Adv Sahiba Rana Profile picture
Executive Member Gujranwala Bar, Lawyer By Profession, Loyal By Passion, Wonderer Woman, Humanity First.
Jun 20, 2025 6 tweets 6 min read
عمران ریاض برطانیہ کیسے پہنچا اصل کہانی

بلوچستان کے علاقے تربت کے مضافات میں ایک غیر نمایاں فارم ہاؤس ہے ۔ یہاں 2022ء کے آخر میں بھارتی RAW کا فیلڈ افسر، کوڈ نیم راجیف–K17 ، موساد کے رابطہ کار یِعیل بن شاؤل کے ساتھ خفیہ ملاقات کرتا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستانی اینکر عمران ریاض بھی شامل تھا ۔ بظاہر ایک اسٹوری پر کام کرنے والا صحافی، مگر پسِ پردہ پراجیکٹ ان ڈو کے لیئے بھرتی ہونے والا نیا مہرہ۔ یہ مہم اس خیال پر اُٹھی کہ طاقتور پاکستانی فوج کو میدان میں نہیں، ذہنوں میں شکست دو۔

پہلا مرحلہ فروری 2023ء میں اسلام آباد سے شروع ہوا، جہاں بظاہر ایک میڈیا اسٹریٹجی ورکشاپ کے نام پر ایک اجلاس منعقد کیا گیا، جو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کے زیرِ انتظام ایک فیک تھنک ٹینک کا کور تھا۔ اس ورکشاپ میں عمران ریاض کو یوٹیوب چینل کی عالمی سطح پر برانڈنگ، لندن کے فینٹم پروڈکشن ہاؤس سے اسپانسرشپ، اور آزادیٔ اظہار کے نام پر لامحدود فنڈنگ کی پیشکش کی گئی۔

یہیں سے عمران ریاض کے کیمرے کے پیچھے اصل ہدایت کاروں کا کنٹرول شروع ہوا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک مخصوص بیانیہ تیار کرنا تھا جس میں فوجی قیادت پر براہِ راست تنقید، قومی اداروں کے خلاف مایوسی پھیلانا، اور عالمی اداروں کی زبان دہرا کر نوجوان ذہنوں کو متاثر کرنا شامل تھا۔ اس شہرت کو ہوا دینے کے لیے SEO بوٹس، جعلی فالورز، ٹرول فیکٹریز اور ٹرینڈ واریئرز کا ایک پورا نیٹ ورک استعمال کیا گیا، جن کا ڈیجیٹل سراغ بعد میں بھارتی شہر پونے سے ملنے والے سٹیلائٹ ٹریفک اور IP لاگز سے ملا۔

پھر ایک روز عمران ریاض لاپتہ ہوگیا اور 👇Image
Image
ستمبر 2023 میں عمران ریاض دوبارہ منظر عام پر آیا پھر کچھ عرصے بعد روپوش ہوگیا ۔ اسی دوران موساد نے فیصلہ کیا کہ عمران ریاض کو برطانیہ منقتل کردیا جائے اور RAW کے افسر راجیف–K17 اور موساد کے لوجسٹک سیل نے بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے کی ذیلی تنظیم فتنہ الہندوستان کے ذریعے ایک خفیہ کوریڈور کھولا۔ اس پیچیدہ مگر منظم روٹ کا آغاز گوادر سے ہوتا تھا، جہاں سے پسنی تک اسمگلروں کا سمندری راستہ استعمال کیا گیا۔ پسنی سے قافلہ دشت اور پھر سرانان کی وادیوں میں داخل ہوتا، جہاں بی ایل اے کے سیف ہاؤسز پہلے سے فعال تھے۔

یہاں سے عمران ریاض کو خفیہ طور پر ایرانی سرحد پار کرا کے سیستان منتقل کیا گیا، جہاں موساد نے حال ہی میں Node-C4 کے نام سے ایک نیا انٹیلیجنس اسٹیشن قائم کیا تھا۔ اسی مقام پر عمران ریاض کو ایرانی پاسپورٹ پر عمران ناصری کے جعلی نام کے ساتھ نئی شناخت دی گئی۔ صرف 48 گھنٹوں کے اندر اندر، ایک مہربند خفیہ کارگو فلائٹ کے ذریعے اسے تہران سے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ منتقل کیا گیا یہ وہی پرانا طیارہ تھا جو ماضی میں شام اور یمن میں موساد کے اسلحہ ڈراپس کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔Image
Image
Apr 26, 2025 17 tweets 11 min read
29 مئی 2009 کی رات بھارتی فوج نے کشمیر میں17 سال کی آسیہ اور 22 سالہ کی نیلو فر کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ۔ وہ ساری رات اس کیساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے. ان دونوں کا تعلق ڈسٹرکٹ شوپیاں کے گاؤں بونگام سے تھا۔
دونوں بہنیں نہ تھیں لیکن آپس میں بہت گہرا رشتہ رکھتی تھیں،نیلوفر شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں تھی ۔ آسیہ جان اور نیلوفر جان اپنے خاندانی باغ سے واپس آرہی تھیں۔لیکن شاید یہ دونوں لڑکیاں نہیں جانتی تھیں کہ ان کیساتھ کیا ہونے والا ہے ۔

رات ڈھلنے لگی تو گھر میں بےچینی اور تشویش نے سر اٹھانا شروع کردیا۔ آسیہ اور نیلوفر کے گھر والوں نے پہلے تو سوچا کہ شاید وہ کسی پڑوسی کے گھر چلی گئی ہوں گی، لیکن جب کافی دیر تک ان کا اتا پتا نہ ملا تو سب ہکا بکا رہ گئے۔ لمحہ لمحہ بھاری لگنے لگا۔ گاؤں کے کچھ نوجوانوں نے لالٹینیں لے کر ادھر ادھر تلاش شروع کی، مگر رات کے گھپ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہ دیا۔Image
Image
اگلی صبح جب سورج نے پہاڑوں کے عقب سے جھانکنا شروع کیا تو گاؤں کے چند افراد رمبیارا ندی کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ندی بہت چھوٹی سی تھی، شاید چند انچ گہری، جس میں ایک بچہ بھی مشکل سے ڈوب سکتا تھا۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ پانی میں کچھ پھنسے ہوئے کپڑوں کے رنگ نظر آرہے ہیں۔ جب قریب جا کر دیکھا تو یہ منظر انہیں پتھر کا بنا گیا۔ وہاں دو اجساد پڑے تھے—آسیہ جان اور نیلوفر جان کی لاشیں تھیں۔ ادھ کھلی آنکھیں جیسے مدد کی منتظر تھیں۔ جسموں پر بکھری مٹی اور پانی ان کی ہولناک حالت کو مزید واضح کر رہے تھے۔Image
Apr 26, 2025 22 tweets 12 min read
18 مئی 1990 کی رات بھارتی فوج نے کشمیر میں خون سے لت پت نئی نویلی دلہن مبینہ غنی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ۔ وہ ساری رات اس کیساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے۔ مبینہ کی اسی روز رخصتی تھی ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب زندگی نے مبینہ کے سامنے اپنا بدترین روپ عیاں کیا۔ چند گھنٹے پہلے وہ دلہن بنی، مہندی سے سجے ہاتھوں اور آنکھوں میں سپنوں کی کہکشاں بسائے اپنے نئے گھر کی دہلیز پار کرنے کو بے تاب تھی۔ مگر اب اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کس قیامت میں پھنس چکی ہے۔

مبینہ کا تعلق موہری پورہ مقبوضہ کشمیر سے تھا ان کی شادی لیزر۔چاول گام کے عبدالرشید ملک سے طے پائی تھی یہ سارا خاندان بہت خوش تھا۔ بھارتی فورس کی چوکیاں جا بجا قائم ہیں اس لئے شادی بیاہ کے موقع پر پہلے اجازت لینا لازمی ہوتی ہے اور اکثر بھارتی فوج بغیر اطلاع کرفیو نافذ کردیتی ہے جس سے کشمیریوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس روز عبدالرشید ملک جب بارات لیکر آرہے تھے انہوں نے مقامی انتظامیہ سے پیشگی کرفیو پاس لے لیے تھے۔

رات کے تقریباً آٹھ بجے، رشید اپنے قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ ایک بس میں سوار ہوا۔Image اس بس کے شیشے دھندلے سے تھے مگر اندر قہقہے اور خوشی کے نغمے سنائی دے رہے تھے۔ مرد حضرات نے دروازے کے پاس بیٹھ کر گرما گرم کشمیری چائے پر گفتگو شروع کردی۔ نوجوان دوست ڈھولکی پر ٹپے لگا رہے تھے اور بیچ بیچ میں جشن کا سماں بنائے ہوئے تھے۔ راستہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، مگر سب کو یقین تھا کہ حکومت کی جانب سے ملے کرفیو پاس انہیں کسی بھی روک ٹوک سے محفوظ رکھیں گے۔
Apr 16, 2025 9 tweets 5 min read
ریجنٹ اسٹریٹ کے قریب واقع ایک قدیم عدالتی عمارت کے باہر آج غیر معمولی گہماگہمی تھی۔ برطانیہ کی عدالت میں ایک ہنگامہ خیز کیس کا فیصلہ سنایا جانے والا تھا، جس کے مرکزی کردار تھے: خودساختہ سیاسی مبصر اور یوٹیوب سنسنی بننے والے عادل راجہ، اور دوسرے فریق برگیڈیئر (ر) راشد۔
عدالت کا ماحول بارُعب تھا۔ لکڑی کی کندہ کاری والے بینچز کے درمیان پولیس کی موجودگی بتا رہی تھی کہ معاملہ محض ہتکِ عزت تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ تہہ دار ہو چکا ہے۔

گزشتہ سال اپریل 2024 میں برطانیہ ہی کی اسی عدالت نے عادل راجہ پر دس ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا تھا۔ اُس وقت عادل نے بڑے یقین سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ “عدلیہ کے فیصلے کو چیلنج کریں گے” اور “سچ جلد سامنے آ جائے گا۔” مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ معاملہ صرف اتنا تھا کہ عادل نے برگیڈیئر راشد پر طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگائے اور پاکستان کے خلاف مغلظات بکی تھیں، جن کی وجہ سے برگیڈیئر راشد نے برطانوی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آج اسی مقدمے میں ایک اور مرحلہ سر ہونے والا تھا۔Image ایک وقت تھا جب عادل راجہ اپنے یوٹیوب چینل پر صبح شام لمبی لمبی تقریریں کیا کرتا، اپنے آپ کو “حق پرست مجاہد” ثابت کرتا، اور دِن میں کئی کئی وڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا۔ اس کی شہرت چل نکلی تو اس نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچانے کی کوشش میں طرح طرح کے دعوے کیے۔ ہر نئی وڈیو میں مزید سنسنی خیزی اور سازشی نظریات کا تڑکا لگاتا۔ کہتے ہیں کہ اسی دوران اس نے سبین کیانی نامی خاتون سے کسی طرح کا معاہدہ کیا تھا، جو اس کی پشت پر مالی مددگار تھی۔

اِن ہی وڈیوز سے ملنے والا اشتہاراتی ریونیو اور سبین کیانی کی اقتصادی پشت پناہی نے عادل کی زندگی میں ظاہری خوشحالی بھردی۔ وہ کبھی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رُکنے لگ گیا، کبھی بیرونِ ملک کے چکّر۔ لیکن ہر عروج کو زوال ہے — اور کسی بھی عمارت کی بنیاد جب جھوٹ پر رکھی جائے تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔
Apr 10, 2025 22 tweets 11 min read
معید پیرزادہ کی سچی کہانی

معید پیرزادہ 27 جولائی 1966 کو راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔اسکول کے دنوں میں اسے دین سے شدید نفرت تھی۔ مسجد کے قریب سے گزرتے ہی اس کے چہرے پر طنز بھرا مسکراہٹ آ جاتی۔ دور طالبعلمی میں Gay کی چھاپ ہو یا امریکہ میں دوست کے گھر میں رہ کر اسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے جیسا مکروہ کام ۔ معید پیرزادہ نے ہمیشہ نیچ پن کی انتہا پر جانے میں کوئی کمی نہیں رکھی ۔ معید پیرزادہ کو جب علامہ اقبال میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تو ان کا اصل کردار کھل کر سامنا آیا اور وہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے یہاں تک کہ 👇Image کئی بار اسے اپنے ہی دوستوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا بھی گیا۔ معید نے بعد میں بیرون ملک سے بھی تعلیم حاصل کی مگر قوم لوط کا عمل نہ چھوڑ سکا۔ امریکہ میں قیام کے دوران معید کو قدم قدم پر معاشی اور رہائشی مسائل نے گھیر لیا۔ نہ یہاں کوئی قریبی رشتے دار، نہ کوئی مستقل نوکری کا سامان۔ بس ایک دوست کا سہارا تھا جو برسوں پہلے پاکستان سے تعلق کی بنیاد پر اُس کے ساتھ ہمدردی رکھتا تھا۔ وہ دوست، جس کا نام فرضی طور پر "فراز" ہی کہہ لیجیے، ایک متحرک اور مثبت سوچ رکھنے والا انسان تھا۔ فراز نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ ایک دن امریکہ کی پُرسکون سڑکوں اور آرام دہ ماحول میں بس جائے گا۔ اس نے برسوں محنت کی، چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں، طرح طرح کی مشکلات دیکھی تھیں۔ اب جاکر اُس نے تھوڑا سکون کا سانس لیا تھا اور اپنی محنت سے ایک چھوٹا سا گھر خرید لیا تھا، جو گو کہ حویلی تو نہ تھا، مگر رہنے کے لیے کافی آرام دہ تھا۔
Mar 24, 2025 9 tweets 4 min read
عالمی گریٹ گیم اور پاکستان : داستان خون فروشوں کی

ماہرنگ لانگو ایک اوسط درجے کی طالبہ تھی، جس کے اسکول کے نمبرز زیادہ متاثر کن نہیں تھے۔ عام حالات میں، ایسے طلباء کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ تو کیا، حکومتی وظائف (اسکالرشپ) بھی نہیں ملتے۔ لیکن قسمت نے ماہرنگ پر مہربانی کی۔ پاکستان نے بلوچستان میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے اور کمزور تعلیمی کارکردگی کے باوجود، اسے بھی اسکالرشپ دے دی گئی۔Image یہ محض ایک تعلیمی موقع نہیں تھا بلکہ اس کے لیے ترقی کی سیڑھی تھی۔ سرکاری اخراجات پر اسے اچھی تعلیم دی گئی، حتیٰ کہ اس کی بہنوں کو بھی ریاست نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ بلوچستان میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جہاں سرکاری اداروں نے ضرورت مند طلباء کو ان کے معاشرتی پس منظر کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنے میں مدد دی۔ لیکن ماہرنگ کا پس منظر ایک عام طالبہ کا نہیں تھا۔
Mar 18, 2025 9 tweets 4 min read
قرب قیامت اور فتنوں کا دور : دجال اعظم

یہ تحریر ہر مسلمان پر پڑھنا فرض ہے اس میں ایسے مستند حقائق ہیں جو ہر مسلمان کو جاننے چاہئیں۔ تاکہ وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہ سکی ۔دجال اس دنیا میں اب تک آنے والے فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ ہوگا ۔ وہ مسیحا کے روپ میں آئے گا ۔ ایک عالمی رہنما بنے گا جو سب سے مقبول ہوگا۔ سوشل میڈیا پر اسی کا راج ہوگا جو دجال کے حق میں بولے گا اس کو ویوز ملیں گے جو دجال کے خلاف جائے گا وہ مشکل سے سروائیو کرسکے گا یہ فتنہ اس قدر خطرناک ہوگا کہ ایمان بچانا مشکل ہوجائے گا۔

دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں حقیقت اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔ کچھ وقت میں سچائی وہ نہیں ہوگی جو حقیقت میں موجود ہوگی، بلکہ وہ ہوگی جو دکھائی جائے گی۔ لوگ آنکھوں سے جو دیکھیں گے، وہی سچ مانیں گے، اور جو کچھ ان کی اسکرینوں پر آئے گا، وہی ان کا ایمان بنے گا۔ یہی وہ وقت ہوگا جب ایک ایسا شخص دنیا کے سامنے آئے گا جو خود کو مسیحا کہلائے گا، اور لوگ اس کے سحر میں مبتلا ہو جائیں گے اور 👇Image یہ زمانہ ہوگا ڈیجیٹل غلامی کا، جہاں کسی کی مقبولیت، روزی، اور کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ دجال کے حق میں کتنا بولتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک نئی دوڑ شروع ہوگی، جس میں لوگ دجال کی حمایت میں جھوٹے وی لاگز بنائیں گے، جذباتی کہانیاں گھڑیں گے، اور اپنے فالوورز کو یقین دلائیں گے کہ یہی شخص دنیا کا سب سے بڑا رہنما ہے۔
Mar 12, 2025 9 tweets 4 min read
جعفر ایکسپریس : تاریخ کا سب سے کامیاب ریسکیو آپریشن

جعفر ایکسپریس اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ مسافر بے فکر بیٹھے تھے، کوئی کھڑکی سے باہر کا نظارہ کر رہا تھا، کوئی اپنے موبائل میں مگن تھا، تو کوئی اگلے اسٹیشن کے انتظار میں تھا۔ مگر پھر ایک زوردار دھماکے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک جھٹکے کے ساتھ ٹرین رک گئی، اور اس سے پہلے کہ مسافر کچھ سمجھ پاتے، گولیوں کی آواز گونجنے لگی۔

یہ بی ایل اے کے دہشت گرد تھے، جو نہتے مسافروں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ کسی کے پاس بچاؤ کا راستہ نہیں تھا، ہر طرف خوف اور چیخ و پکار کا عالم تھا۔ انہوں نے ٹرین پر مکمل قبضہ کر لیا اور معصوم شہریوں کو یرغمال بنا لیا۔

لیکن جو یہ دہشت گرد نہیں جانتے تھے، وہ یہ تھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز پہلے سے الرٹ تھیں👇Image جیسے ہی حملہ ہوا:

پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا نیٹ ورک متحرک ہو گیا – انہوں نے فوراً ریاست اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا، بی ایل اے کو مظلوم بنا کر پیش کیا، اور جھوٹی خبریں پھیلائیں۔ کسی نے مذمت تک نہ کی

بھارتی میڈیا نے فوراً اس بیانیے کو آگے بڑھایا – انہوں نے حملے کو "بلوچ عوام کی جدوجہد" قرار دے کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔

افغان طالبان نے خاموشی اختیار کی – وہ ان گروہوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے رہے، مگر ایک لفظ بھی مذمت میں نہ کہا۔
Mar 12, 2025 13 tweets 5 min read
عالمی گریٹ گیم اور پاکستان : لندن میں تیار ہونے والا ناپاک منصوبہ

سب پہلے سے طے شدہ تھا کہ BLA جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنائے گی اور تحریک انصاف سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف اور بی ایل اے کے حق میں بیانیہ بنائےگی اور اگر بی ایل اے کامیاب ہوگئی تو عمران نیازی سمیت پی ٹی آئی کے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کرے گی لیکن اگر سیکیوری فورسز نے یرغمال افراد کو بازیاب کرالیا تو پھر پی ٹی آئی یہ بیانیہ بنائے گی کہ یرغمالیوں کو بی ایل اے نے خود چھوڑا ہے تاکہ عوام میں ان کیلئے نرم گوشہ پیدا کیا جاسکے اس پر بھارت اور افغانستان سے ان کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی ۔ جبکہ بی ایل اے کے لوگ سیٹلائٹ کے زریعے انڈیا افغانستان اور پی ٹی آئی کے لوگوں سے رابطے میں تھے یہ ایک منظم پلان تھا جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے انکار کے بعد برطانیہ میں گولڈ اسمتھ گینگ نے بنایا اور اس میٹنگ میں پی ٹی آئی کے لوگ ، حربیار مری ، بھارتی را اور افغان طالبان کے نمائندے بھی شریک تھے ۔ مکمل اسٹوری👇Image یہ سب کچھ دو ہفتے پہلے برطانیہ میں گولڈ اسمتھ گینگ کے خفیہ اجلاس میں طے پایا تھا۔ میٹنگ کے میزبان وہی حربیار مری تھا، جسے بھارت اور مغربی قوتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ کمرے میں بیٹھے افراد میں پی ٹی آئی کے لوگ ، بھارتی "را" کے افسران، افغان طالبان کے نمائندے، اور کچھ مغربی تھنک ٹینکس کے اہلکار شامل تھے۔

"یہ وقت ہے پاکستان کو جھکانے کا،" را کے ایک افسر نے میز پر مکا مارتے ہوئے کہا۔

"ہم بلوچستان کو بھڑکا دیں گے، بی ایل اے میدان میں اترے گی، پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف بیانیہ بنائے گی، اور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا تو ہم پاکستان کے اعصاب پر ایسی چوٹ لگائیں گے جس کا علاج ممکن نہیں ہوگا!"
Mar 7, 2025 9 tweets 4 min read
احسن اقبال کی آکسفورڈ میں تاریخ ساز کامیابی اور یوتھیوں کا جھوٹا پروپیگنڈا

آکسفورڈ یونین کی روایتی ہال میں مدھم روشنی کے درمیان، دنیا بھر سے آئے طلبہ، اسکالرز، اور تجزیہ نگار اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ اس تاریخی مقام پر کئی دہائیوں سے دانشورانہ مکالموں کی روایت چلی آ رہی تھی۔ آج بھی ایک اہم موضوع زیر بحث تھا:

ایک طرف احسن اقبال، جو پاکستان کے سینئر سیاستدان اور اسکالر ہیں، جبکہ دوسری طرف مغربی دانشوروں کا ایک پینل، جس میں امریکی پروفیسر جان ولیمز، برطانوی صحافی ایڈورڈ برنس، اور ایک ہندوستانی تجزیہ کار روہن شرما شامل تھے۔

بحث شروع ہوئی اور 👇Image بحث کا آغاز آکسفورڈ یونین کے صدر اسرار کاکڑ کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے کہا:

"یہ بحث صرف سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی اور معاشی انصاف کی بھی ہے۔ عالمی جنوب یعنی ترقی پذیر ممالک کو کیا واقعی لبرل جمہوریت نے فائدہ پہنچایا؟ یا یہ نظام ایک مخصوص طبقے کے فائدے کے لیے بنایا گیا ہے؟"