فہیم الرحمن آذر

بات سن میرے یار، سمجھا کر
جا رہی ہے بہار، سمجھا کر

بکھرے بالوں سے بدگماں ہیں لوگ
زلف اپنی سنوار، سمجھا کر

قتل ِ مسلم حرام ہے پیارے
کم کر اپنا خُمار، سمجھا کر

ہجر کے داغ، وصل کی شب میں
چھوڑ، مت کر شمار، سمجھا کر

#اردو_زبان

+
دوسرے کام کی نہیں فرصت
عشق سر پر سوار، سمجھا کر

کاٹ کے میرا سر کہا اُس نے
اے مرے جاں نثار، سمجھا کر

آج کی شام روک لے اس کو
دل ہے کچھ بے قرار سمجھا کر

++

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Sadeed Ullah Khan Jano

Sadeed Ullah Khan Jano Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @sad_eed_khan

Nov 20
"فہمیدہ ریاض"

زبانوں کا بوسہ

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

#اردو_زبان

1/3
تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

2/3
کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

3/3
Read 4 tweets
Nov 20
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
انشاء اللہ انشاء

#اردو_زبان #قومى_زبان

جرأت نابینا تھے۔ ایک روز بیٹھے فکر سخن کررہے تھے کہ انشاءؔ آگئے۔ انہیں محو پایا تو پوچھا، ’’حضرت کس سوچ میں ہیں؟‘‘

جرأت نے کہا، ’’کچھ نہیں، بس ایک مصرعہ ہوا ہے۔ شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔‘‘
1/3
انشاءؔ نے عرض کیا، ’’کچھ ہمیں بھی پتہ چلے۔‘‘

جرأت نے کہا، ’’نہیں! تم گرہ لگاکر مصرعہ مجھ سے چھین لوگے‘‘ آخر بڑے اصرار کے بعد جرأت نے بتایا مصرعہ تھا۔

’’اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی‘‘

2/3
انشاءؔ نے فوراً گرہ لگائی، ’’اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی‘‘

جرأت لاٹھی اٹھاکر انشاءؔ کی طرف لپکے۔ دیر تک انشاءؔ آگے اور جرأت پیچھے پیچھے انہیں ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے

3/3
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(