M.Adil. Hussain🇵🇰 Profile picture
‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏Freelance digital media writer | Blogger | Columnist | Social Media activist https://t.co/bXvAiyZHcq
20 Sep
#فیصلہ_کن_جنگیں

جنگ تاریخ کا اہم ترین حصہ ہیں اور ایسا پہلو بھی، جس نے تاریخ کے رخ پلٹ دئیے ہیں۔ آج آپ کو دنیا جیسی نظر آتی ہیں، اس صورت تک لانے میں سب سے نمایاں کردار جنگوں کا رہا ہے، لیکن معلوم تاریخ میں کن جنگوں نے انسانوں خاص طور پر ہمارےاردگرد کی دنیا کو بدلا ہے👇
ان کے بار ے میں آپ کو بتاتے ہیں:
جنگ قادسیہ خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ کے عہد 636ء میں مسلمانوں اور ایران کی ساسانی سلطنت کے درمیان لڑی گئی ،ایک اہم جنگ جس کے نتیجے میں موجودہ عراق مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی قیادت میں جانے والے 30 ہزار مسلمان فوجیوں نے ایک 👇
لاکھ سے بھی زیادہ ایرانی فوجیوں کو بدترین شکست دی۔ یہ جنگ پانچ دن جاری رہی، یہاں تک کہ ایرانی فوج کا سپہ سالار رستم فرخ زاد مارا گیا۔ اس کامیابی نے مسلمانوں پر ایران کے دروازے کھول دئیے اور کچھ ہی عرصے میں عظیم ساسانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا جس کی حضرت محمد ﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔👇
Read 12 tweets
19 Sep
#جنگ_قادسیہ
فتح
#آخری_دن
سعد بن ابی وقاص نے میدان جنگ کا ہنگامہ فرو ہونے کے بعد مال غنیمت فراہم کیا فوراً فاروق اعظم کی خدمت میں فتح کی خوشخبری کا خط لکھا اورایک تیز رفتار شتر سوار کو دے کر مدینہ کی طرف روانہ کیا یہاں فاروق اعظم کا یہ حال تھا کہ روزانہ صبح اُٹھ کر مدینے میں 👇
واپس آجاتے تھے،ایک روز حسب دستور باہر تشریف لے گئے دُور سے ایک شتر سوار نظر پڑا اُس کی طرف لپکے ،قریب پہنچ کر دریافت کیا کہ کہاں سے آتے ہو اُس نے کہا کہ میں قادسیہ سے آ رہا ہوں اور خوشخبری لایا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم عطا کی، فاروق اعظم نے اُس سے لڑائی کی 👇
کیفیت اورفتح کے تفصیلی حالات دریافت کرنے شروع کیے اور شہسوار کی رکاب پکڑے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے مدینے میں داخل ہوئے ،شتر سوار حالات سناتا جاتا تھا اوراپنے اونٹ پر سوار مدینے میں دربار خلافت کی جانب چلا جاتا تھا،شہر میں داخل ہوکر شتر سوار نے دیکھا کہ ہر شخص جو سامنے 👇
Read 7 tweets
18 Sep
#جنگ_قادسیہ
#قسط_نمبر4
تیسرا دن
تیسرے روز سعد بن وقاص نے نماز فجر سے فارغ ہوتے ہی اول شہداء کی لاشوں کے دفن کرنے کا انتظام کیا مجروحوں کو عورتوں کے سپردکیاگیا کہ وہ مرہم پٹی کریں،اس کے بعد دونوں فوجیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں،آج بھی ایرانیوں نے ہاتھیوں کو آگے رکھا👇
؛ لیکن قعقاع وعاصم نے مل کر فیل سفید پر جو تمام ہاتھیوں کا سردار تھا حملہ کیا اور اُس کو مارڈالا ،فیل سفید کے مارے جانے کے بعد ایک دوسرے ہاتھی پر حملہ ہوا،تو وہ میدان سے اپنی جان بچا کر بھاگا،اس کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر دوسرے ہاتھیوں نے بھی تقلید کی اوراس طرح آج ہاتھیوں کا وجود 👇
بجائے اس کے کہ اسلامی لشکر کو نقصان پہنچاتا خود ایرانیوں کے لیے نقصان رساں ثابت ہوا،آج بھی بڑے زور کی لڑائی ہوئی اورصبح سے شام تک جاری رہی،غروب آفتاب کے بعد تھوڑی دیر کے لیے دونوں فوجیں ایک دوسرے سے جدا ہوئیں اورپھر فوراً مستعد ہوکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوگئیں مغرب کے وقت 👇
Read 12 tweets
17 Sep
#جنگ_قادسیہ
قسط نمبر 3
#دوسرادن
اگلے دن علی الصبح بعد نماز فجر سعد بن وقاص نے سب سے پہلے کل کے شہداء کو قادسیہ کے مشرق کی جانب دفن کرایا،کل کے شہداء کی تعداد پانچ سو تھی،زخمیوں کی مرہم پٹی کا سامان رات ہی میں کر دیا گیا تھا،شہداء کے دفن سے فارغ ہوکر اسلامی لشکر نے اپنی صفیں
مرتب کیں،ایرانی بھی میدان میں آڈٹے ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ ملک شام سے روانہ کیے ہوئے لشکر کے قریب پہنچنے کی خبر پہنچی،ملک شام سے ابو عبید ہ بن الجراح نے ہاشم بن عتبہ کی سرداری میں لشکر عراق کو واپس بھیجا تھا،اس لشکر کے مقدمۃ الجیش پر قعقاع بن عمرو افسر تھے اور وہ ایک 👇
ہزار کا مقدمۃ الجیش لیے ہوئے سب سے پہلے قادسیہ پہنچے اور سعدکو بڑے لشکر کے پہنچنے کی خوشخبری سُنا کر خود اجازت لے کر میدان میں نکلے اور مبارز طلب کیا ان کے مقابلہ پر بہمن جادویہ آیا طرفین سے داد سپہ گری دی گئی اور جوہردکھائے گئے،لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ قعقاع کے ہاتھ سے بہمن 👇
Read 8 tweets
16 Sep
#جنگ_قادسیہ
قسط نمبر۔2
#پہلا_دن

جنگ کے پہلے دن دونوں فوجیں مسلح ہوکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوگئیں، سب سے پہلے لشکر ایران کی طرف سے ہرمزنامی ایک شہزادہ میدان میں نکلا جو زرین تاج پہنے ہوئے تھا اورایران کے مشہور پہلوانوں میں شمار ہوتا تھا،اس کے مقابلے کے لیے غالب بن 👇
عبد اللہ اسعد اسلامی لشکر سے نکلے غالب نے میدان میں جاتے ہی ہرمز کو گرفتار کرکے سپہ سالار سعد کے پاس لاکر ان کےسپرد کر گئے اس کے بعد ایک اور زبردست شہسواراہل فارس کی جانب سے نکلا،ادھر عاصم اُس کے مقابلے کو پہنچے،طرفین سے ایک ایک دو دو وا رہی ہونے پائے تھے کہ ایرانی شہسوار بھاگا👇
عاصم نے اس کا تعاقب کیا لشکر فارس کی صف اول کے قریب پہنچ کر اُس کے گھوڑے کی دُم پکڑ کر روک لیا اورسوار کو اُس کے گھوڑے سے اٹھا کر اور اپنے آگے زبردستی بٹھا کر گرفتار کر لائے ،یہ بہادری دیکھ کر لشکر ایران سے ایک اوربہادر چاندی کا گرز لیے ہوئے نکلا اس کے مقابلے پر عمرو بن 👇
Read 10 tweets
15 Sep
#جنگ_قادسیہ
تاریخ معرکہ: 16تا 19ستمبر 636ء

جنگ قادسیہ یا قادسیہ کی لڑائی مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ عمر فاروق کے دور میں عرب مسلمانوں جن کے سپہ سالار سعد بن ابی وقاص اور ایران جن کا سراد رستم تھا کے درمیان میں ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کی فتح اور ایران مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔👇 Image
مغیرہ بن شعبہ مذاکرات کے بعد واپس آئے رستم نے اپنی فوج کوتیاری کا حکم دے دیا،دونوں لشکروں کے درمیان میں ایک نہر حائل تھی،رستم کے پاس پیغام بھیجا کہ تم نہر کے اس طرف آکر لڑو گے یا ہم کو نہر کے اس طرف آنا چاہیے، سعد بن ابی وقاص نے کہلا بھجوایا کہ تم ہی نہر کے اس طرف آجاؤ؛چنانچہ 👇
تمام ایرانی لشکر نہر کو عبور کرکے میدان میں آکرجم گیا،میمنہ و میسرہ اور ہر اول وساقہ وغیرہ لشکر کے ہر ایک حصہ کو رستم نے جنگی ہاتھیوں اور زرہ پوش سواروں سے ہر طرح مضبوط ومکمل بنایا،خود قلب لشکر میں قیام کیا،یہ ایرانی لشکر جو زیادہ سے زیادہ تیس ہزار کے اسلامی لشکر کے مقابلہ میں 👇
Read 8 tweets
14 Sep
#قرآن_کی_تاثیر
ایک اسٹریلین خاتون ام امینہ بدریہ کی ایمان افروز داستان قبول اسلام انہی کی زبانی سنیے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا۔ وہ پیدائشی لحاظ سے مسلمان تھے لیکن عملی طور پر ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔

جبکہ میری والدہ بدھ مت تھیں اور والد صاحب 👇
سے شادی کے وقت مسلمان ہوئی تھیں۔ وہ دونوں بعد میں آسٹریلیا آ کر آباد ہو گئے تھے۔ میرا پیدائشی نام ” ٹے نی تھیا‘‘ Tanidthea تھا۔ میں نے یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ، آرمیڈیل سے ایم اے اکنامکس کیا اور بزنس مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورسز کے مضامین پڑھے۔ پھر میں بطور ٹیوٹر پڑھانے لگی۔
👇
اسی اثناء میں شادی ہو گئی۔ شادی اسلامی قانون کے مطابق ہوئی۔ میرے شوہر کمپیوٹر گرافکس ڈیزائنر تھے۔ وہ شادی کے وقت مسلمان ہوئے تھے
لیکن نام کے مسلمان تھے اسلام پر ہرگز عامل نہیں تھے میرے باپ بھی نام کے مسلمان تھےاور انہیں دین کےبارے میں کچھ معلوم نہ تھانہ انہوں نےہمیں کچھ بتایا۔
👇
Read 14 tweets
13 Sep
#نعمت_اور_عذاب
ایک سبق اموز تحریر
ایک گاوں کے امام مسجد نے عیسائیت قبول کرلی اور یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی. اس گاوں کے دیگر علماء اور اسلامی شخصیات امام صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے کہ اصل وجہ معلوم کی جا سکے، دوران ملاقات امام صاحب جو کے عیسائیت قبول کر چکے تھے
👇
کچھ اس طرح اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں.
"ایک دن مجھے صبح کی نماز سے دیر ہو گئ اور مسجد میں اقامت ہو رہی تھی وضو کرتا تو زیادہ دیر ہو جاتی.اور مقتدی لعن تعن کرتے اسلیے سوچا آج بے وضو ہی جماعت کرا دوں. اور میں نے ایسا ہی کیا. دل میں خوف خدا بہت آیا اور میں کسی عذاب کا انتظار
👇
کرنے لگا مگر الله نے مجھے مہلت دے دی اور کوئی عذاب نہ آیا. اس طرح میں نے کافی مرتبہ کیا لیکن کوئی عذاب نہ آیا.چونکہ اب دیر تک سونے کی عادت بن چکی تھی اور یہ بے وضو جماعت کروانا میرا معمول بن چکا تھا. جبکہ الله کی طرف سے کوئی بھی عذاب نہ آیا. جبکہ میری بیوی کی طرف سے بھی
👇
Read 14 tweets
12 Sep
تاریخ کے اوراق سے اقتباس
یہ تحریر ضرور پڑھیں, ایسی تحاریر بہت کم ملتی ہیں

خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا
👇
گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
خلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا
👇
مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-
نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں
👇
Read 8 tweets
11 Sep
#جنگ_یمامہ
تاریخ کے اوراق سے اقتباس

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
👇
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر حضرت علی المرتضیؓ شیر خدا خلیفة الرسول
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل
👇
بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھوۓے تھے۔ختم نبوتﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ
👇
Read 11 tweets
7 Feb
السلام علیکم
نہایت نصیحت اموز ایک بار پڑھیے گا ضرور
تقسیم ہند سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے” پرتاب”
نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ،

ایک دن پرتاب نے سرخی لگا دی : تمام مسلمان کافر ہیں
👇
لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی، مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے
👇
پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا اور میجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ہے ؟ جی میرا ہے!

اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے ؟

جی بالکل میں ہی اس اخبار کا مالک اور
👇
Read 13 tweets
5 Feb
#FeelPainOfKashmir
9 اگست1931 کو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں علامہ اقبال کی زیرِ صدارت اجلاس کا فیصلہ ہوا کہ 14 اگست کو جلسہ اور جلوس ہوگا۔ بعد ازنمازجمعہ دہلی دروازے سے جلوس نکلا جو باغ بیرون موچی گیٹ پہنچا جہاں علامہ اقبال کی صدارت میں جلسہ ہوا جس میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان
شریک تھے۔ اس جلسے میں” شہیدانِ کشمیرزندہ باد” اور ”ڈوگرہ راج مردہ باد” کے نعرے لگے۔ جلسے سے خطاب کرتےہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ اب کوئی مہاراجہ عوام کی مرضی کے خلاف عوام پرحکومت نہیں کرسکتا۔ 14اگست1931کو علامہ اقبال کی زبان سےتحریکِ آزادی کا باقاعدہ اعلان ہوا۔
#FeelPainOfKashmir
اس سے قبل1930میں وہ خطبہ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا تصور بھی پیش کرچکے تھے۔ 14 اگست کو ایک بڑا جلسہ سیالکوٹ میں ہوا اور خواتین نے سرینگر میں جلوس نکالا۔ تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا اورکچھ ہی عرصے بعد 1932 میں آل جموں وکشمیر کانفرنس
#FeelPainOfKashmir
Read 5 tweets