بنتِ غازی Profile picture
10 Oct
"مرزا صاحب اور دجال"

(حصہ دوم)

جس طرح مرزا صاحب کے اکثر عقائد میں خطرناک حد تک تضاد پایا جاتا ہے۔اسی طرح دجال کے بارے میں مرزا صاحب کی تحریرات میں بھی اختلاف ہے۔آیئے ایک دفعہ دجال کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ دیکھتے ہیں اور پھر مرزا صاحب کے نظریئے کا تحقیقی جائزہ لیتے
ہیں۔

"دجال کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ"

احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کا وجود انسانوں کی طرح ہوگا۔جتنے بھی انبیاء کرامؑ دنیا میں تشریف لائے انہوں نے اپنی امتوں کو دجال کے فتنے سے ڈرایا اسی طرح حضورﷺ نے بھی اپنی امت کو دجال کے فتنے سے ڈرایا ہے۔اور اپنی امت کو اپنی
دعاؤں میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگنے کی تلقین بھی فرمائی ہے۔دجال پہلے نبوت کا دعوی کرے گا اور پھر اس کے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔
دجال کی موت سیدنا عیسیؑ کے ہاتھوں ہوگی۔

"دجال کا حلیہ"

ہمیں احادیث مبارکہ سے دجال کا جو حلیہ اور چند دوسری معلومات معلوم ہوتی ہیں ان پر ایک نظر
Read 75 tweets
8 Oct
"مرزا قادیانی اور دجال"

دجال کا فتنہ اتنا سخت اور خطرناک فتنہ ہے کہ ہر نبیؑ نے اپنی امتوں کو دجال کے فتنے سے ڈرایا ہے۔حضورﷺ نے بھی اپنی امت کو اس فتنے سے ڈرایا ہے۔بلکہ امت کو اپنی دعاؤں میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی ہے۔

حضورﷺ کی احادیث کے مطابق مطابق دجال
انسانوں کی طرح ایک مستقل وجود رکھتا ہے۔ اور وہ قرب قیامت سیدنا عیسیؑ کے زمین پر نزول سے کچھ عرصہ پہلے ظاہر ہوگا۔دجال سیدنا عیسیؑ کے ہاتھوں قتل ہوگا۔

درج ذیل روایات ملاحظہ فرمائیں جن سے دجال کے انسانوں کی طرح مستقل وجود اور قرب قیامت سیدنا عیسیؑ کے زمین پر نزول سے کچھ عرصہ پہلے
ظہور کا پتہ چلتا ہے۔

حدیث نمبر 1

أَنَّ عَائِشَةَ ؓ،قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِﷺ يَسْتَعِيذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے میں نے رسول اللہﷺ کو اپنی نماز میں،دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے سنا۔

(مسلم:حدیث نمبر 1323 ٬ باب استحباب التعوذ
Read 103 tweets
7 Oct
"امام مہدی کے بارے میں چند روایات پر قادیانی اعتراضات اور ان کے علمی تحقیقی جوابات"

(حصہ سوم)

روایت نمبر 3

"چاند اور سورج گرہن کا مشہورِ زمانہ مرزائی دھوکہ"

قادیانی دارقطنی کی درج ذیل روایت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس روایت میں حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جب امام مہدی آئے گا تو
اس کے وقت میں چاند کی 13 کو چاند گرہن اور 27 تاریخ کو سورج گرہن لگے گا پس جب مرزا صاحب نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا تو اسی سال چاند اور سورج کو گرہن لگا تھا۔لہذا یہ اس بات کی نشانی ہے کہ مرزا صاحب ہی سچے امام مہدی ہیں۔

آیئے پہلے روایت اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں پھر اس کا علمی
رد کرتے ہیں۔

"عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ،عَنْ جَابِرٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ،قَالَ:إِنَّ لَمَهْدِيِّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ،يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ،وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ
Read 98 tweets
6 Oct
"امام مہدی کے بارے میں چند روایات پر قادیانی اعتراضات اور ان کے علمی تحقیقی جوابات"

(حصہ دوم)

روایت نمبر 2

قادیانی ابن ماجہ میں موجود درج ذیل روایت پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس امام مہدی کا ذکر احادیث میں آیا ہے کہ ان کا نام محمد ہوگا، ان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا،وہ
سادات میں سے ہوں گے،اور ان سے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ میں بیعت کی جائے گی انہوں نے نہیں آنا بلکہ حضرت عیسیؑ ہی امام مہدی ہوں گے۔

آیئے پہلے حدیث اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں اور پھر اس کا علمی،تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ؓ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ،قَالَ:لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا،وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا،وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ،وَلَا
Read 52 tweets
4 Oct
"امام مہدی کے بارے میں چند روایات پر قادیانی اعتراضات اور ان کے علمی تحقیقی جوابات"

(حصہ اول)

روایت نمبر 1

مرزا صاحب درج ذیل روایت پر باطل استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس روایت میں ذکر ہے کہ امام مہدی جس گاؤں میں ظاہر ہوں گے اس کا نام "کدعہ" ہے۔اور "کدعہ" قادیان کا ہی
پرانا نام ہے۔لہذا مرزا صاحب سچے امام مہدی ہیں۔

اس روایت کو مرزا صاحب نے بھی اپنی کتاب میں ذکر کیا ہوا ہے۔آیئے سب سے پہلے مرزا صاحب کی تحریر کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اس کا علمی رد کرتے ہیں۔

مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ

"شیخ حمزہ ملک الطوسی اپنی کتاب جواہرالاسرار میں جو سنہ 840ھ
میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ زیل عبارت لکھتے ہیں۔درابعین آمدہ است کہ خروج مہدی از قریہ کدعہ باشد۔قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخرج المھدی من قریۃ یقال لھا کدعہ ویصدقہ اللہ تعالیٰ ویجمع اصحابہ من اقصی البلاد علی عدۃ اھل بدر بثلاث مائۃ وثلاثہ عشر رجلاََ ومعہ
Read 48 tweets
3 Oct
"امام مہدی اور مرزا قادیانی کا تقابلی جائزہ"
(حصہ دوم)

جائزہ نمبر 3

مرزا صاحب کی کچھ تحریرات کے مطابق امام مہدی کے بارے میں جتنی بھی احادیث ہیں وہ سب جھوٹی،ضعیف ہیں۔چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔

حوالہ نمبر 1

مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ "میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے
جس قدر حدیثیں ہیں تمام مجروح و مخدوش ہیں اور ایک بھی اُن میں سے صحیح نہیں۔اور جسقدر افتراء اُن حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور میں ایسا نہیں ہوا۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 356)

حوالہ نمبر 2

مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ
"مہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سے خالی نہیں اور کسی کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے۔"

(حاشیہ حقیقتہ الوحی، روحانی خزائن جلد 22، صفحہ 217)

حوالہ نمبر 3

مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ
Read 32 tweets
29 Sep
"امام مہدی اور مرزا قادیانی کا تقابلی جائزہ"

جائزہ نمبر 1

امام مہدی کے بارے میں درج ذیل باتیں ہمیں احادیث سے معلوم ہویئں۔اب اسی کے اوپر مرزا صاحب کو پرکھ لیتے ہیں۔

1) امام مہدی کا نام محمد ہوگا۔ جبکہ مرزا صاحب کا نام غلام احمد تھا۔
2) امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔
جبکہ مرزا صاحب کا نام غلام احمد تھا۔
2) امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ جبکہ مرزا صاحب کے والد کا نام غلام مرتضی تھا۔
3) امام مہدی سادات میں سے ہوں گے ۔ جبکہ مرزا صاحب کا خاندان "مغل" تھا۔
4) امام مہدی بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے جب ان کو پہچان کر ان کی بیعت کی جائے
گی۔جبکہ مرزا صاحب ساری زندگی مکہ مکرمہ نہیں جاسکے۔
5) امام مہدی حاکم(بادشاہ) ہوں گے ۔ جبکہ مرزا صاحب غلام تھے۔
6) امام مہدی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔جبکہ مرزا صاحب کو تو حکومت ہی نصیب نہیں ہوئی۔
7) امام مہدی کی حکومت 7 یا 9 سال ہوگی۔جبکہ مرزا صاحب کو تو حکومت ہی نصیب
Read 19 tweets
28 Sep
"امام مہدی کا تعارف"

اہل سنت والجماعت کے مطابق "مہدی" نبی کریمﷺ کے متبع ہوں گے اور خلفاء راشدین میں سے ایک خلیفہ راشد ہوں گے۔آپ نہ ہی نبوت کے مدعی ہوں گے اور نہ ہی انبیاء کی طرح معصوم٬احادیث میں انکے اوصاف بیان ہوئے ہیں نیز ہماری معلومات کے مطابق کسی صحیح حدیث میں آپکے لئے
امام مہدی کے الفاظ نہیں ملتے بلکہ صرف "المہدی" کہا گیا ہے انہیں "امام مہدی" صرف اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کے مسلمانوں کے امام بمعنی پیشوا 'امیر اور حاکم ہوں گے۔

نیز کسی حدیث میں یہ نہیں ملتا کہ وہ شخصیت لوگوں کو اپنی "مہدویت" پر ایمان لانے کی دعوت دے گی اور نہ ہی کہیں
یہ آیا ہے کہ لوگوں کے لئے کسی خاص معین شخصیت کی مہدیت پر ایمان لانا واجب ہے۔ جیسے انبیاء کی نبوت پہ ایمان لانا لازم ہے اسکی مثال ایسے ہے جیسے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سو سال کے سر پر ایسے لوگ ظاہر فرماتے رہیں گے جو تجدید دین کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے یعنی دین میں جو غلط
Read 45 tweets
25 Sep
*"رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر اجماع امت اور 14 صدیوں کے ان بزرگان امت کے نام جن کا عقیدہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ کتابوں میں موجود ہے"*

*"رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر اجماع امت"*

پوری امت محمدیہﷺ کا اس بات پر اجماع ہے۔ یعنی پوری امت محمدیہﷺ 1400 سال سے اس بات پر متفق ہےکہ سیدنا
عیسیؑ کو یہود نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب چڑھا سکے۔ بلکہ اللہ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اب سیدنا عیسیؑ قرب قیامت واپس زمین پر تشریف لائیں گے اور دجال کا خاتمہ کریں گے۔

ذیل میں 10 حوالے پیش خدمت ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ پوری امت مسلمہ رفع و نزول عیسیؑ کے مسئلے پر متفق ہے
اور اس پر امت کا اجماع ہے۔

1)علامہ ابو حیان اندلسی اپنی تفسیر بحر المحیط میں لکھتے ہیں:

"واجمعت الامته علی ما تضمنه الحدیث المتواتر من ان عیسی فی السماء حی وانه ینزل فی آخر الزمان."
Read 51 tweets
24 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر قادیانی اعتراضات اور ان کے علمی تحقیقی جوابات"

قادیانی اعتراض نمبر 1

سیدنا عیسیؑ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ نبی ہوں گے یا نہیں؟؟اگر وہ نبی ہوں گے تو یہ بات آپ کے عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ آپ کہتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ بند ہے اب حضورﷺ کے بعد
کوئی نبی نہیں آسکتا۔
اور اگر سیدنا عیسیؑ نبی نہیں ہوں گے تو یہ بات اصول کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالٰی جب کسی کو ایک دفعہ نبوت کی نعمت عطا فرما دیتے ہیں تو پھر اس سے نبوت والی نعمت واپس نہیں لیتے۔

قادیانی اعتراض کا جواب
آپ قادیانیوں نے ہمارے "عقیدہ ختم نبوتﷺ" کو پڑھا ہی نہیں ہے۔یا اگر پڑھا بھی ہے تو جان بوجھ کر دجل سے کام لے رہے ہیں کیونکہ "عقیدہ ختم نبوتﷺ" یہ ہے:

"نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوچکی ہے اب تاقیامت کسی بھی انسان کو نبی یا رسول نہیں بنایا جائے گا"
Read 138 tweets
22 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند بزرگان امت کی عبارات پر قادیانی اعتراضات اور ان کا تحقیقی جائزہ"

(حصہ دوم)

6) "امام ابن تیمیہؒ پر قادیانی اعتراض اور اس کا تحقیقی جائزہ"

امام ابن تیمیہؒ پر مرزا صاحب نے الزام لگایا ہے کہ وہ سیدنا عیسیؑ کی وفات کے قائل تھے۔
(کتاب البریہ صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 221)

مرزا صاحب کے اس جھوٹے الزام کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
جواب نمبر 1

امام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے:

"واجمعت الأمته علی ان الله عزوجل رفع عیسی الی السماء"

امت کا اس پر اجماع ہے کہ سیدنا عیسیؑ کو اللہ تعالٰی نے آسمان پر اٹھا لیا۔

(بیان تلبیس الجھمیه جلد 4 صفحہ 457)
Read 28 tweets
20 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند بزرگان امت کی عبارات پر قادیانی اعتراضات اور ان کا تحقیقی جائزہ"

(حصہ اول)

قادیانی جب قرآن و احادیث کے دلائل سے لاجواب ہوجاتے ہیں تو چند بزرگان امت کی عبارات پیش کر کے یہ ظاہر کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بزرگان امت بھی سیدنا عیسیؑ کی وفات
کے قائل ہیں۔حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ حضورﷺ کے دور سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک کوئی ایک عالم جو مسلمان ہو،وہ کبھی بھی اس بات کا قائل نہیں گزرا کہ سیدنا عیسیؑ فوت ہوگئے ہیں اور قرب قیامت واپس زمین پر تشریف نہیں لائیں گے۔بلکہ تمام مسلمان اس بات کے قائل تھے کہ سیدنا عیسیؑ
کو اللہ تعالٰی نے آسمان پر اٹھا لیا تھا اور اب وہ قرب قیامت واپس زمین پر تشریف لائیں گے۔

قادیانی بزرگوں کے اقوال کیوں پیش کرتے ہیں؟جبکہ بزرگوں کے اقوال قادیانیوں کے نزدیک مستقل حجت نہیں کیونکہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
Read 85 tweets
16 Sep
"رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر 10 احادیث مبارکہ"

سیدنا عیسیؑ کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا اور پھر ان کا قرب قیامت آسمان سے زمین کی طرف نازل ہونا قرآن مجید اور 100 سے زائد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
اس سبق میں ہم نزول سیدنا عیسیؑ کے متعلق چند احادیث مبارکہ کا جائزہ لیتے ہیں۔
حدیث نمبر 1

عَنْ أَبی هُرَيْرَةَ ؓ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔

حضرت ابو ہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
"تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب (عیسیٰؑ)ابن مریم تم
میں اتریں گے (تم نماز پڑھ رہے ہو گے) اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔"

(بخاری حدیث نمبر 3449 ٬ باب نزول عیسی بن مریمؑ)

حدیث نمبر 2

عَنْ أَبی هُرَيْرَةَ ؓ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ
Read 84 tweets
15 Sep
"نزول سیدنا عیسیؑ پر قرآنی دلائل"

پچھلے سبق میں ہم نے سیدنا عیسیؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے قرآنی دلائل پیش کئے تھے اور جن مفسرین کی مرزاقادیانی نے تعریف کی ہوئی ہے ان کے تفسیری حوالہ جات بھی لکھے تھے۔

اس سبق میں ہم سیدنا عیسیؑ کے دوبارہ نزول پر قرآنی دلائل کا جائزہ لیں گے۔
اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں سیدنا عیسیؑ کو قیامت کی نشانیوں میں سے بتایا ہے۔یعنی جب سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ آسمان سے نزول ہوگا اس کے بعد قیامت نزدیک ہوگی۔جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ
"وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ"

اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰؑ) قیامت کی ایک نشانی ہیں۔اس لئے تم اس میں شک نہ کرو،اور میری بات مانو،یہی سیدھا راستہ ہے۔

(سورۃ الزخرف آیت نمبر 61)
Read 53 tweets
14 Sep
"رفع سیدنا عیسیؑ پر قرآنی دلائل"

معزز قارئین اس سبق میں ہم سیدنا عیسیؑ کے رفع کے بارے میں چند قرآنی دلائل پیش کریں گے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیدنا عیسیؑ کو یہود قتل کرنا چاہتے تھے۔اور آج تک یہودی یہی کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عیسیؑ کو قتل کیا ہے۔
اور اللہ تعالٰی یہود سے سیدنا عیسیؑ کو بچانا چاہتے تھے۔یہود سیدنا عیسیؑ کو مارنے کی تدبیر کررہے تھے۔اور اللہ تعالٰی سیدنا عیسیؑ کو بچانا چاہتے تھے۔اور یہ بات تو کسی کافر سے بھی پوچھ لیں کہ اگر کسی انسان کو ساری دنیا مارنے پر تل جائے اور اس انسان کو اللہ تعالٰی بچانا چاہتے ہوں تو
کون کامیاب ہوگا۔تو یقینا وہ کافر بھی یہی جواب دے گا کہ اللہ تعالٰی کے مقابلے میں ساری دنیا ناکام ہوجائے گی۔اور جس انسان کو اللہ تعالٰی بچانا چاہتے ہیں اس کو ساری دنیا کے انسان بھی مل کر مارنا تو دور کی بات ہے ہاتھ بھی نہیں لگاسکیں گے۔
Read 83 tweets
13 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند ابتدائی گزارشات"

سیدنا عیسیؑ کے رفع و نزول کے عقیدے کے بارے میں 4 گروہ ہیں۔

1)مسلمان
2)عیسائی
3)یہودی
4)قادیانی

ان چاروں گروہوں کے عقائد سیدنا عیسیؑ کے بارے میں درج ذیل ہیں۔
"مسلمانوں کا عقیدہ"

مسلمان کہتے ہیں کہ یہودی سیدنا عیسیؑ کو نہ ہی قتل کرسکے اور نہ ہی صلیب دے سکے بلکہ اللہ تعالٰی نے سیدنا عیسیؑ کو آسمان پر اٹھا لیا۔اور وہ قرب قیامت واپس زمین پر تشریف لائیں گے۔

مسلمانوں کا عقیدہ قرآن پاک سے اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
رفع و نزول سیدنا عیسیؑ کے قرآنی دلائل و احادیث مبارکہ انشاء اللہ اگلے اسباق میں آئیں گے )

"یہودیوں کا عقیدہ"

یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انہوں نے سیدنا عیسیؑ کو صلیب دے کر قتل کر دیا تھا۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہے۔
Read 39 tweets
11 Sep
"رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند ابتدائی گزارشات"

"رفع نزول سیدنا عیسیؑ کا عقیدہ اور حضرت محمدﷺ کا فرض منصبی"

حضور سرور کائناتﷺ کی بعثت کے وقت سر زمین عرب میں تین طبقے خصوصیت سے موجود تھے۔

1)مشرکین مکہ
2)نصاریٰ نجران
3)یہود

اب ہمیں دیکھنا ہے کہ قرآن مجید کی رو سے آپﷺ کی
رسالت کے کیا فرائض تھے؟

1)آپﷺ کی بعثت سے قبل کے جو طریق منہاج ابراہیمی کے موافق تھے ان میں تغیر و تبدل نہ ہوا تھا۔ان کو آپﷺ نے اور زیادہ استحکام کے ساتھ قائم فرمایا اور جن امور میں تحریف فساد یا شعائر شرک و کفر مل گئے تھے انکا آپﷺ نے بڑی شدت سے علی الا علان رد فرمایا۔
جن امور کا تعلق عبادات و اعمال سے تها انکے آداب و رسومات اور مکروہات کو واضح کیا۔ رسومات فاسدہ کی بیخ کنی فرمائی اور طریقے صالحہ کا عمل فرمایا اور جس مسئلہ شریعت کو پہلی امتوں نے چهوڑ رکھا تها یا انبیاء سابقہ نے اسے مکمل نہ کیا تها انکو آپﷺ نے تروتازگی دے کر رائج فرمایا اور
Read 88 tweets
10 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند ابتدائی گزارشات"

"مسلمانوں کا عقیدہ"

مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ سیدنا عیسیؑ علیہ السلام کو یہود نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے۔بلکہ اللہ تعالٰی نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور اب وہ قرب قیامت واپس زمین پر تشریف لائیں گے۔ہمارا عقیدہ
قرآن، حدیث،اجماع اور تواتر سے ثابت ہے۔

"قادیانیوں کا عقیدہ"

قادیانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہود نے سیدنا عیسیؑ کو صلیب پر چڑھایا اور چند گھنٹے وہ صلیب پر رہے۔لیکن وہ صلیب پر چڑھنے کی وجہ سے قتل نہیں ہوسکے۔بلکہ زخمی ہوگئے۔
تین گھنٹے کے بعد آپؑ کو صلیب سے زخمی حالت میں اتارا گیا
پھر آپؑ کو ایک غار میں لے جایا گیا وہاں آپؑ کی مرہم پٹی کی گئی۔پھر آپؑ صحت یاب ہوگئے۔اس کےبعد سیدنا عیسیؑ اپنی والدہ حضرت مریمؑ کو ساتھ لے کر فلسطین سے افغانستان کے راستے سے کشمیر چلے گئے۔کشمیر میں 87 برس زندہ رہے۔پھر سیدنا عیسیؑ کی وفات ہوئی۔اور کشمیر کے محلہ خان یار میں ان کی
Read 41 tweets
9 Sep
"عقیدہ ختم نبوتﷺ کے موضوع پر اکابرین امت کی عبارات پر قادیانی اعتراضات کا علمی تحقیقی جائزہ"

جب قادیانی قرآن و احادیث سےاجرائے نبوت پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے ور لاجواب ہوجاتے ہیں تو پھر چند بزرگان دین کی عبارات کو ادھورا پیش کرکے اس سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب بھی قادیانی کسی بزرگ کی عبارت پیش کریں تو چند اصولی باتیں ذہن نشین کر لیں۔ قادیانیوں کا دجل خود ہی پارہ پارہ ہوجائے گا۔

1)سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جب قادیانیوں کے نزدیک بزرگوں کے اقوال کو مستقل حجت نہیں تو وہ بزرگوں کے اقوال کیوں پیش کرتے ہیں؟؟
کیونکہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ

"اقوال سلف و خلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں۔"

(ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 538 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 389) Image
Read 56 tweets
8 Sep
"مسئلہ اجرائے نبوت پر 6 احادیث کے بارے میں قادیانی شبہات اور ان کے علمی تحقیقی جوابات"

"حدیث نمبر 1"

"قادیانیوں کا باطل استدلال "

قادیانی ابن ماجہ کی درج ذیل روایت پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبوت جاری ہے اور حضورﷺ کے بعد قیامت تک نئے نبی آسکتے ہیں۔
یئے پہلے حدیث اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں پھر قادیانیوں کے باطل استدلال کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ،قَالَ:لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِﷺ،صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِﷺ وَقَالَ:إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ
وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ،وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ۔

ترجمہ

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ کے بیٹے ابراہیم ؓ کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی،اور فرمایا: "جنت میں ان کے
Read 89 tweets
30 Aug
آیت خاتم النبیین کی علمی تحقیقی تفسیر"*

قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔

*مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ۔*
محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں
لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں،اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں،اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔

*(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 40)*
"آیت کا شان نزول"*

عرب معاشرے میں یہ قبیح رسم موجود تھی کہ وہ لےپالک بیٹے کو حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور اس لےپالک کو تمام احوال و احکام میں بھی حقیقی بیٹا ہی سمجھتے تھے اور مرنے کے بعد وراثت،حلت و حرمت،رشتہ،ناطہ وغیرہ تمام احکام میں بھی حقیقی بیٹا ہی تصور کرتے تھے۔
Read 86 tweets