Mian Nouman Anwaar Profile picture
PPP Social Media Activists ! Want | Peaceful | Prosperous | Progressive | Democratic | Pakistan🇵🇰 | PPP🇱🇾 |
Mian Nouman Anwaar Profile picture 1 added to My Authors
4 May
Elections 2018

NA-114 Jhang
PPP 105,454
PTI 106,043
Difference 589
Rejected votes 12, 970
Recounted ordered but stopped abruptly after 10 polling stations as the lead decreased

NA-230 Badin
PPP 96,015
GDA 96,875
Difference 860
Votes rejected 10,263
Repolling ordered but stopped after 13 polling stations as the lead decreased

NA-196 Jacobabad
PTI 92,274
PPP 86,876
Difference 5398
Votes rejected 13,660
Repolling ordered but never carried out

NA-199 Shikarpur
GDA 62,785
PPP 55987
Difference 6798
Votes rejected 8011
Repolling refused

NA-237 Malir
PTI 33,289
PPP 31,907
Difference 1382
Votes rejected 2184
Repolling refused

Percentage of rejected votes in 2018 elections

Baluchistan 5.66%
Sindh 3.87%
KPK 3.35%
Punjab 2.67%

By election NA249
Repolling ordered
Read 4 tweets
28 Feb
پی پی پی کے بلاول بھٹو زرداری کے اسٹاف میں شامل جنید جیدی نامی مینجر نے کسی کارکن سے مبینہ بدسلوکی کی اور اسے دھکے دیے جس پہ پی پی پی کے کارکن جنید جیدی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں،
@anwar_sethari @ShahidNazirPPP
ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو اپنی قیادت کے پرسنل اسٹاف، میڈیا مینجرز سے اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہو اور اس طرح سے غم و غصے کا اظہار دیکھنے کو ملا ہو-

ہر مرتبہ احتجاج، وقتی غصہ، چیخ و پکار ہوتی ہے
پھر ان جماعتوں کے سیاسی کارکن پرانی تنخواہ پہ کام کرنے پہ تیار ہوجاتے ہیں-

میرے نزدیک پاکستان کی بڑی پارلیمانی جماعتوں کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی، اُن کی جدوجہد کے مطابق اُن کو مقام نہ دیے جانے اور سیاسی جدوجہد کی رائیگانی پہ گلے شکوے اُس وقت تک بے کار ہیں
Read 7 tweets
20 Dec 20
نئی تنظیم سازی ضروری ھے، لیکن تنظیمی ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں بھی ناگزیر ھیں،

1: ضلعی صدر کا اتنخاب کارکنوں کے ووٹ سے ھو، اور ضلعی صدر پہلے سے زیادہ بااختیار ھو،

2: ڈویژنل اور صوبائی تنظیم کا کردار محدود کِیا جائے،اور انہیں ضلعی تنظیموں کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہ ھو،
3: ضلعی تنظیموں کی کارکردگی پہ نظر رکھنے کے لیے بلاول ھاؤس میں خصوصی سیل قائم کیا جائے جو کہ اعداد وشمار کے ساتھ ھر تنظیم کا ریکارڈ رکھے، اور ماھانہ رپورٹ پیش کرے، ( سوشل میڈیا کے زمانے میں یہ آسان سا کام ھے)
4: ڈویژنل اور صوبائی عہدیدار مقرر کرنے سے پہلے اُن کے آبائی ضلع میں ان کے لیے ووٹنگ کروائی جائے، یہ نہ ھو کہ اپنے علاقے میں جِسے کوئی منہ نہ لگاتا ھو، وہ ڈویژن یا صوبے میں عہدیدار بن بیٹھے،

5: سٹیج کے قوانین مرتب کیے جائیں، سیلفی مافیا کو کُھلی چُھٹی ناں ھو،
Read 5 tweets
17 Dec 20
ہر سال دسمبر کے آخر میں گوگل ایک لسٹ جاری کرتا ہے
کہ اس سال کس شخصیت کو گوگل انجن پر سب سے زیادہ سرچ کیا گیا
اب یہ مرتد ٹاپ پر آجائے گا
اور گوگل لکھے گانعوذباللہ
مسلمانوں کے خلیفہ کو اس سال سب سے زیادہ سرچ کیاگیا
اب ہر مسلمان اس کا کسی بھی مکتبہ فکر سےہو
جاری ہے👇
اس ملعون کو سرچ کر رہا ہے
جو اس ملعون کو گوگل سرچ انجن پر ٹاپ پر پہچانے کا انجانے میں سبب بن رہے ہیں
اب ہر سرچ کرنے والا رپورٹ نہیں کرسکتا
جو سرچ کر کے رپورٹ نہیں کرتے یا رپورٹ نہیں کر سکتے
وہ دو طرفہ قادیانیت کو فائدہ پہنچا رہےہیں
اور جو چند سرچ کر کے رپورٹ کر رہیں
جاری ہے👇
وہ بھی سرچ کی دوڑ میں اس ملعون کو پہلے نمبر پر لانے کا سبب بن رہے ہیں
اب میری تجویز یہ ہے جس جس نے بھی اس ذلیل ملعون کو سرچ کیا ہے وہ بطور فدیہ حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کو گوگل پر سرچ کریں اورمیری تجویز کوہیش ٹیگ بنانے میں میرے اس میسج کو ہر سوشل میڈیا ( واٹس ایپ
جاری ہے 👇
Read 4 tweets
21 Nov 20
#بھٹو بیچارہ تو دو ڈھائی چپاتیاں کھاتا ہے وہ پورا ملک کیسے کھا سکتا ہے ....؟؟

دورانِ اسیری قیدیوں سے ملاقات کے لیے ان کے عزیز و اقارب بھی آتے ہیں۔ ایسا ہی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بھی ہوا جب بھٹو کی ماں ان سے ملاقات کے لیے جیل میں آئیں۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے
آپ یہی سوچ رہے ہیں کہ جب ضیاالحق کے دور میں بھٹو صاحب کو کراچی جیل میں رکھا گیا تو ان کی والدہ تو اس سے بہت پہلے ہی وفات پاچکی تھی تو پھر یہ ان کی کون سی ماں تھی جو ان سے ملنے کراچی جیل پہنچی؟
تو چلیے آئیے ہم آپ کو آج ذوالفقار علی بھٹو کی جیل میں ان کی والدہ سے اس ملاقات کے بارے میں بتاتے ہیں جو بدقسمتی سے نہیں ہوسکی۔

سابق سپرنٹینڈنٹ جیل کراچی راشد سعید اپنی کتاب ’سیاسی زندان نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ملک میں مارشل لا لگے ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ
Read 23 tweets
13 Nov 20
مریم کا فوج سے اپیل کہ عمران کی حکومت کو گھر بھیجو پھر بات ہوسکتی ہے ۔
یہ ایک غیر آئینی ، غیر جمہوری اور ووٹ کو بے عزت کرنے والا مطالبہ ہے ۔
اسی طرح کا مطالبہ مولانا فضل الرحمن نے پچھلے سال
اور اب کے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی کیا ہے ۔
ہمیں پتہ تھا کہ ڈیکٹیٹرز کے گود میں پلنے والے سیاسی جدوجہد اور ووٹ کی طاقت کو حقیر سمجھتے ہیں انہیں اقتدار چاہیے ہوتا ہے یہ طویل جدوجہد کا بکھیڑا لیکر بڑے عرصے تک اقتدار سے دور نہیں رہ سکتے
مجھے عابد شیر علی شہباز شریف راناثناء اللہ کے بینر تلے ووٹ کو عزت دوکے نعرے پر ہنسی آتی ہے
۔یہ کون لوگ ووٹ کو عزت دینا چاہتے ہیں جنکو یہ تک پتہ نہیں کہ جمہوریت میں حکومت کو ووٹ کی طاقت سے گرایا جاسکتا ہے ناکہ فوجی طاقت سے ۔
شاہ جی خوش ہوا کہ نواز شریف کامریڈ کی اس بیان کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہویی تھی کہ مریم نے انہی کو مدد کے لیے پکارا ۔
Read 7 tweets
11 Nov 20
میں نے پوچھا باباجی ریاستیں سپر پاور کیسے بنتی ہیں؟

بابا جی کہنے لگے جب اہلیت نسلی تفاخر اور تعصب کا شکار نہ ہوجائے

میں نے پوچھا وہ کیسے کہنے لگے تم امریکی صدر جو بائیڈن کی جیت ہی دیکھ لو

آئرلینڈ والے خوشیاں منا رہے کہ ان کا آئرش پہلا امریکی صدر بن گیا ہے Image
انڈیا میں تامل خوشیاں منا رہے ہیں کہ ان کی خاتون پہلی امریکی نائب صدر بن گئی ہے

اٹلی میں اطالوی خوشیاں منا رہے ہیں کہ ان کی خاتون جیل بائیڈن پہلی امریکی خاتون اوّل بن گئی ہے
جو قومیں Diversity اور میرٹ کو اہمیت دیتی ہیں جو قومیں تعصب کو دیس نکالا دیتی ہیں انہیں سپر پاور بننے سے کوئی نہیں روک سکتا

میں نے پوچھا ہم بطور مسلمان کیسے سپر پاور بنے تھے
Read 5 tweets
27 Sep 20
@threadreaderapp
آپریشن مڈ نائٹ جیکال
1988 کے عام انتخابات میں بینظیر نےایک آمر کی جانب سے بنائے گئے"اسلامی جمہوری اتحاد" کو شکست دیکر وزارت عظمیٰ سنبھال لی اس نام نہاد اسلامی اتحاد کےلیڈرنواز شریف تھے اتحاد نے پنجاب میں کامیابی حاصل کرلی اور نواز شریف پنجاب کےوزیر اعلی بن گئے
غلام اسحاق خان صدرِ پاکستان جبکہ بے نظیر وزیراعظم پاکستان بنیں ۔ غلام اسحاق خان بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے لائے گئے تھے اس لئے ان کے اور بے نظیر کے تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی رہی ۔ آج کا جمہوریت کا علمبردار نواز شریف جو ضیاء الحق کی ڈکٹیٹرشپ کو سپورٹ کر کے اس مقام تک پہنچا تھا،
اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ تھا ۔ ان سب نے مل کر بینظیر کی حکومت کو گرانے کا پلان بنایا ۔ آئی بی نے ایک ٹیپ ریکارڈ کر لی جس سے انکشاف ہوا کہ میجر عامر اور بریگیڈیئر جنرل امتیاز احمد اس سازش کا حصہ ہیں ۔ اس سازش کو آپریشن مڈ نائٹ جیکال کہا جاتا ہے ۔
Read 9 tweets