How to get URL link on X (Twitter) App
کتاب زندگی پراجیکٹ کا بنیادی مقصد دوست احباب میں کتب پڑھنے کی خواہش پیدا کرنا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب اکثر کسی نہ کسی دوست کی کال یا میسج پر فرمائش ہوتی ہے کہ انہیں کوئی اچھی سی کتاب تجویز کی جائے جس سے ان میں کتب پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔
افریقہ کے دریا قابلِ سفر نہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ تجارت کے فروغ میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔افریقہ کے تین اطراف میں سمندر اور چوتھی سمت صحرائے صحارا ہے جس کی وجہ سے یہ ہزاروں سال تک باقی دنیا سے لاتعلق رہا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جغرافیائی حدود و قیود کی وجہ سے باقی دنیا کی
صنعتوں کے فروغ کےلیے زیادہ موزوں ہے۔ جبکہ جنوبی یورپ کے ساحلی علاقوں، ناہموار زمین اور ناقابلِ سفر دریاؤں نے اسے شمالی یورپ سے کم ترقی یافتہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سویڈن اور فن لینڈنیٹو میں شامل ہونے کی جتنی مرضی خواہش رکھیں،وہ کیونکہ جغرافیائی طور پرروس کے قریب ہیں
کسی بڑی طاقت کو امریکہ پر لشکر کشی کےلیے ہزاروں کلومیٹر لمبی سپلائی لائن برقرار رکھنا ہو گی جو کہ ایک طاقتور امریکی بحریہ کی موجودگی میں ناممکن ہے۔کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے دو نقشے ہیں۔ایک اس کا حقیقی جغرافیائی نقشہ جو براعظم امریکہ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حدود متعین کرتا ہے
لیکن ویتنام ایک کمزور ملک ہے جس سے چین کو کوئی خطرہ نہیں۔تبت کو چین کا پانی کا منبع کہا جاتا ہے،یہاں بھارت کا اثرورسوخ چین کےلیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔اسی خطرہ کو کم کرنے کےلیے چین نے ایک ناممکن کام کیا،تبت کے خطرناک پہاڑوں سے ریلوے ٹریک گزار کر اسے چین کے باقی علاقوں سے
شمال میں آرکٹیکٹ ہے جو ہزاروں سال سے منجمد ہے، جنوب میں منگولیا اور کازکستان ہیں جہاں سے دو وجوہات کی بنا پہ روس کو کوئی خطرہ نہیں۔ایک تو ان دونوں ملکوں کے ساتھ روس کا جغرافیہ ایسا نہیں کہ کوئی فوج وہاں سے روس پر لشکر کشی کر سکے، اگر جغرافیہ ایسا ہو تب بھی یہ دونوں ملک
چھ ستمبر کو بھارت نے فیروزپور اور امرتسر کی طرف سے لاہور پر سہ طرفی حملہ کر دیا۔ پنجاب کے دل لاہور کو خطرے میں دیکھ کر، اور بھارتی آرمرڈ ڈویژن کے سیالکوٹ سیکٹر کی طرف سے ہونے والے حملے نے پاکستانی ٹینکوں کو جموں سے مزید آگے جانے سے روک دیا۔
اب اس میں سے، وقتاً فوقتاً، منتخب اشعار اس تھریڈ میں پوسٹ کرتا رہوں گا.
لیکن یہ سوال کہ پاکستان پر حکومت کون کرتا ہے، اس کا تعلق نہ سفید رنگت والی ملکہ(بینظیر) اور جرنیلوں کی لڑائی کے نتیجے سے ہے اور نہ ہی بینظیر اور نواز شریف کی چپقلش سے. پاکستان میں اصل طاقت کا انحصار آپ کے ماننے والوں کی تعداد اور اس پر ہے کہ آپ کو کتنے لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے
یہ سانحہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا