سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ دو اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں، بحیثیت چیف جسٹس ساڑھے چھہ سال کے طویل دور میں کوئی مثبت کام نہیں کرپاۓ جسے اچھے الفاظ میں یاد رکھا جاۓ گا۔1/6
کوئی لینڈ مارک ججمنٹ لکھ سکے اور نہ ہی انتظامی معاملات ٹھیک رکھے، سینئر ججز سے تنازعہ رہا، بروقت سپریم کورٹ ایلیویٹ ہوجاتے تو کئی سینئر ججز جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس عقیل عباسی چیف جسٹس بنتے، جسٹس احمد علی شیخ کے سپریم کورٹ کے جانے میں اہلیت رکاوٹ آگئی,2/6
ریٹائر ہورہے ہیں تو چار دن پہلے تک الوداعی فل کورٹ ریفرنس طے نہیں ہو پارہا ، خدشہ ہے سینئر ججز شریک نہیں ہوں گے، سندھ ہائی کورٹ بار اب تک کوئی الوداعی پروگرام نہیں طے کرسکی، حتٰی کہ جسٹس احمد علی شیخ کی مدت بار لاڑکانہ بار نے بھی اب تک کوئی الوداعی پروگرام کا اعلان نہیں کیا،3/6
ان کے سامنے کئی آئینی اہم مقدمات آے مگر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی حیثیت سے کوئی بڑا فیصلہ نہیں دے سکے، مفاد عامہ کے مقدمات میں صرف تاریخیں ہی پڑتی رہیں،بینچز کی تشکیل ایسی کہ دوسرے بینچز کو بھی مقدمات نمٹانے میں مشکلات کا سامنا رہا،4/6
سندھ بھر کی عدالتوں میں غیر قانونی بھرتیوں کا الزام بھی اپنے سر لے کر جارہے ہیں ، سپریم کورٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا مقدمہ زیر التوا ہے۔ 5/6
ریٹائر ہورہے ہیں تو چار دن پہلے تک الوداعی فل کورٹ ریفرنس طے نہیں ہو پارہا ، خدشہ ہے سینئر ججز شریک نہیں ہوں گے، ایک قوم پرست تنظیم سے وابسطہ رہے اور ملک مخالف سرگرمیوں کا مقدمہ بھی درج ہوا مگر داغ ایسے دھلے کہ نشاں تک نہ رہا۔6/6
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh