتہ نمبر 2....
شریفوں زرداریوں بیماریوں سمیت سب کو سافٹ میسج دیا گیا کہ شاید میرے صدر اور سالا شریف کے
وزیراعظم بننے کی صورت کچھ نا کچھ رعایت مل جائے عمران خان کے باہر آنے کی صورت میں کولہو میں پلوائے جانے کیلئے تیار ہو جاؤ۔۔۔۔۔
غیر اہم نکتہ نمبر تین۔۔۔۔۔۔
اچکزئ کی بطور لیڈر آف اپوزیشن تعیناتی روکنے کیلئے ساری پی ٹی آئی کا جرنیلی جانگیے میں گھسنا اتنا ہی برا ایکسپوز ہوا جتنا
فیلڈ مارشل کا پچاس سالہ اقتداری پنگھوڑا لہذا اپنے کتے سوری پیادے بچانے کیلئے ڈائیورشن ضروری تھی دس ضمانتیں منظور ہو گئ حالانکہ پرچوں کی تعداد ڈھائ سو ہے۔
غیر اہم نکتہ نمبر 4.....
بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں اور گورننس کا بھیانک فیلئیر اتنا شدید ہے کہ سوشل میڈیا کا
آج انڈیا کی جانب سے مرالہ ہیڈورکس پر ایک لاکھ اسی ہزار کیوسک پانی چھوڑ دیا گیا چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب کی آمد ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے اس آبی دہشتگردی اور اس سے جڑے چند واہمے موضوع گفتگو تھے۔ ممکنہ نقشہ اور خدشات کچھ ان نقاط کے ساتھ زیر بحث رہے کہ
فضائیہ کی جانب سے
بھارتی طیاروں کا نقصان مودی حکومت کے جوڑوں میں بیٹھا ہوا ہے اس مدعے پر بھارتی اپوزیشن اور خود مودی کی پارٹی مودی پر سخت تنقید اور اس ضمن میں لیے جانے والے کچھ استعفے
رافیل کے نقصان پر یورپ سے تعلقات میں گشیدگی
برکس کی وجہ سے آج لگنے والے امریکی ٹیرف کی بناء پر انڈین معیشت کو
جھٹکا
اس سے قبل ٹرمپ کی جانب سے امریکی کمپنیز سے انڈینز کی بیدخلی اور ایران کی جانب سے انڈینز کو لگائ گئی لات مودی کیسے کاؤنٹر کرے گا۔
دوسری جانب پاکستانی مارشلوں کی گردن تک عوام سے جکڑ بندی انہیں مودی کی صف میں لا کھڑا کر رہی ہے۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ انڈین جوتشیوں اور
علیمہ خان نے کہا قاسم اور سلیمان آ رہے ہیں دھمکیاں جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
نواز شریف نے کہا ملک ترقی کی راہ پر ہے جلسے جلوسوں لانگ مارچ کی اجازت نہیں دے سکتے۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا۔۔
ان تینوں خبروں کا خلاصہ۔۔۔۔
مارشل لاء کی خیبر سے پشاور تک
پھٹی پڑی ہے امریکیوں کو یہ بھی دکھانا ہے کہ ہم جمہوریت بحال کر رہے ہیں۔
لہذا قریشی کو چھوڑ دیا ہے۔
قاسم اور سلیمان کی آمد پر بڑے عوامی سیلاب کے ہاتھوں کتوں کی طرح بھاگنے سے بچنا چاہتے خود سامنے آنا نہیں چاہتے لہذا ٹاکی شاکی مار کر پھپھوندی زدہ امرتسری بابو سے بیان دلوایا کہ جلسے
جلوسوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی تاکہ کسی بھی ایڈونچر کی ذمہ داری مریم نواز پر ڈال کر عوام سے اسکے چیتھڑے اڑوائے جا سکیں۔
اور وہ ٹلی عورت اقتدار سے چمٹے رہنے کیلئے بخوشی اپنی بوٹیاں کروانے کو تیار بھی ہے۔
اس سارے سناریو کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو شاید یوتھیوں کو برا لگے
کارکنان اور لیڈرز کو نو مئی میں سزا ہو گئ۔
چند جرنیل ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر ہو گئے۔
پہلی خبر کارکنان کے حوصلے پست کرنے کیلئے بنائ گئی
دوسری خبر ٹھنڈی ہواؤں کا چورن بیچنے کی کوشش ہے۔
اخے ادارے میں دراڑ پڑی ہوئ ہے۔
غیرت کا رنگ میرے خیال میں سرخ ہوتا ہے خون جیسا۔۔۔۔۔۔۔ یہ کسی خاکی رنگ میں ملبوس نہیں ہوسکتی۔
میں سمجھتی ہوں کچھ خاص جگہوں سے خاص انداز میں خاص خبریں کچھ خاص لوگوں کو اس طرح
فیڈ کی جاتی ہیں کہ وہ انہیں 'لیک" لگیں۔ اور ایسا ہر اس موقع پر ہوتا ہے جب عوام میں کوئی خاص مومینٹم بننے کے امکانات ہوں اور اسے نقصان پہنچا کر بننے سے پہلے ہی توڑنا ہو۔
مندرجہ بالا تمام لیک خبریں اسی امکان کو تقویت پہنچاتی نظر آتی ہیں۔
ابھی دس روز باقی ہیں مداریوں کی پٹاری سے