How to get URL link on X (Twitter) App

ستمبر 2023 میں عمران ریاض دوبارہ منظر عام پر آیا پھر کچھ عرصے بعد روپوش ہوگیا ۔ اسی دوران موساد نے فیصلہ کیا کہ عمران ریاض کو برطانیہ منقتل کردیا جائے اور RAW کے افسر راجیف–K17 اور موساد کے لوجسٹک سیل نے بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے کی ذیلی تنظیم فتنہ الہندوستان کے ذریعے ایک خفیہ کوریڈور کھولا۔ اس پیچیدہ مگر منظم روٹ کا آغاز گوادر سے ہوتا تھا، جہاں سے پسنی تک اسمگلروں کا سمندری راستہ استعمال کیا گیا۔ پسنی سے قافلہ دشت اور پھر سرانان کی وادیوں میں داخل ہوتا، جہاں بی ایل اے کے سیف ہاؤسز پہلے سے فعال تھے۔ 

اگلی صبح جب سورج نے پہاڑوں کے عقب سے جھانکنا شروع کیا تو گاؤں کے چند افراد رمبیارا ندی کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ندی بہت چھوٹی سی تھی، شاید چند انچ گہری، جس میں ایک بچہ بھی مشکل سے ڈوب سکتا تھا۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ پانی میں کچھ پھنسے ہوئے کپڑوں کے رنگ نظر آرہے ہیں۔ جب قریب جا کر دیکھا تو یہ منظر انہیں پتھر کا بنا گیا۔ وہاں دو اجساد پڑے تھے—آسیہ جان اور نیلوفر جان کی لاشیں تھیں۔ ادھ کھلی آنکھیں جیسے مدد کی منتظر تھیں۔ جسموں پر بکھری مٹی اور پانی ان کی ہولناک حالت کو مزید واضح کر رہے تھے۔
اس بس کے شیشے دھندلے سے تھے مگر اندر قہقہے اور خوشی کے نغمے سنائی دے رہے تھے۔ مرد حضرات نے دروازے کے پاس بیٹھ کر گرما گرم کشمیری چائے پر گفتگو شروع کردی۔ نوجوان دوست ڈھولکی پر ٹپے لگا رہے تھے اور بیچ بیچ میں جشن کا سماں بنائے ہوئے تھے۔ راستہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، مگر سب کو یقین تھا کہ حکومت کی جانب سے ملے کرفیو پاس انہیں کسی بھی روک ٹوک سے محفوظ رکھیں گے۔
ایک وقت تھا جب عادل راجہ اپنے یوٹیوب چینل پر صبح شام لمبی لمبی تقریریں کیا کرتا، اپنے آپ کو “حق پرست مجاہد” ثابت کرتا، اور دِن میں کئی کئی وڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا۔ اس کی شہرت چل نکلی تو اس نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچانے کی کوشش میں طرح طرح کے دعوے کیے۔ ہر نئی وڈیو میں مزید سنسنی خیزی اور سازشی نظریات کا تڑکا لگاتا۔ کہتے ہیں کہ اسی دوران اس نے سبین کیانی نامی خاتون سے کسی طرح کا معاہدہ کیا تھا، جو اس کی پشت پر مالی مددگار تھی۔
کئی بار اسے اپنے ہی دوستوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا بھی گیا۔ معید نے بعد میں بیرون ملک سے بھی تعلیم حاصل کی مگر قوم لوط کا عمل نہ چھوڑ سکا۔ امریکہ میں قیام کے دوران معید کو قدم قدم پر معاشی اور رہائشی مسائل نے گھیر لیا۔ نہ یہاں کوئی قریبی رشتے دار، نہ کوئی مستقل نوکری کا سامان۔ بس ایک دوست کا سہارا تھا جو برسوں پہلے پاکستان سے تعلق کی بنیاد پر اُس کے ساتھ ہمدردی رکھتا تھا۔ وہ دوست، جس کا نام فرضی طور پر "فراز" ہی کہہ لیجیے، ایک متحرک اور مثبت سوچ رکھنے والا انسان تھا۔ فراز نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ ایک دن امریکہ کی پُرسکون سڑکوں اور آرام دہ ماحول میں بس جائے گا۔ اس نے برسوں محنت کی، چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں، طرح طرح کی مشکلات دیکھی تھیں۔ اب جاکر اُس نے تھوڑا سکون کا سانس لیا تھا اور اپنی محنت سے ایک چھوٹا سا گھر خرید لیا تھا، جو گو کہ حویلی تو نہ تھا، مگر رہنے کے لیے کافی آرام دہ تھا۔
یہ محض ایک تعلیمی موقع نہیں تھا بلکہ اس کے لیے ترقی کی سیڑھی تھی۔ سرکاری اخراجات پر اسے اچھی تعلیم دی گئی، حتیٰ کہ اس کی بہنوں کو بھی ریاست نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ بلوچستان میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جہاں سرکاری اداروں نے ضرورت مند طلباء کو ان کے معاشرتی پس منظر کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنے میں مدد دی۔ لیکن ماہرنگ کا پس منظر ایک عام طالبہ کا نہیں تھا۔
یہ زمانہ ہوگا ڈیجیٹل غلامی کا، جہاں کسی کی مقبولیت، روزی، اور کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ دجال کے حق میں کتنا بولتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک نئی دوڑ شروع ہوگی، جس میں لوگ دجال کی حمایت میں جھوٹے وی لاگز بنائیں گے، جذباتی کہانیاں گھڑیں گے، اور اپنے فالوورز کو یقین دلائیں گے کہ یہی شخص دنیا کا سب سے بڑا رہنما ہے۔
جیسے ہی حملہ ہوا:
یہ سب کچھ دو ہفتے پہلے برطانیہ میں گولڈ اسمتھ گینگ کے خفیہ اجلاس میں طے پایا تھا۔ میٹنگ کے میزبان وہی حربیار مری تھا، جسے بھارت اور مغربی قوتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ کمرے میں بیٹھے افراد میں پی ٹی آئی کے لوگ ، بھارتی "را" کے افسران، افغان طالبان کے نمائندے، اور کچھ مغربی تھنک ٹینکس کے اہلکار شامل تھے۔
بحث کا آغاز آکسفورڈ یونین کے صدر اسرار کاکڑ کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے کہا: